بات چند شہروں کی حفاظت تک پہنچ گئی

آج کی بات

 

گزشتہ روز نیویارک ٹائمز کی ایک خبر کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے نئی حکمت عملی کے تحت کابل انتظامیہ کو ترغیب دی ہے کہ دور دراز دیہی علاقوں سے فوجی اڈے اور فوج شہروں میں لے آئی جائے۔ ذرائع کے مطابق امریکی جرنیلوں کی یہ کوشش ہے کہ وہ صرف چند بڑے شہروں ’کابل، جلال آباد، مزار شریف، قندھار اور ہرات‘ کی حفاظت کریں۔ باقی صوبوں اور دور دراز کے علاقوں کو مجاہدین کے لیے چھوڑ دیں۔

نیویارک ٹائمز نے بعض امریکی حکام اور مبصرین کے حوالے سے کہا ہے کہ 25 فیصد لوگ شہروں میں رہتے ہیں، جب کہ 75 فیصد دیہی علاقوں میں رہتے ہیں۔ اب صورت حال یہ ہے اگر تمام افغانستان کا تحفظ ممکن نہیں ہے تو بڑے شہروں کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔ اس کا معقول طریقہ یہ ہے کہ شہروں کی حفاظت کی خاطر دیہی علاقوں کو چھوڑ دیا جائے۔ اسی طرح اخبار نے امریکی جرنیلوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ تمام صوبوں اور دیہی علاقوں کا تحفظ حماقت ہے۔ کیوں کہ وہاں کوئی اسٹریٹجک فائدہ نہیں ہے۔ مقامی لوگوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔ وہاں صرف افغان اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے۔

اللہ تعالی کی مدد دیکھیں۔ ایک وقت تھا کہ امریکا افغانستان اور دنیا کے کسی بھی کونے میں مجاہدین کو حقِ زندگی نہیں دینا چاہتا تھا۔ اُس کی خواہش تھی کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور یا قتل کیے جائیں۔ اللہ تعالی کی مدد سے آج وہی امریکا اور دنیا کی سپر پاور تمام تر دباؤ کے باوجود بہادر مجاہدین اور غیور مجاہد افغان عوام کی عظمت اور جلال کے سامنے سرنگوں ہونے کا اعلان کرتا ہے۔ 2 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے،پچاس ہزار امریکی فوجیوں کی موت اور دنیا کی نمبر ون جنگی ٹیکنالوجی کے استعمال کے باوجود ناکامی اور شکست سے دوچار ہے۔ الحمداللہ

سچ تو یہ ہے کہ دیہی اور مقامی علاقوں میں سب سے زیادہ مجاہدین رہتے ہیں۔ شہداء کی بڑی تعداد کا تعلق بھی ان علاقوں سے ہے۔ اس لیے غیرت اور شجاعت کی اس دھرتی نے طاغوتی اور استعماری قوتوں کے تمام مظالم اور جارحیت کے خلاف سینہ سپر ہوکر مقابلہ کیا۔ پہاڑوں، چٹانوں، میدانوں اور ریگستان کو ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے پیش کر دیا۔ مجاہد اور طالب کی صدائے حق اور آزادی کی آواز کو خاموش نہیں ہونے دیا۔ دیہی علاقوں کے مجاہد عوام نے اپنی اولاد کا نذرانہ پیش کرنے اور دولت و جائیداد قربان کرنے کے لیے تاریخ رقم کی ہے۔امریکی طیاروں کی وحشیانہ بمباری قبول کی۔ چھاپوں کے لیے خود کو تیار کیا۔ تاہم اسلامی جذبے نے انہیں اجازت نہیں دی کہ وہ مجاہدین کو تنہا چھوڑ دیں۔ اپنے گھر میں جگہ نہ دیں۔ ان کی مدد سے گریز کریں۔

آج ہم سب ان قربانیوں کے نتائج دیکھ رہے ہیں۔ امریکا اور نیٹو شرم ناک طریقے سے پانچ بڑے شہروں کی حفاظت پر مُصر ہیں۔ دیگر علاقوں میں بڑھتی ہوئی ہلاکتوں سے بچنے کے لیے راہ فرار اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ افغانستان کے دیہاتی لوگو! یہ کامیابی اور سربلندی کی پہلی قسط ہے، جو آپ کو ملی ہے۔ مزید کامیابیوں کے لیے بھی ہمت و حوصلے کے ساتھ تیار رہیں۔ اِن شاء اللہ

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*