جنگی جرائم جون2018

 

سید سعید

2جون 2018 کو صوبہ اروزگان کے ضلع دہراود کے علاقے تنگی پر قابض اور اجرتی فورسز نے مشترکہ کاروائی کے دوران چھاپہ مارا۔ ایک معصوم بچی سمیت نو افراد کو شہید اور خواتین سمیت آٹھ افراد کو زخمی کر دیا۔ اس کے علاوہ اسی دن دیوانہ کے مقام پر فورسز نے گولہ باری کر کے خواتین اور بچوں سمیت چھ افراد کو شہید اور زخمی کر دیا۔ اگلے دن صوبہ فاریاب کے ضلع جمعہ بازار کے علاقے قرہ شیخی میں پولیس نے چار نہتے شہریوں کو شہید اور زخمی کر دیا۔ جب کہ4جون کو صوبہ خوست کے ضلع موسی خیل کے علاقے شکی میں کمپاؤنڈ کے اہل کاروں نے چھاپے کے دوران ایک شخص کو شہید اور 13 افراد کو حراست میں لے لیا۔ اسی طرح 5 جون کو صوبہ لوگر کے ضلع برکی براک کے علاقے دیمو غلام اور ناکام قلعہ پر زیرو ون یونٹ کے اہل کاروں نے چھاپے کے دوران چار افراد کو شہید کر دیا، جب کہ مسجد کو بھی نقصان پہنچایا۔

7جون کو مشرقی صوبے جلال آباد کے ضلع حصارک کے علاقے گلوخیل پر قابض اور اجرتی فورسز نے چھاپہ مارا۔ گھر گھر تلاشی کے دوران کے دروازے توڑ دیے۔ شہریوں پر تشدد کیا۔ گھروں کا قیمتی سامان لوٹ لیا اور چار افراد کو شہید کر دیا۔ا گلے دن 8جون کو صوبہ خوست کے ضلع صبریو کے علاقے خٹکی اور نوری گاؤں میں پولیس نے پانچ شہریوں کو شہید کر دیا۔ جب کہ 10جون کو صوبہ قندوز کے دارالحکومت کے قریب مومندان کے مقام پر فورسز نے مبارک صاحب مسجد پر چھاپہ مارا اور تین حفاظ کرام کو حراست میں لے لیا۔ اسی دن صوبہ دایکندی کے ضلع اجرستان کے ہیڈ کوارٹر اور اس کے قریب گلدرہ کے علاقے میں فورسز نے بمباری کی، جس کے نتیجے میں سات افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ اگلے دن قندھار کے ضلع شاولی کوٹ کے علاقے المش میں کٹھ پتلی فوجیوں نے چھاپے کے دوران چھ شہریوں کو شہید کر دیا اور دو افراد کو حراست میں لے لیا۔ جب کہ 12جون کو صوبہ فاریاب کے ضلع لولاش کے علاقے خیرآباد میں فورسز کی گولہ باری سے تین خواتین شہید اور زخمی ہوگئیں۔

13جون کو صوبہ ہلمند کے ضلع سنگین کے چرخیکانو ماندہ کے علاقے میں مسجد سے گھر جاتے ہوئے ایک نوجوان کو شہید اور متعدد افراد کو زخمی کر دیا۔

21جون کو صوبہ بادغیس کے ضلع مرغاب کے علاقے جوئی گنج میں حکومتی طیاروں نے شہری آبادی پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں 5 افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ اسی طرح 23جون کو بادغیس کے کے ضلع مرغاب کے علاقے اسحاق زئی میں سرکاری فضائیہ نے ایک مدینی مدرسے اور قریبی لوگوں کے گھروں پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں تین حفاظ کرام زخمی ہوگئے اور لوگوں کو بھی کافی مالی نقصان پہنچا۔ا سی دن ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے سیدان میں فورسز کی گولہ باری سے 6 شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔

24جون کو بادغیس کے ضلع مرغاب کے علاقے اسحاق زئی میں پولیس کی فائرنگ سے دو خواتین اور چار بچے شہید، جب کہ دو افراد زخمی ہوگئے۔ اسی دن فاریاب کے ضلع لولاش کے علاقے گلدان میں پولیس کی فائرنگ سے ایک بچہ شہید ہوگیا۔ جب کہ صوبہ غزنی کے ضلع شلگر کے بازار میں پولیس نے ایک کلینک پر فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں ڈاکٹر محمد علیم شہید اور ایک اَور ڈاکٹر زخمی ہوگیا۔

25جون کو صوبہ نورستان کے ضلع وائٹ وائگل کے علاقے کٹاگمبیر میں قابض افواج کے ڈرون حملہ میں ایک شخص شہید اور دو افراد ہوگئے۔ جب علاقے کے لوگ شہید کے گھر میں جمع ہوئے تو قابض افواج نے دوسرا ڈرون حملہ کیا، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت مزید دس افراد شہید اور سات زخمی ہوگئے۔ اسی دن فاریاب کے ضلع شیرین تگاب کے علاقے اسلام قلعہ میں پولیس کی فائرنگ سے دو شہری شہید اور دو زخمی ہوگئے۔

27جون کو فاریاب کے ضلع خیبر کے علاقے بورغن پایان میں لیویز اہل کاروں نے فائرنگ کر کے ایک شخص کو شہید کر دیا۔ جب کہ صوبہ لوگر کے دارالحکومت کے قریب بخش آباد میں قابض اور اجرتی فورسز نے مشترکہ کارروائی کے دوران شہری آبادی پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 7 شہری شہید ہوگئے۔ اگلے دن صوبہ لوگر کے ضلع محمد آغی کے علاقے وغجان بازار میں پولیس نے فائرنگ کر کے تین افراد جان محمد، محمد نسیم اور محمد رحیم کو شہید کر دیا۔

30جون کو صوبہ فراہ کے ضلع بکوا کے ودود اور شیرسرخ نامی علاقوں میں دشمن کے فضائی حملوں میں ایک گھر اور ایک اسکول تباہ ہوگیا۔ اسی طرح فراہ کے ضلع بالابلوک کے علاقے شیوان گنج آباد اور گرانی میں امریکی طیاروں کی بمباری میں تین گھر تباہ، جب کہ چار افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ جب کہ فاریاب کے ضلع لولاش کے مرکزی مقام پر امریکی طیاروں کی بمباری میں مقامی لوگوں کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان ہوا۔ اسی دن فاریاب کے ضلع چھلگزی کے علاقے اخترخان بازار میں پولیس نے فائرنگ کر کے 12 سالہ بچہ شہید کر دیا۔ فاریاب کے ضلع جمعہ بازار کے علاقے ینگی قلعہ میں فورسز کی گولہ باری سے پانچ افراد شہید ہوگئے۔

ذرائع: بی بی سی، آزادی ریڈیو، افغان اسلامک پریس، پژواک، خبریال، لر او بر، نن ڈاٹ ایشیا اور دیگر ویب سائٹس۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*