مفکر کی ادھوری جنگ بندی

آج کی بات

 

کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی مفکر نے گزشتہ دنوں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ مجاہدین کے ساتھ جنگ بندی کی مدت ختم ہوگئی۔ لہذا میں سکیورٹی فورسز کو حکم دیتا ہوں کہ وہ جنگ بندی ختم کر کے مجاہدین کے خلاف فضائی اور زمینی کارروائی کا آغاز کریں۔

ہم نہیں سمجھتے کہ اشرف غنی کیوں افغان عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہیں؟ کیا ان کے نزدیک تمام افغان عوام اندھے اور بہرے ہیں؟ کیا وہ امریکی طیاروں کی وحشیانہ بمباری، فورسز کے چھاپے اور نہتے شہریوں کا قتل عام نہیں دیکھتے؟ کیا ان کی آنکھوں سے نجی املاک کی تباہی کے مناظر غائب ہیں؟

جس دن سے اشرف غنی نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا، اسی دن سے آج تک میدان وردگ، لوگر، پکتیا، پکتیکا، خوست، غزنی، ہلمند، لغمان، بغلان اور دیگر صوبوں میں قابض امریکی فورسز کے فضائی حملوں، بم دھماکوں اور چھاپوں میں مجاہدین کے ساتھ تعاون کے جرم کی پاداش میں عام شہریوں کے ڈیڑھ سو سے زائد گھر تباہ ہوئے۔ جب کہ اسی مدت کے دوران درجنوں افراد کو شہید اور زخمی کر دیا گیا۔

اگر کسی کو شک ہے تو وہ مذکورہ صوبوں میں تحقیقات کریں کہ عید کے دنوں میں قابض اور کٹھ پتلی فورسز کے مظالم کے نتیجے میں کتنے بے گناہ شہری شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ اسی طرح ان صوبوں کے ہسپتالوں کے ڈاکٹروں سے پوچھیں کہ عید کے بعد کتنی لاشوں اور زخمیوں کو ہسپتال لایا گیا؟

اشرف غنی کو بتایا جائے کہ افغان عوام کو نمائشی باتوں سے ورغلانے کا دور گزر گیا ہے۔ اجرتی فورسز نے ایک دن کے لیے بھی افغان مظلوم عوام کے خلاف جارحیت، تشدد، ظلم اور قتل عام سے دستبردار ہونے کا عملا اقدام نہیں کیا۔ اب کس جنگ بندی کا حکم واپس لینے کی بات کی جا رہی ہے؟!

امریکا نے آپ کو اور آپ کی ٹیم کو یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ میدان جنگ کو گرم رکھیں۔ جنگ کے اسباب زیادہ ہوں۔ افغان عوام کے درمیان بحرانوں کو پیدا کرنے کی کوشش کریں۔ جس کے نتیجے میں نسلی، لسانی، قومی، مذہبی اور علاقائی اختلافات شدت اختیار کریں۔ تاکہ لوگ مجبور ہو کر امریکی جارحیت پر آنکھیں بند کریں اور تمام لوگ اپنی ضروریات اور باہمی تنازعات میں مخالف فریق پر برتری اور بالادستی حاصل کرنے کے لیے امریکی غلامی قبول کریں۔

مفکر صاحب! اگر آپ واقعی چاہتے تھے کہ افغانستان میں امن اور استحکام آئے اور افغان عوام تکالیف اور مشکلات سے نجات پائیں تو اقتدار حاصل کرنے کے بعد تیسرے دن امریکا کے ساتھ سکیورٹی معاہدے کی آڑ میں ملک نیلام کرنے کا سودا نہ کرتے۔ اسی طرح پل چرخی جیل میں ہزاروں مظلوم قیدیوں کے زخموں پر نمک پاشی کرنے کے بجائے ان کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آتے۔ آپ نے نہایت تلخ لہجے میں قیدیوں سے خطاب کے دوران کہا کہ مسلح افواج کے سربراہ کے طور پر میری یہ ذمہ داری ہے کہ جس نے بھی فوج اور پولیس کی جانب فائرنگ کی ہے، اس کو کڑی سزا دی جائے گی۔

یہ اور اس طرح کے بہت سے تاریخی جرائم ہیں کہ آپ اور جان کیری انتظامیہ نے جان بوجھ کر افغانستان میں امن، سلامتی اور استحکام لانے کے بجائے تباہی اور بربادی کو ترجیح دی اور جنگ کو دوام بخشنے کی پالیسی پر عمل درآمد جاری رکھا۔

اللہ تعالی کے فضل و کرم سے اب امریکا تمام سازشوں اور دباؤ میں ناکام ثابت ہوا تو اشرف غنی کو یہ ذمہ داری دی گئی کہ وہ جعلی فتوی اور امن ریلیوں کا انعقاد کریں اور اسی طرح نمائشی جنگ بندی کا اعلان کریں۔ اس کی مدت ختم ہونے کے بعد جنگ جاری رکھنے کے نام پر عوام کو ورغلانے کی ناکام کوشش کریں۔ آپ یقین کریں کہ آپ کا کوئی بھی حربہ کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ لوگ حقیقت جانتے ہیں آپ کی کوئی سازش بھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ آج ہو یا کل، آپ امریکی فورسز کے انخلا کا اعلان سنیں گے۔ افغانستان کو محکوم بنانا امریکا کے بس کی بات نہیں ہے۔ ان شاء اللہ تعالی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*