اسلامی شعائر اور قومی مفادات کے خلاف آپریشن

آج کی بات

 

حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ نے ایک بار پھر اسلامی شعائر اور قومی مفادات کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ حال ہی میں افغانستان کے مختلف علاقوں میں مدارس اور مساجد پر فضائی حملے کیے ہیں۔ علمائے کرام اور طالب علموں کو شہید اور گرفتار کیا گیا ہے۔ اسکولز، کلینکس اور عوامی فلاح و بہبود کے اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ 24 جولائی کو قابض اور کٹھ پتلی فوج نے صوبہ غزنی کے ضلع شلگر کے علاقے کمال خیل میں مشہور دینی مدرسے ’الجامعہ نور المدارس الفاروقیہ‘ پر چھاپہ مارا۔45 طالب علموں کو حراست میں لے لیا۔ درس گاہیں مسمار کر دیں اور دینی کتابوں کی توہین کی گئی۔ اس کے علاوہ کمال خیل بازار میں دشمن نے تین چوکی داروں کو بھی شہید کر دیا۔ پانچ عام شہریوں کو گرفتار کر لیا اور تلاشی کے دوران قیمتی اشیاء لوٹ لیں۔

17جولائی کو صوبہ فراہ کے ضلع فراہ رود کے علاقے تودنک میں قابض اور اجرتی فوج نے ایک مدرسے پر بمباری کی۔ اس مدرسے میں بچوں کے لیے شعبہ حفظ، ناظرہ اور پرائمری اسکول کی تعلیم کا انتظام موجود تھا۔ وہ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ دینی کتب اور قرآن پاک کے نسخے مٹی تلے دب گئے۔

12 جولائی کو صوبہ بغلان کے ضلع برقی کے علاقہ تودہ کفش میں پولیس نے دینی مدرسے کے ایک طالب علم ’ خلیل الرحمن‘ کو شہید کر دیا۔ اسی دن صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے علاقے اخوندزادگان میں قابض اور اجرتی فوج نے مشترکہ کارروائی کے دوران مشہور عالم دین اور مدرسہ محمدیہ کے استاد مولوی شفیع اللہ کو بہیمانہ تشدد سے شہید کر دیا۔ جب کہ صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے مملی میں جارحیت پسندوں اور ان کے غلاموں نے پہلے مرحلے میں بازار لوٹا اور اس کے بعد پٹرول پمپ، مسجد اور عام لوگوں کے نجی مکانات کو آگ لگا دی۔ ایک اڈے میں 22 موٹر سائیکلوں کو جلا دیا۔ دشمن نے اس کارروائی کے دوران چھ عام شہریوں، جو پٹرول پمپ اور دکانوں کے چوکی دار تھے، کو بھی شہید کر دیا۔ جب کہ چار افراد کو زخمی کر دیا۔

10 جولائی کو صوبہ ننگرہار کے ضلع حصارک کے علاقے افغانستان میں دشمن نے چھاپے کے دوران ہر گھر کی تلاشی لی۔ گھروں کے دروازے توڑ دیے۔ مقامی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ دو افراد کو شہید کر دیا۔ گھروں سے قیمتی سامان لوٹ لیا۔ جب کہ گاؤں کی مسجد کو بھی بموں سے اڑا دیا۔

7 جولائی کو صوبہ اروزگان کے ضلع چہار چینو کے علاقہ یخدان میں قابض اور کٹھ پتلی فوج نے ایک کلینک پر چھاپے کے دوران اسے تباہ کر کے اس میں موجود مریضوں کو زخمی کر دیا۔

مدارس اور مساجد کے انہدام کی پالیسی سے واضح ہوتا ہے کہ دشمن دینی مدارس اور مساجد سے کتنا بغض رکھتا ہے۔ عام شہریوں کی جانب سے اپنی مدد آپ کے تحت قائم کیے گئے دینی اور عصری تعلیمی اداروں کی تخریب سنگین جرم ہے۔ امارت اسلامیہ دینی اور عصری تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات کے خلاف جاری آپریشن کی مذمت کرتی ہے اور دشمن کے ان اقدامات کو بوکھلاہٹ قرار دیتی ہے۔

دینی مراکز، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں اور عوامی افادیت کے حامل مقامات کے خلاف سفاکانہ کارروائیوں نے دشمن کا مکروہ چہرہ بے نقاب کر دیا ہے۔ امارت اسلامیہ عوام کے حقوق اور ان کے مفادات کی حفاظت اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔ وہ تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے عوام کی خوشحالی، صحت اور بچوں کی تعلیم پر توجہ مرکوز رکھے گی۔ دینی مدارس، اسکولز، مساجد اور کلینکس کی تعمیر اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*