الخندق آپریشن کے اثرات

 

احمدمختار

امارت اسلامیہ نے 25 اپریل کو ’الخندق‘نام سے موسم بہار کے آپریشن کا اعلان کیا۔ یہ جہادی کارروائیاں اپنی نوعیت کے لحاظ سے ماضی کے آپریشنز سے الگ ہیں، جن سے دشمن مرعوب ہے۔ الخندق آپریشن کے پہلے دن قابض اور کٹھ پتلی فوج پر بھرپور اور مؤثر حملے کیے گئے۔ مجاہدین نئے عزم کے ساتھ افغانستان بھر میں دشمن پر ٹوٹ پڑے اور ہر جگہ ان کے مضبوط ٹھکانوں پر دھاوا بول دیا۔ دشمن نے ہر قسم کا ظلم و جبر آزمایا ہے۔ ٹرمپ کی نئی جنگی حکمت عملی کے تحت نہتے شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ بڑی تعداد میں مظلوم شہریوں کو شہید اور زخمی کیا گیا۔ جب کہ کٹھ پتلی حکومت نے مجاہدین سے امن کی بھیک مانگنے کی کوشش کی اور نام نہاد امن بارے بے بنیاد پروپیگنڈا کیا۔ کٹھ پتلی اشرف غنی کی ٹیم اس پروپیگنڈے میں مصروف ہے کہ ’ہم امن چاہتے ہیں۔ اس لیے مجاہدین کو غیرمشروط مذاکرات کی پیشکش کرتے ہیں۔ وہ ہماری تجویز پر غور کریں۔‘

افغان عوام اور مجاہدین کٹھ پتلی حکومت کے جھوٹ اور پروپیگنڈے سے واقف ہیں۔ کابل حکومت کے حواریوں نے اس بار یہ پروپیگنڈا کیا کہ ’مجاہدین نے اشرف غنی کی جانب سے امن پیش کش پر باقاعدہ ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ اگرچہ امارت نے پس پردہ اشرف غنی کی پیش کش قبول کر لی ہے۔‘ جب کہ الخندق جہادی کارروائیوں نے دشمن کے تمام منصوبوں اور نام نہاد امن دعووں کو جھوٹ کا پلندہ ثابت کیا ہے۔ اسی طرح انہوں نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ کابل حکومت نام نہاد امن کے لیے جو کوشش کر رہی ہے، وہ صرف خوش نما نعروں تک محدود ہے۔ جب کہ امریکا کے جنگی اقدامات کے نتیجے میں نام نہاد امن کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ افغانستان بھر میں جارحیت پسندوں کی غیرقانونی کارروائیاں جاری ہیں۔ کٹھ پتلی حکومت کو ان کی روک تھام کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ حتی کہ وہ سانحہ قندوز جیسے دل دہلا دینے والے سفاکانہ واقعے کی مذمت کرنے کی جرأت بھی نہیں کر سکتی۔

مجاہدین نے الخندق آپریشن کا اعلان کر کے دشمن کے تمام منصوبوں کو ناکام بنا دیا اور اس کے پروپیگنڈے کا عملی جواب دیا ہے۔ مجاہدین کی جانب سے افغانستان بھر میں الخندق آپریشن کے آغاز کے بعد افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے سربراہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’مجاہدین کی کارروائیاں غیر مؤثر ثابت ہوں گی۔ ہم مجاہدین کو طاقت کے استعمال کے ذریعے امن مذاکرات پر مجبور کریں گے۔‘ اسی طرح وزارت دفاع نے بھی عجلت میں ردعمل دیتے ہوئے جارحیت پسندوں کے مؤقف کی تائید کی اور مجاہدین کی جہادی کارروائیوں کو محض ایک پروپیگنڈہ قرار دیا۔

