افغانستان بارے بیک وقت دو کانفرنسز

آج کی بات

 

آج نیٹو کے ہیڈکوارٹر برسلز میں کانفرنس جاری ہے اور سعودی عرب کے شہر جدہ میں بھی کانفرنس ہو رہی ہے۔ کابل انتظامیہ میڈیا کے سامنے یہ وضاحت کرتی ہے کہ "افغان تنازع کے حل کے لیے غیرملکی دوستوں سے ان کانفرنسز کے انعقاد کی درخواست کی گئی ہے۔”

نیٹو سربراہی میں ہونے والے اجلاس بارے کابل انتظامیہ کا مقصد غیرملکی آقاؤں سے قابض فورسز کی تعداد بڑھانے اور ڈالر فراہم کرنے کی اپیل کرنا ہے۔ جب کہ سعودی عرب میں منعقد کانفرنس میں علماء سے موجودہ جہاد کے خلاف فتوی جاری کرانے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

سوال یہ ہے کہ ان کانفرنسوں کے نتائج کیا ہوں گے؟ اس کا جواب بہت واضح ہے کہ گزشتہ سترہ برس کے دوران کئی بار ایسے ناکام تجربے کیے گئے ہیں۔ ان کانفرنسوں کا انعقاد ان حالات میں کیا گیا ہے کہ ادھر افغانستان کے مختلف علاقوں میں قابض افواج نے اجرتی فورسز کے تعاون سے نہتے شہریوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ لوگر، ننگرہار، خوست، ہلمند، بلخ، غزنی، زابل، قندھار اور دیگر صوبوں میں وحشیانہ فضائی حملوں اور سفاکانہ چھاپوں کے نتیجے میں تباہ کن صورت حال کے دردناک مناظر ویڈیوز اور تصاویر میں دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لوگ اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھ رہے ہیں۔

ادھر امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پمپیو خفیہ دورے پر افغانستان آ کر کابل انتظامیہ کے سربراہان کو یہ عندیہ دیتے ہیں کہ "ہم افغانستان میں موجود رہیں گے۔” اسی دن مخلوط حکومت کے سرابراہ نیٹو سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے چلے گئے، تاکہ ان سے فوجی تعداد اور ڈالر بڑھانے کی اپیل کی جائے۔ ایک جانب قابض استعماری قوتیں اور کٹھ پتلی حکمران ناجائز امریکی قبضے اور ظلم کو جاری رکھنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے ہیں۔ دوسری جانب سعودی عرب میں امن کے نام پر کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ کیا یہ کھلا تضاد نہیں ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ جارحیت اور ظلم کو جاری رکھنے کی کوششیں بھی جاری رہیں اور امن کی بھیک بھی مانگی جاتی رہے۔

یہاں کٹھ پتلی حکمرانوں کی دوغلی پالیسی بہت واضح ہو چکی ہے۔ اس کانفرنس کو امن کا نام دیا گیا ہے، جس میں قابض امریکی فورسز کی جارحیت کے خلاف جائز اور مقدس جہاد کے خلاف فتوی جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کابل انتظامیہ کے نمائندے اور درباری مولوی "ملا کشاف” نے کانفرنس سے خطاب کے دوران جو خط پڑھ کر سنایا، اس میں لکھا تھا: آخر میں ہم آپ سب علماء کو دعوت دیتے ہیں کہ افغانستان آ کر جنگ زدہ قوم کی صورت حال قریب سے دیکھیں۔ جنگ کے متاثرین، بیواؤں اور یتیموں کی حالت قریب سے دیکھیں۔ ہمیں یقین ہے آپ لوگ رونے پر مجبور ہو جائیں گے۔ حکومت کے خلاف جاری جنگ کو ناجائز قرار دینے کا اعلان کریں گے۔

ان درباری علمائے سو کا یہ خیال ہے کہ دوسرے لوگ بھی ان کی طرح دین کو مسخ کرنا اور امریکی غلامی کو قبول کرنا کوئی گناہ نہیں سمجھتے۔ ان درباریوں کو سمجھنا چاہیے کہ سب علماء ان کی طرح بے ضمیر اور دنیا کے لالچی نہیں ہیں، جو بند آنکھوں کے ساتھ جہاد کو ناجائز قرار دے کر امریکی جارحیت کو جواز فراہم کرنے کا فتوی جاری کریں گے۔ ملا کشاف نے کانفرنس سے خطاب کے دوران کہا کہ افغانستان کو جنگ نے تباہ کر دیا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ جنگ کس نے مسلط کی ہے اور کس نے یہ ملک تباہ کیا ہے؟! انہوں نے چالیس ممالک کی یلغار کے بارے میں کچھ نہیں بتایا اور نہ ہی سانحہ قندوز کا ذکر کیاو ہے۔ انہوں نے صرف یہ مطالبہ کیا کہ کابل انتظامیہ کے خلاف طالبان کے جہاد کے خلاف فتوی جاری کیا جائے۔

اسی وجہ سے انڈونیشیا کانفرنس میں علماء نے جہاد کے خلاف فتوی جاری کیا اور نہ ہی سعودی عرب کانفرنس میں علمائے کرام جہاد کے خلاف فتوی جاری کریں گے۔ قابض قوتوں اور ان کے حواریوں کو اب یہ سمجھنا چاہیے کہ ان کے شیطانی حربے کامیاب نہیں ہو سکتے۔ ان کی ذلت کے دن آ چکے ہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اللہ تعالی ان حملہ آوروں اور ان کے غلاموں کے تمام حربوں کو ناکام ثابت کریں گے۔ جس طرح روس، انگریز اور چنگیز کو ناکام کیا تھا۔ سعودی عرب اور نیٹو کانفرنسز افغان تنازع کے حل کے لیے نہیں، بلکہ امریکی جارحیت کو دوام بخشنے کے لیے ایک ناکام کوشش ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*