امارت اسلامیہ مؤمن عوام کے دفاع کے لیے پر عزم ہے

گذشتہ اڑھائی دہائیوں میں افغان مؤمن عوام تین مرتبہ سخت ترین آزمائشوں کٹھن  حالات سے روبرو ہوا ہے، کمیونزم کے خلاف جہادی کی کامیابی کے بعد داخلی جنگ اور ہراساں کا زمانہ آیا، ملوک الطوائفی اور انارشی عروج کو پہنچی،  اہل وطن کی جان و مال اور عزت کو خطرات کا سامنا ہوا اور حتی کہ ملک ٹوٹنے کے خطرے سے روبرو ہوا۔

بندوق برداروں اور مفسد عناصر سے ملک کی نجات کی خاطر اور مقدس کی آرزوؤں کی تکمیل کے لیے افغان مؤمن عوام کی بطن سے حقیقی مجاہدین اور طالبان تحریک کا آغاز ہوا، جو بعد میں امارت اسلامیہ کے نام سے منسوب کیا گیا اور قلیل عرصے میں نہ صرف کو ملک کو بندوق برداروں اور قاتلوں   سے نجات دلایا، بلکہ حقیقی اسلامی حکمرانی کو قائم کرکے امن و مان اور انصاف کو نافذ کردیا  اور ملک کی اراضی استقلال کو محفوظ کرلیا۔

باہمی جنگوں سے افغانستان کا نجات امارت اسلامیہ کا عظیم تاریخی کارنامہ تھا، مگر افغان عوام نے جنگ سے آرام کی سانس نہیں لی تھی،کہ ملک پر  ایک اور آزمائش آئی اور امریکی قیادت میں مغربی استعمار نے  افغانستان پر  جارحیت کی۔ افغانستان کی خودمختاری کو غصب کردی، ملک کی زمین اور فضاء کا کنٹرول حاصل کرلیا  اور افغان عوام کے تمام حقوق کو پامال ڈالے۔

ان کٹھن حالات میں امارت اسلامیہ نے ایک بار پھر افغان مسلمان عوام کی غصب شدہ حقوق کے اعادہ، اسلامی نظام کے قیام اور ملک کی خودمختاری کے حصول کی خاطر جہاد کا آغاز کیا۔ سترہ سالہ جہاد کے دوران امارت اسلامیہ کے مجاہدین نے عظیم قربانیاں دی، اسلام اور ملک کی تاریخ کو ناقابل فراموش فخرسے نوازا، جس کے نتیجے میں نہ صرف ملک کے اکثریت علاقوں کو غاصبوں سے پاک کروائے، بلکہ غاصبوں کو اس پر بھی آمادہ کیا،کہ افغان عوام کے برحق تحریک کو احترام کی نگاہ سے دیکھ لے اور براہ راست گفتگو کے آغاز سے افغانستان سے انخلاء کے  مرحلے کے لیے آمادگی ظاہر کرلی۔

حالیہ سالوں میں ملک میں داعش کے نام سے ایک اور ناآشنا اور اجنبی منحرف گروہ پیدا ہوئی،جس نے بہت وحشتوں اور قتلوں کا آغاز کیا، استعمار اور اس کے کٹھ پتلی کوشش کررہی ہے کہ پروپیگنڈانہ مہم اور  سہولتی امداد کیساتھ اس گروہ کو مزید تقویت دی۔ داعش نے نہ صرف افغان پر بلاتفرق حملوں کا آغاز کیا ، خواتین، بچوں اور بوڑھوں سمیت سینکڑوں نہتے عوام کو شہید کردیے، بلکہ ذبح کرنے، بموں سے اڑانے ، قتل ، تشدد کرنے اور مختلف وحشیانہ طریقوں کی ترویج سے کوشش شروع کی، کہ افغان مؤمن اور مجاہد عوام کو خوفزدہ کریں اور ان پر اپنے اجنبی نظریے کو طاقت کے بل بوتے پر لاگو کریں۔

ایسی حالت میں کہ افغان عوام داعش کی جانب سے کچلتارہا ،یہی صرف امارت اسلامیہ کے مجاہدین تھے، جنہوں نے افغان مسلمان عوام کی دفاع اور نجات کی خاطر  داعش کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا۔ فراہ، زابل، ہلمند، غور، لغمان اور دیگر علاقوں سے داعشی فتنے کی جڑیں اکھاڑ پھینک ڈالی اور حالیہ دنوں میں ملک کے شمال میں صوبہ جوزجان ضلع درزآب میں داعش کے محکم مرکز کی تباہی نے ایک بارپھر ثابت کردی، کہ امارت اسلامیہ افغان مسلمان عوام کی دفاع کے لیے ہر قسم کی قربانی کے لیے کمربستہ  اور دشمن کو کچلنے کے لیے آمادہ ہے۔

مقولہ ہے کہ حقیقی دوست برے دن کا ساتھی ہوتا ہے ،امارت اسلامیہ جو کٹھن مراحل میں ہمیشہ افغان عوام کیساتھ رہی، افغان عوام کی تحفظ اورنجات کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں اور آخر میں اللہ تعالی کی نصرت سے تینوں مرحلوں میں عوام کو نجات دلاچکاہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ افغان مسلمان عوام اور تاریخی ملک کے حقیقی مدافع قوت امارت اسلامیہ ہے، اسی لیے دیگر سیاسی جہتیں صرف اس جانب متوجہ ہے کہ کس افغان عوام اور ملک کو لوٹ لے، سرکاری املاک کو غصب ، قومی سرمایہ کو لوٹ   اور ملک سے باہر بیرونی ممالک کے بینکوں میں ذخیرہ کریں۔

مگر امارت اسلامیہ ہمیشہ افغان مسلمان عوام کے عظیم مفادات، دینی اور دنیوی سعادت، امن وامان اور سربلندی کے لیے وفادار رہی ہے۔حتی کہ گذشتہ اڑھائی دہائیوں کے تجربات کے بعد اب امارت اسلامیہ افغان مصیبت زدہ عوام کی امید کی وہ روشنی سمجھی جاتی ہے،جو شدید طوفانوں کے باوجود تاحال روشن رہ چکی ہے اور عوام کو اندھیروں سے نجات دلا دی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*