میڈیا غیرمصدقہ خبریں نہ شائع کرے

آج کی بات

 

امریکا افغانستان میں جس صورت حال اور انجام سے دوچار ہے، حال ہی میں وہ جن اقدامات پر مجبور ہوا ہے، زرخرید میڈیا اسے جو بھی نام اور خوب صورت عنوان دے کر اسے مثبت انداز سے پیش کرے، لیکن حقیقت بہت واضح ہے۔ مغرور امریکا کی قوت اللہ کے فضل و کرم سے ختم ہو چکی ہے۔ اس کی تمام پالیسیاں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ تجربہ کار جرنیلوں کو یہاں تعینات کر کے آزمایا گیا۔ افغان عوام کی عظمت اور مجاہدین کی تلوار کے سامنے سرخم کرنے کے سوا اب کوئی چارہ نہیں ہے۔

حیران کن بات یہ ہے کہ افغانستان سے متعلق ٹرمپ کی پرانی پالیسی ناکارہ رہی ہے۔ وہ اب اعتراف کرتے ہیں کہ وہ پالیسی ناکام تھی۔ افغان عوام نے سربریت اور سفاکیت کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ اب نئی پالیسی کے تحت امریکی اور افغان فورسز کو یہ ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ دور دراز علاقوں یعنی اضلاع سے پسپائی اختیار کر کے پورے ملک کے بجائے صرف بڑے شہریوں کی حفاظت پر توجہ دیں۔ ٹرمپ کے غلاموں اور زرخرید میڈیا نے یہ افواہ پھیلائی کہ امارت اسلامیہ نے امریکا کے ساتھ مفاہمت کی ہے، جس کے تحت امریکا کچھ صوبے اور علاقے اس کے لیے چھوڑ دے گا۔ جب کہ بدلے میں امارت اسلامیہ نے افغانستان میں محدود امریکی موجودگی قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

کابل انتظامیہ کے اعلی حکام کے لیے شرم کی بات ہے کہ انہیں پتا بھی نہیں کہ ٹرمپ نے آرڈر جاری کیا ہے کہ دور دراز علاقوں سے امریکی اور افغان فورسز فوری طور انخلا کریں۔ رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے حکم کی بنیاد پر عملی طور یہ سلسلہ غزنی، فراہ، نمروز، پکتیا اور دوسرے صوبوں میں شروع ہوا ہے۔

کابل انتظامیہ کے فرسودہ نظام کے ترجمان نے رسوائی سے بچنے کے لیے جھوٹا اعلان کیا کہ دور دراز علاقوں سے فورسز کو واپس بلانا ان کا اپنا فیصلہ ہے، جو مصلحت کی بنیاد پر کیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ فیصلہ کابل انتظامیہ کا اپنا ہوتا تو پھر ٹرمپ کے حکم سے پہلے کیوں اس کا اعلان نہیں کیا گیا؟ امارت اسلامیہ دور دراز اضلاع سے قابض اور اجرتی فورسز کے انخلا کو اللہ تعالی کی مدد، مجاہدین کی تلوار کی طاقت اور افغان مجاہد قوم کی ہمت اور لازوال قربانیوں کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ وہ وضاحت کے ساتھ بعض میڈیا ذرائع کی جانب سے پھیلائی جانے والی ان تمام افواہوں کی تردید کرتی ہے کہ امارت اسلامیہ نے امریکا کے ساتھ مفاہمت کی ہے  جس کے تحت امارت محدود امریکی موجودگی قبول کرے گی۔ جب کہ امریکا کچھ صوبے ان کے سپرد کر دے گا۔

امریکی غلام اور کچھ میڈیا ذرائع اس لیے یہ افواہیں پھیلا رہے ہیں کہ مجاہدین اور عوام کے درمیان دوریاں پیدا کریں اور حالیہ فوجی اور سیاسی پیش رفت پر قدغن لگائیں۔ امارت اسلامیہ نے کسی کے ساتھ اس طرح کی کوئی بات کی ہے اور نہ اس کو برداشت کرے گی۔ وہ ایک بھی امریکی فوجی کو افغانستان میں برداشت نہیں کرے گی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*