الخندق کی کامیاب کارروائیوں کی ایک مثال

آج کی بات

 

الخندق آپریشن کا آغاز ہوا تو مجاہدین نے افغانستان بھر میں قابض اور اجرتی فورسز پر جارحانہ اور مؤثر حملے شروع کیے۔ بہت سے علاقوں، چوکیوں اور فوجی اڈوں سے دشمن کو پسپا کر دیا گیا۔ اب مفتوحہ علاقوں میں امن بحال ہوا ہے۔ لوگ کابل انتظامیہ کے مسلح اہل کاروں کے ظلم سے محفوظ ہیں۔ چوری، ڈکیتی، کرپشن، قتل و غارت گری اور دیگر جرائم کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ ایک طویل عرصے کے بعد لوگ پرسکون ہو سکت ہیں۔

الخندق آپریشن پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے۔ ہر روز فتوحات کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ دشمن کو اپنے زیرکنٹرول علاقوں سے پسپا کیا جا رہا ہے۔ دشمن کے حوصلے پست ہیں۔ وہ قابض قوتوں کی حمایت کے باوجود راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہے۔ امارت اسلامیہ نہایت بلند حوصلوں کے ساتھ اسلام اور افغانستان کا دفاع کر رہی ہے۔ وہ مقدس جہاد میں مصروف ہے۔ دشمن کی سفاکیت اور ظلم کے باوجود جارحانہ حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ بطور مثال الخندق آپریشن کے ایک دن کی چند جھلکیاں ملاحظہ فرمائیں:

الخندق آپریشن کے تحت ہفتے کی رات مجاہدین نے صوبہ اروزگان کے ضلع چنارتو کی مرکزی عمارت، پولیس ہیڈکوارٹر اور تین چوکیاں مکمل فتح کر لیں۔ اس کارروائی میں دشمن کے درجنوں اہل کار ہلاک ہوئے۔ اس کے علاوہ مجاہدین نے چار ٹینک، دو فوجی گاڑیاں، ایک ایمبولینس، 42 ہیوی میشین گنیں، 2 ایس پی جی 9 توپ اور بھاری مقدار گولہ بارود بھی ضبط کر لیا۔

دریں اثناء مجاہدین نے صوبہ تخار کے ضلع بہارک میں عنبرکوہ کا اہم اور اسٹریٹجک علاقہ بھی فتح کر لیا ہے۔ اس کارروائی میں دشمن کو جانی نقصان ہوا  جب کہ مجاہدین نے بڑے پیمانے پر ہتھیار بھی مال غنیمت کے طور پر حاضل کیے ہیں۔

اسی طرح صوبہ پروان کے ضلع بگرام کے علاقے قلعہ نصرو میں قابض امریکی فوجیوں کے ٹینک پر دھماکہ ہوا، جس میں چار امریکی فوجی ہلاک اور دو زخمی ہوئے۔ اس سے ایک روز قبل بھی اسی علاقے میں امریکی فوجیوں کے ایک ٹینک پر دھماکہ ہوا تھا، جس میں پانچ قابض فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

مجاہدین نے کابل شہر کے علاقے یوسی 13 میں چنغر کی چوکی فتح کر لی ہے، جس میں پانچ اہل کار مارے گئے۔ جب کہ غنیمت میں ہتھیار بھی حاصل کیے گئے۔ اسی طرح صوبہ کابل کے ضلع پغمان کے علاقے اوریاخیل میں گل غونڈی چیک پوسٹ بھی فتح ہوئی۔ جس میں 8 اہل کار ہلاک، 9 زخمی ہوئے۔ جب کہ ایک ٹینک اور بھاری مقدار میں اسلحہ بھی غنیمت میں ملا۔

قابض اور اجرتی دشمن کو چاہیے وہ مزید ہاتھ پاؤں مارنے سے گریز کرے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی پوزیشن خراب ہوتی جا رہی ہے۔ حماقت اور غرور کا راستہ چھوڑ کر حقائق تسلیم کیے جائیں۔ افغانستان پر ناجائز قبضے کا خاتمہ کریں۔ وگرنہ پھر کف افسوس ملنے کے سوا اسے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*