سعودی عرب میں کانفرنس کے بابت امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

گذشتہ دو روز سے مملکت العربیہ السعودیہ کے جدہ اور مکہ مکرمہ شہروں میں افغانستان کے متعلق دو روزہ کانفرنس اختتام کو پہنچی۔

اس کانفرنس میں اگرچہ افغانستان، خطے اور حتی عالم اسلام سے کسی معروف اور مشہور عالم نے شرکت نہیں کی  اور کانفرنس کے اکثر شرکاء  سرکاری ملازم تھے، اسی لیے کسی نے بھی یہ جرائت نہیں کی، کہ افغانستان پر امریکی قبضہ، فوجی موجودگی، نہتے افغانوں پر امریکی بمباری اور وغیرہ مصائب کا کم ازکم اس نیت سے  یادآوری تک نہیں ہے،جس سے حالت میں تبدیلی آجائے!!؟

عالم اسلام کے خورد وکلاں اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے افغانستان پر سترہ سال سے جارحیت جاری ہے، ملک مقبوضہ ہے، حاکمیت مجروح، چند مجہول نسب اور جرائم پیشہ افراد کو طیاروں اور قتل عام کے بل بوتے افغان ملت پر مسلط کیے۔

ضروری تو یہ تھاکہ اسلامی کانفرنس، علماء اور میزبان ملک اپنے عالمی وجاہت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غاصب امریکہ، نیٹو اور دیگر حواریوں سے مطالبہ کرتا کہ افغان نہتے عوام پر بمباریاں بند کردیں اور ان کے حریم کو پامال کرنے سے مزید دستبردار ہوجائے۔

مگر اس کے برعکس کوشش کی گئی ہےکہ افغانستان کو دوسرے فلسطین میں بدل دیں، مزاحمت کاروں کے ہاتھوں کو باندھ لیں اور استعمار کے مظالم اور جرائم پر چشم پوشی کریں۔

ایسے اعمال سے موجودہ جہاد کو  جو اللہ تعالی کے حکم ہزاروں جید علماء کرام کے فتوی اور اللہ تعالی کی نصرت سے شروع ہوا ہے اور عالمی استکباری قوت کو شکست اور رسوائی سے روبرو کیا ہے، کسی قسم کا نقصان نہیں پہنچے گا۔ نقصان ان افراد کو بھگتنا پڑیگا ، جنہوں نے دنیوی متاع اور رقوم کی لالچ میں اپنی ذمہ داری ترک کردی، امت مسلمہ کی بیداری کی جگہ امت کی آنکھوں میں خاک باشی کی کوشش کی  اور امریکی مفاد  میں مؤقف کو اپنالیا۔

افغان جانتے کہ ایسی کانفرنسیں امریکی  سول اور فوجی حکام کا منصوبہ اور پروگرام ہے، کیونکہ پہلے ہی امریکی کمانڈر جنرل نیکولسن نے مذہبی دباؤ کے عنوان سے تجویزپیش کی تھی، اور 10/جولائی کو امریکی وزیر دفاع جمیز مٹس نے کانفرنس منعقد کرنے والے افراد کا شکریہ ادا کیا،مگر یہ کہ مسلمان کی حیثیت  اور عالم کے نام سے بعض اشخاص نے جو کردار ادا کیا،اس سے درحقیقت امت مسلمہ کی بہت بری اور دردناک حالت ظاہر ہورہاہے۔

ان شاءاللہ راہ حق کے مزاحمت کار قیامت کے روز ان نام نہاد عناصر سے اللہ تعالی کی دربار میں شکایت کریگی اور اللہ تعالی سے امت، اسلام اور جہاد کیساتھ اس بڑے جفا کی سزا کا مطالبہ کریگی۔

سعودی  حکومت سے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان کے قبضے کو ختم کرنے میں تعاون کریں اور اس راہ میں مثبت کردار ادا کریں، اس طرح کانفرنسوں کو موقع فراہم کرنے سے سعودی عرب کی حیثیت کو صدمہ پہنچے گی۔

ہمارے جہاد کا آغاز  باعمل دینی علماء کی ہدایات اور رہبری میں ہوا ہے اور تاحال جاری ہے، جہاد کے بیشتر اعضاء عالم دین اشخاص ہیں، تو ہم مطمئن ہیں کہ امریکی فرمائش سے اپنانے والے مؤقف ہماری مزاحمت پر کسی قسم کا منفی اثر  کریگی اور نہ ہی امریکہ کے حتمی اور قریبی شکست کا سدباب کرسکے گی۔ ان شاءاللہ وماذالک علی اللہ بعزیز

امارت اسلامیہ افغانستان

27/ شوال المکرم 1439 ھ  بمطابق 11/ جولائی 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*