وَكَانَ حَقّاً عَلَينَا نَصرُ المُؤمِنِين

آج کی بات

 

برطانوی روزنامہ ڈیلی میل نے لکھا ہے کہ امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ ٹرمپ امارت اسلامیہ کے ساتھ مذاکرات سے قبل افغانستان سے اپنے تمام فوجیوں کی واپسی کا اعلان کر دیں گے۔ کیوں کہ افغان جنگ کی وجہ سے ٹرمپ کا حوصلہ ختم ہو چکا ہے۔ وہ فوری طور اس جنگ سے نجات چاہتے ہیں۔ مغربی میڈیا میں آج کل اس قسم کے بیانات اور شکست کا اعتراف اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ان کے ظلم کے خلاف اللہ تعالی نے مظلوم افغان عوام کی فریاد سنی ہے۔ اللہ تعالی کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ جو لوگ اللہ کے دین کے لیے لڑتے ہیں اور اپنے مسلمہ حق کا دفاع کرتے ہیں، اللہ تعالی ان کی مدد کرے گا۔

مجاہدین کو یقین ہے کہ 2018 افغان عوام کی کامیابی اور ظالم دشمن کی ذلت اور شکست کا سال ثابت ہوگا۔ ٍبہت سی امیدیں ہیں کہ اللہ کی مدد کے اکثر اسباب اب مہیا ہیں۔ «آلَا إنَّ نَصرَ اللهِ قَرِيبٌ»

اگر ایک بار دیکھا جائے کہ دنیا میں سب سے زیادہ مظلوم ترین قوم مجاہد افغان عوام ہیں، جو اکیسویں صدی میں ظلم کا شکار ہیں۔ امریکا کی قیادت میں نیٹو نے افغانستان پر غیرقانونی جارحیت کا ارتکاب کیا ہے۔ 17 سال سے افغان عوام پر زمینی اور فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کسی قسم کے ظلم سے گریز نہیں کیا گیا۔ اماریکا کو اکثر ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ فوجی، سیاسی، مالی اور میڈیا کی بھرپور طاقت کے ساتھ افغانستان پر دھاوا بول رکھا ہے۔ سب کو یقین تھا کہ کرہ ارض پر افغانستان کا مستقبل اندلس یا غرناطہ کا منظر پیش کرے گا۔ جس کا اسلامی تشخص آئندہ نسل صرف تاریخ میں پڑھے گی۔ بظاہر یہی کچھ ہونا چاہیے تھا۔ البتہ اللہ تعالی کے فیصلے کچھ اور ہوتے ہیں۔ افغان مجاہد عوام دنیا کے تمام اسباب سے محروم، صرف اللہ تعالی کی مدد سے اپنی جان، دولت، عزت، مذہب اور عزت کے تحفظ کے لیے دنیا کی سپر پاور کا مقابلہ کر رہی ہے۔ اگرچہ بہت سی مشکلات برداشت کرنا پڑیں اور اب بھی یہ امتحان جاری ہے:

«إِن يَمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهُ ۚ وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ….الأیة

لیکن طاغوتی قوتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے دو ماہ میں جنگ ختم کرنے اور کامیابی حاصل کرنے کا دعوی کیا تھا۔ آج 17 برس گزرنے کے باوجود وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔ اب اس جنگ کے سامنے سپرپاور بے بس ہے۔ یہ سب اللہ کی مدد کی واضح مثال ہے۔ ایک کمزور ملک کے نہتے عوام دنیا کی سپرپاور کا 17 سال سے مقابلہ کر رہے ہیں۔ جب کہ ان کے عقیدے، عزم اور موقف میں کوئی تبدیلی اور کمزوری نہیں آئی۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے حوصلے بلند ہوتے جا رہے ہیں۔ اللہ کی مدد پر ان کا یقین مستحکم ہوتا جا رہا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں «إن تَنصُرُوا اللهَ يَنصُركُم» «آلَا إنَّ نَصرَ اللهِ قَرِيبٌ» «وَلِيُمَحِّصَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَيَمْحَقَ الْكَافِرِينَ» القرآن۔

اللہ کا وعدہ کبھی جھوٹا نہیں ہو سکتا۔ اس کا وعدہ ضرور پورا ہوگا۔ جو لوگ اللہ کے دین کی حفاظت کے لیے اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں، اللہ بھی ان کی مدد کرے گا اور وہ لوگ ضرور ذلیل اور رسوا ہوں گے جو ظلم، جارحیت اور سربریت کرتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*