امارت اسلامیہ حادثاتی تحریک نہیں

آج کی بات

 

افغانستان کے لیے ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کے آغاز سے افغانستان کے مختلف حصوں میں دشمن نے کارروائیاں شروع کر رکھی ہیں۔ ان کارروائیوں میں فضائی آپریشن، رات کے چھاپے، ڈرون حملے اور بڑے ہتھیاروں کا استعمال سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ ان کارروائیوں میں نشانہ بننے والوں کی اکثریت عام شہریوں کی ہے۔ دشمن کبھی کبھار دعوی کرتا ہے کہ اُس مجاہدین کو اتنا نقصان پہنچایا اور ان کو کچھ علاقوں سے پسپا کر دیا گیا ہے۔ ٹرمپ کی جنگی حکمت عملی کا ایک سال مکمل ہو رہا ہے۔ تاہم میدان جنگ میں انہیں کوئی خاص کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ دشمن سیاسی، عسکری اور نفسیاتی نکتہ نظر سے پہلے سے زیادہ کمزور ہوا ہے۔اس کی حیثیت اور وقار کو شدید دھچکہ لگا ہے۔ اُس کی امارت اسلامیہ کے خلاف تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔

کابل انتظامیہ نے ٹرمپ کی وحشیانہ پالیسی کا خیرمقدم کیا اور قابض فوج کی بمباری کا نشانہ بننے والے عام شہریوں کے قتل عام پر بھی مسرت کا اظہار کیا۔ ستم در ستم یہ کابل انتظامیہ نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی فضائی کارروائیوں کو افغانستان کے ہر کونے تک پھیلا دے۔ مجاہدین نے اللہ تعالی کے فضل و کرم اور قوم کے تعاون و حمایت سے اسلام اور سرزمین اسلام افغانستان کا بھرپور دفاع کیا ہے۔ جب بھی قابض اور اجرتی دشمن نے مجاہدین پر حملہ کیا تو انہوں نے بڑی جرأت کے ساتھ مقابلہ کیا ہے۔ اکثر اوقات مجاہدین نے دشمن پر اقدامی حملے کیے ہیں، جن کے نتیجے میں دشمن کی سیکڑوں چوکیاں اور وسیع علاقے فتح ہوئے ہیں۔ مزید یہ کہ بھاری مقدار میں اسلحہ بھی غنیمت میں حاصل ہوتا رہا ہے۔

امارت اسلامیہ کوئی حادثاتی تحریک ہے اور نہ ہی اس کی جدوجہد کا دار و مدار بیرونی امداد پر منحصر ہے۔ عوام کے درمیان سے اٹھنے والی خالص دینی و مُسلِم قوت ہے، جس نے تقریبا دو دہائیوں کے دوران بہت تکالیف اور مشکلات کا سامنا کیا ہے۔ وہ کسی کے زیراثر نہیں رہی۔ بہت سی مشکلات برداشت کیں، لیکن اسلام اور افغانستان کے تحفظ پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ ہمیشہ اپنے دین اور مقدس اقدار اور مفادات کا تحفظ کیا ہے۔ اس راہ میں امارت اسالمیہ کی قیادت نے بھی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا ہے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین ٹرمپ کی وحشیانہ پالیسی کے مقابلے میں بش اور اوباما کی پالیسیوں کی طرح مضبوطی سے ثابت قدم رہیں گے۔ وہ فتحِ مبین تک اپنا حق پر مبنی جہاد جاری رکھیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*