جارحیت پسندوں اور ان کے حامیوں کے دعووں کے برعکس الخندق کارروائیاں نہایت مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔ افغانستان بھر میں دشمن کو بھاری جانی و مالی نقصان کا سامنا ہے۔ قندھار سے لے کر ہلمند، نیمروز، فراہ، قندوز، ننگرہار، پکتیا، خوست، غزنی، لوگر اور دیگر صوبوں تک تمام علاقوں میں اہم اضلاع اور درجنوں چوکیاں فتح کی جا چکی ہیں۔ سیکڑوں اہل کار ہلاک کیے جا چکے ہیں۔ بھاری مقدار میں اسلحہ اور فوجی سامان بھی غنیمت میں حاصل کیا گیا ہے۔ الخندق آپریشن کے مثبت اثرات کے علاوہ کٹھ پتلی حکومت کی جانب سے آئندہ انتخابات کے لیے ووٹر لسٹوں میں اندراج کا عمل بھی مکمل ناکامی کا شکار ہے۔ یہ بھی الخندق آپریشن کا اثر ہے کہ دشمن بھرپور کوشش کے باوجود بڑے صوبوں کے دارالحکومتوں میں بھی رجسٹریشن کے عمل کو پایہ تکمیل تک نہیں پہنچا پائی۔ مختلف صوبوں میں برائے نام رجسٹریشن سینٹرز کھولے گئے ہیں، لیکن بہت جلد مجاہدین کے ممکنہ حملوں کے خوف سے رجسٹریشن کا عمل شروع کیے بغیر دوبارہ بند کر دیا گیا۔

علاوہ ازیں الخندق آپریشن کے اثرات میں ایک یہ بھی ہے کہ اس کے آغاز سے آج تک بلاتعطل کارروائیاں جاری ہیں۔ بتدریج مختلف صوبوں میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ دشمن کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ مجاہدین نے گزشتہ دو ہفتوں میں مختلف صوبوں کے چھ اضلاع مکمل فتح کر لیے ہیں۔ جب کہ پچاس سے زائد فوجی اڈے اور چوکیاں بھی فتح کی جا  چکی ہیں۔ سیکڑوں اہل کار موت کے گھاٹ اتار دیے گئے ہیں۔ اربوں روپوں کے ہتھیار، ٹینک اور فوجی گاڑیاں تباہ اور قبضے میں لی گئی ہیں۔ بزدل دشمن مجاہدین کے حملوں کے خوف سے اپنے محفوظ ٹھکانوں میں بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کرتا۔ مجاہدین کو اللہ تعالی نے رعب دیا ہے۔ چند مجاہدین کسی بڑے فوجی اڈے پر حملہ کرتے ہیں تو ایک دو گھنٹے میں اسے فتح کر لیتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ مجاہدین کو اللہ تعالی کی خاص مدد حاصل ہے۔ وہ ایمانی جذبے سے سرشار ہیں۔ اللہ کے دین کے لیے دشمنانِ اسلام کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ وہ اگرچہ ظاہری مادی وسائل کے لحاظ سے کمزور ہیں، لیکن ایمانی قوت سے مالا مال ہیں۔ اللہ تعالی نے ان کے نعرہ تکبیر میں جو اثر رکھا ہے، اس کی طاقت دشمن کو معلوم ہے۔ کٹھ پتلی فوج جدید اور بڑے ہتھیاروں سے لیس ہے۔ اسے امریکی فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے۔ وہ اس کے باوجود چند مجاہدین کے مقابلے میں ڈھیر ہو جاتی ہے۔ اب نوبت یہاں تک آ گئی ہے کہ ایک گھنٹے میں مضبوط اضلاع بھی مجاہدین کے کنٹرول میں آ جاتے ہیں۔

ہمیں امید ہے الخندق آپریشن بھی غزوہ احزاب کی طرح تاریخ رقم کرے گا۔ غزوہ احزاب میں بھی کفار اور مشرکوں کے لشکر کی تباہی کا سبب بنا۔ اسی طرح امارت اسلامیہ کی قیادت میں الخندق آپریشن بھی صلیبی قوتوں اور ان کے کارندوں کی تباہی و ناکامی کا سبب بنے گا۔ اللہ تعالی مجاہدین کو فتوحات سے نوازے گا اور انہیں اس تاریخی معرکے میں سرخ رُو کرے گا۔ ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*