پانی زندگی کا سرمایہ اور اس سے متعلق عامہ لاپروائی

پانی اللہ تعالی کی عظیم نعمتوں میں سے ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں : وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاء کُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ

ترجمہ : اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں ۔

انہی الہی قول کے بناء پر یہ بات عام محاورہ میں پتھر کی لکیر سمجھی جاتی ہے کہ  (جہاں پانی ہو وہاں زندگی ہے)۔

افغانستان کو اللہ تعالی نے بےشمار نعمتوں اور ثروتوں سے نوازا ہے،جن میں سے ایک بہنے والا میٹھا پانی ہے، جو  نہ صرف ملک میں عوام  کو سیراب رکھتی ہے، بلکہ تمام ہمسائیوں کی جانب بھی بہہ رہا ہے  اور اس سے فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔

مگر جیسا کہ پانی اللہ تعالی کی عظیم نعمت ہے اور اس کی حیاتی اہمیت ہوتی ہے،تو بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اسے لازم توجہ نہیں دے جاتی۔ حکومتوں نے ملک کے رواں دواں  پانی کو قدر کی نگاہ  سے نہیں دیکھا۔اس سے بجلی کی پیدوار اور زراعت میں لازم فائدہ نہیں اٹھایا، زیرزمین پانی کے ذخائر  بھی خطرے سے روبرو ہیں، جس کے نتیجے میں ملک کا مستقبل بہت نازک ہوگا۔

حالیہ ڈیڑھ عشرے کے دوران اگرچہ کروڑوں ڈالر افغانستان کے نام پر امداد کے عنوان سے آئے۔مگر بدعنوان حکام ان رقوم کے ایک حصے کو ملک کے قومی ذخائر، عمرانی منصوبوں اور خاص کر آبپاشی کے مد میں عوامی مفادات کے منصوبوں پر خرچ کرنے کے بجائے آپس میں بانٹ اور لوٹ لیے اور ملک ترقی کے کاموں سے حتی ایک قدم مزید پیچھے رہ گيا۔

دوعشرہ قبل امارت اسلامیہ کی مکمل حکمرانی کے دوران اگر چہ افغانستان شدید خشک سالی سے روبرو تھا، مگر اس کے باوجود پانی کی قلت اور آلودگی کا مسئلہ اتناسنگین نہ تھا، جیسا کہ اب کابل شہر میں زیرزمین پانی کافی حد تک آلودہ ہوئی ہے، جو پینے کے قابل نہ رہے۔ بندوبستی علاقوں میں پانی کی سطح اندازے بہت نیچے چلی گئی ہے، جس سے بعض دریاؤں کے سرچشمے خشک  اور پانی سے محروم ہوئے ہیں۔ بعض علاقوں میں حتی گہری کنویں خشک ہوئی ہیں، باغوں اور کھیتوں کو خشک ہونے کے خطرات سے روبرو کیا ہے۔

اگرچہ پانی کی قلت کا مسئلہ عالمی ہے اور اکیسویں صدی کا اہم مسئلہ تصور کیا جاتا ہے،مگر افغانستان ان علاقوں میں سے ہے،اگر ملک کے پانی کے انتظام پر بھرپور توجہ دی جائے، افغانستان کے وسیع آبی ذخائر  میں یہ قوت ہے کہ اہل وطن کو ضرورت کی پانی فراہم کریں۔

جیسا کہ پہلے کہا گیا کہ پانی زندگی کا سرمایہ ہے اور اس سے انسانوں کی زندگی وابستہ ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ افغانستان کے تمام باشندے شہری، دیہاتی اور تمام سیاسی پہلو اس موضوع پر فی الفور توجہ دیں، تاکہ خدانخواستہ افغان عوام طویل المدت بجران سے روبرو نہ ہوجائے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*