خوست، ننگرہار میں امریکی جرائم

آج کی بات

جب کابل انتظامیہ کے سربراہ اشرف غنی نے نام نہاد جنگ بندی کے خاتمے کا اعلان کیا اور سکیورٹی فورسز کو ہدایت کی کہ وہ طالبان کے خلاف زمینی اور فضائی کارروائیوں کا آغاز کریں تو انہوں نے افغانستان بھر میں مجاہدین کا مقابلہ کرنے کے بجائے نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ مختلف صوبوں میں مظلوم شہریوں کو بھاری جانی اور مالی نقصان پہنچایا۔ قابض امریکی جارحیت پسند اور ان کے غلام براہ راست مجاہدین کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کھو چکے ہیں۔ افغانستان میں ان کے تمام حربے ناکام ثابت ہوگئے ہیں۔ اس لیے انہوں نے فضائی حملوں اور رات کے چھاپوں کے علاوہ "زیرو ون بریگیڈ” کے اہل کاروں پر انحصار کیا ہے اور عام لوگوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

امریکا نے زیرو ون بریگیڈ کی ایجاد اور اس کے اہل کاتوں کی تربیت پر لاکھوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ ان افغان نوجوانوں کو بطور جنگجو اس بریگیڈ میں شامل کیا ہے، جو اسلامی اقدار اور ملی روایات بارے امریکا سے بھی زیادہ متنفر اور متعصب ہیں۔ امریکا ہر روز اپنے تربیت یافتہ اور بے ضمیر اہل کاروں کو افغان عوام کے قتل عام اور ان پر تشدد کے لیے ہدایات جاری کرتا ہے، تاکہ خوف و ہراس پھیلا کر غیور افغان عوام کو مرعوب کیا جائے۔ مزید یہ کہ ظلم و تشدد کے ذریعے یہ پیغام بھی دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ جو لوگ امریکی فورسز کی مدد نہیں کریں گے، ان کا انجام ایسا ہوگا۔

امریکی فورسز نے زیرو ون بریگیڈ کے اہل کاروں کو یہ ہدایت کی ہے کہ وہ جہاں بھی کارروائیاں کریں اور چھاپے ماریں تو وہاں کے لوگوں پر ضرور ایسا تشدد کریں کہ لوگوں میں خوف و ہراس پھیل جائے۔ مثلا گھروں کو مسمار کرنا، لوٹ مار مچانا اور بہیمانہ تشدد کے ذریعے نوجوانوں، بچوں اور معزز شہریوں کا قتل عام کرنا۔

استعماری قوتوں اور ان کے حواریوں نے گزشتہ ایک ہفتے سے ان مظالم کی انتہا کر دی ہے۔ بڑے پیمانے پر نہتے شہریوں پر تشدد کا سلسلہ جاری ہے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران خوست کے ضلع باک کے علاقے پہلوان خیل میں اور ننگرہار کے علاقے مملی میں مظلوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان پر بہیمانہ تشدد کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق پہلے ان مظلوم لوگوں کو بہیمانہ طریقے سے شہید کیا گیا۔ اس کے بعد ان کے گھروں کو بموں اور دھماکہ خیز مواد سے اڑا دیا گیا۔

میڈیا اور انسانی حقوق کے علمبردار اگر واقعی انسانی اقدار کے تحفظ کے لیے مصروف عمل ہیں تو وہ خوست اور ننگرہار میں امریکی فورسز کے حالیہ جرائم کی تحقیقات کریں۔ اگر ان شہدا میں کوئی ایک شہری بھی ایسا ثابت ہوا، جس کا امارت اسلامیہ کے ساتھ تعلق تھا تو پھر ہم تسلیم کریں گے کہ حملہ آوروں کی کارروائیاں درست طریقے سے جاری ہیں اور عوام سے بدلہ لینے پر مبنی نہیں ہیں۔

ہم نہیں سجھتے کہ اس طرح کوئی بین الاقوامی ادارہ یا میڈیا کا کوئی معروف ادارہ ہوگا، جو افغانستان میں امریکی فورسز کی جانب سے ڈھائے گئے مظالم کی تحقیقات کرے اور اعلان کرے کہ امریکی فورسز جان بوجھ کر بڑے پیمانے پر مظلوم شہریوں کا قتل عام کر رہی ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*