داعشی جنگجوؤں کو کس نے اور کیوں بچایا؟

آج کی بات

 

امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے شمالی صوبہ جوزجان کے ضلع درزاب میں داعش کا آخری ٹھکانہ بھی فتح کر کے پورے شمال سے اس کا صفایا کر دیا ہے۔ طویل عرصے سے نامعلوم طیاروں کے ذریعے داعش کے جنگجو  یہاں منتقل کیے جا رہے تھے۔ ان کی موجودگی اور تعداد کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا باتا تھا۔ داعش کے خلاف مجاہدین نے مسلسل 24 دن آپریشن کیا۔ اگرچہ امریکی اور افغان فضائیہ نے اس دوران کئی بار مجاہدین پر حملے کیے، لیکن اللہ کے فضل و کرم سے گزشتہ روز یہ آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل ہوا۔ جس میں 92 داعشی جنگجو ہلاک، 51 زخمی ہوئے۔ جب کہ 128 گرفتار کر لیے گئے۔

عجیب صورت حال تب سامنے آئی، جب مجاہدین نے داعش کے جنگجوؤں کو گھیرے میں لیا تو کابل انتظامیہ نے ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انہیں بچانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد کابل انتظامیہ کے اعلی حکام نے اعلان کیا کہ محاصرے میں پھنسے ہوئے جنگجوؤں نے حکومت کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ حالانکہ مختلف علاقوں میں متعدد بار ایسا ہوا ہے کہ مجاہدین نے افغان فورسز کے اہل کاروں کو محاصرہے میں لیا تو انہوں نے چیخ چیخ کر حکام بالا سے بچانے کی منت سماجت کی، لیکن کسی نے ان کی فریاد سنی اور نہ ہی کہیں پر ان کی شنوائی ہوئی۔ البتہ گزشتہ روز درزاب میں کابل انتظامیہ کے طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کے ذریعے داعشی جنگجوؤں کو بچا کر نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا۔ جس پر پوری قوم نے تعجب کا اظہار کیا کہ حملہ آوروں نے افغانستان میں اپنے غلاموں کے ذریعے کون سا کھیل شروع کر رکھا ہے؟!

داعش کے جنگجوؤں کو بچانے کی تصدیق حکام نے بھی کی ہے۔ جوزجان کی صوبائی کونسل کے ارکان کہتے ہیں کہ میدان جنگ سے داعش کے جنجگوؤں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے محفوظ مقام کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ وضاحت بھی کی کہ نامعلوم ہیلی کاپٹروں کے ذریعے انہیں بچایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہیلی کاپٹر حکومت کے نہیں تھے!!

صوبائی کونسل کی رکن حلیمہ صدف نے کہا کہ 80 سے 100 کے درمیان جنگجوؤں کو نامعلوم طیاروں کے ذریعے میدان جنگ سے نکالا گیا تھا۔ اسی طرح ضلع درزاب کے سکیورٹی کمانڈر محمد اسماعیل نے بھی اعتراف کیا کہ طالبان کے شدید حملوں کے بعد داعش کو شکست ہوئی، لیکن 200 جنگجوؤں کو حکومت نے بچایا۔ انہوں نے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

حقیقت یہ ہے کہ مقامی لوگ اور مجاہدین سب کہتے ہیں کہ تین کمانڈروں سمیت 216 افراد کو طالبان کی گرفت سے بچانے کے لیے ان ہیلی کاپٹروں کے ذریعے نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا، جن ہیلی کاپٹروں کے ذریعے جنگجوؤں کو یہاں لایا گیا تھا۔

مجاہدین نے ہمیشہ یہ کہا ہے کہ وہ جب داعش کے خلاف آپریشن کا آغاز کرتے ہیں تو امریکی اور افغان فضائیہ کو نشانہ بناتے ہیں، لیکن جب مجاہدین بمباری کے باوجود داعشی جنگجوؤں کے گرد گھیرا تنگ کرتے ہیں تو حکومت کے ہیلی کاپٹر بروقت پہنچ کر داعشیوں کو بچا کر فوجی اڈوں میں منتقل کر دیتے ہیں۔ درزاب کا واقعہ اس کا واضح ثبوت ہے۔ اب تو سب پر واضح ہوگیا ہے کہ داعش امریکی منصوبہ ہے، جو سلامتی کونسل کے سربراہ حنیف اتمر کے ذریعے پروان چڑھایا جا رہا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*