ہزار افراد کے گروپ کی امارت میں شمولیت

آج کی بات

 

گزشتہ روز صوبہ بادغیس کے ضلع قادس کے علاقے برگل اور شہر ارمان میں کابل انتظامیہ کے ایک ہزار افراد پر مشتمل گروپ نے حقائق کا ادارک کرتے ہوئے امارت اسلامیہ کے سامنے سرنڈر ہونے کا اعلان کیا۔ مذکورہ قافلے کے رہنماؤں: فضل احمد اخند زادہ اور عبدالقدیر خان نے امارت اسلامیہ کے صوبائی نائب گورنر مولوی عبدالکریم کے ہاتھ پر بیعت کی اور امارت اسلامیہ کے ساتھ مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

ان لوگوں کے ہتھیار ڈالنے اور بیعت کے لیے شان دار تقریب کا انعقاد کیا گیا تھا۔ تقریب سے امارت اسلامیہ کے نائب گورنر مولوی عبدالکریم صاحب، مقامی رہنماؤں، علماء اور سرنڈر ہونے والے گروپ کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ مذکورہ رہنماؤں نے ماضی میں کابل انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے پر پچھتاوے کا اظہار کیا اور وعدہ کیا کہ امارت اسلامیہ کے ساتھ ہر قسم کا تعاون کریں گے۔ بادغیس کے گورنر نے خوشی کا اظہار کیا اور ان کے اساقدام خو سراہا اور ان کا خیرمقدم کیا۔ ان کے جان و مال کی حفاظت کا یقین دلایا۔ تقریب کے اختتام پر سرنڈر ہونے والے افراد نے 1000 کلاشنکوفیں، 40 عدد ہیوی مشین گنیں، 10 عدد راکٹ لانچر، 5 بم افگن مجاہدین کے سپرد کیے۔

کچھ دن پہلے صوبہ غور کے علاقے فیروز کوہ میں بھی کابل انتظامیہ کے ایک بڑے قافلے نے حاجی عبدالرحمن کی قیادت میں ہتھیار ڈالنے کا اعلان کیا تھا۔ حاجی عبدالرحمن نے پروقار تقریب میں امارت اسلامیہ کی تابع داری کا وعدہ کیا کہ تمام دستیاب وسائل کے ساتھ مجاہدین کی حمایت اور تعاون کریں گے۔ اس تقریب سے علمائے کرام نے بھی خطاب کیا اور موجودہ جہاد کو آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے اہم قرار دیا۔

حاجی عبدالرحمن نے ایک ہزار کلاشن کوف، سو عدد رائفلز، 80 عدد آر پی جی راکٹ، 2 ہیوی مشین گنز، 3 مارٹر اور مختلف ہتھیار مجاہدین کے حوالے کیے۔ پورے علاقے پر سفید پرچم لہرایا گیا۔

الخندق آپریشن کے دوران ایک طرف بہت سے علاقوں سے قابض اور اجرتی فورسز کو پسپا کر دیا گیا ہے۔ وسیع پیمانے پر دشمن کو جانی اور مالی نقصانات کا سامنا ہے۔ بھاری مقدار میں اسلحہ اور ہتھیار ضبط کیے گیے۔ دوسری طرف کابل انتظامیہ کے ہزاروں مسلح اہل کاروں اور مختلف محکموں میں کام کرنے والے ملازمین حقائق کا ادراک کرتے ہوئے امارت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں۔ ہتھیار اور گاڑیاں مجاہدین کے حوالے کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ اب وہ اسلام اور ملک کے خلاف جارحیت پسندوں اور کٹھ پتلی حکومت کی مدد نہیں کریں گے۔

امارت اسلامیہ ہتھیار ڈالنے والے تمام شہریوں کا شکریہ ادا کرتی ہے۔ ایسے خوش نصیبوں کا خیرمقدم کیا جاتا ہے۔ ان کی جان، عزت اور املاک کا مکمل تحفظ کیا جائے گا۔ آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ ایک دن میں ایک ہزار افرار کے گروپ کی امارت اسلامیہ میں شمولیت حقانیت کا واضح ثبوت ہے۔ امارت اسلامیہ عوام کی کوکھ سے جنم لینے والی تحریک ہے۔ وہ اگرچہ وسائل کے لحاظ سے دشمن سے کمزور ہے، لیکن اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی حمایت کی وجہ سے دشمن پر مجاہدین کا پلڑا بھاری ہے۔ کابل انتظامیہ کے پاس وسائل کی فراوانی ہے، لیکن وہ قابض قوتوں کی محافظ فورس ہے۔ وہ اپنے ملک کے باشندوں اور اقدار کے خلاف برسرپیکار ہے۔ اس لیے وہ ہر میدان میں ناکامی کا شکار ہے۔ اس کے کنٹرول کا دائرہ صرف بڑے شہروں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*