سپاہیوں کی بڑھتی ہلاکتوں کا پیغام

آج کی بات

 

گزشتہ روز امریکی میڈیا نے خبر شائع کی کہ ’جب ہم افغانستان سے اپنی فوج نکالیں گے تو جشن منائیں گے۔‘ ایسا لگتا ہے افغان معرکے نے جارحیت پسندوں کو شدید مایوس کیا ہے۔ دشمن کو افغان جنگ کی وجہ سے بحران کا سامنا ہے۔ کابل کی ناکام، نااہل اور فاسد انتظامیہ کی حیثیت بھی صفر ہے۔ کابل انتظامیہ میں شامل اعلی حکام کے ایک دوسرے کے ساتھ شدید اختلافات ہیں۔ وہ چوری، رشوت، کرپشن اور غلامی میں ایک دوسرے سے سبقت لینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

چوں کہ وہ مجاہدین کے حملوں کی زد میں ہیں۔ ہر روز مختلف علاقوں میں درجنوں اہل کار مارے جاتے ہیں۔ تاہم مشترکہ حکومت حواس باختہ ہے اور یہ محسوس کرنے سے بھی قاصر ہے کہ ہر روز اتنی بڑی تعداد میں سکیورٹی اہل کار لقمہ اجل کیوں بنتے ہیں؟ گزشتہ تین دنوں کے دوران صوبہ اروزگان کے ضلع دہراوود میں حکام کے مطابق 46، قندھار کے ضلع ارغسان میں 17، لوگر کے ضلع ازرہ میں 19، فراہ کے بالابلوک میں 16 اہل کار ہلاک ہوئے۔ جب کہ غزنی کے ضلع جغتو میں جھڑپوں میں 41 فوجی مارے گئے۔ یہ کل 139 ہلاک شدہ فوجی ہیں۔ یہ وہ تعداد ہے، جو حکام کے حوالے سے میڈیا نے شائع کی ہے۔ البتہ جن کے بارے حکام نے اعتراف نہیں کیا، وہ تعداد اس کے علاوہ ہے۔

دریں اثنا لوگر کے ضلع ازرہ میں 32 اہل کاروں پر مریکی طیاروں نے بمباری کی۔ مقامی لوگوں کے مطابق 17 اہل کار ہلاک اور دیگر زخمی ہو گئے۔ اروزگان کے حوالے سے وزارت دفاع نے پہلے یہ اعلامیہ جاری کیا تھا کہ وہاں 5 فوجی ہلاک ہوئے۔ جب کہ بی بی سی نے ضلع چنارتو کے گورنر اور اسپیشل فورسز کے حوالے سے خبر شائع کی کہ اُن 40 اہل کاروں کی لاشیں مل گئی ہیں، جو طالبان کے ساتھ جھڑپوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ فوجیوں کی بڑھتی ہلاکتوں کو دیکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حملہ آوروں اور کٹھ پتلیوں کے درمیان کابل میں اختیارات کے حوالے سے رسہ کشی موجود ہے۔ افغان فوج نے ابھی تک یہ احساس نہیں کیا کہ وہ کب تک جارحیت پسندوں اور بے رحم حکمرانوں کے لیے قربانی دیتے رہیں گے؟ وہ آزادی اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے لڑنے والے مسلمان بھائیوں کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ میں ان حملہ آوروں اور حکمرانوں کے لیے قربانی دے رہا ہوں، جو درزاب میں داعش کے جنگجوؤں کی طرح مدد فراہم کرنے کے بجائے مجھے نشانہ بناتے ہیں۔ اروزگان کے ضلع چنارتو کی طرح ہماری لاشوں کو بھیڑیوں اور درندوں کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ وزارت دفاع نے اعلان کیا کہ اروزگان میں ہمارے سپاہی ہلاک نہیں ہوئے۔ کیا ان تمام تر حقائق کے باوجود بھی فوجیوں میں یہ احساس نہیں ہے کہ وہ اپنے خاندان، اپنے مستقبل اور آخرت کے بارے میں سوچیں۔

فوجیوں کے لیے سنہری موقع ہے کہ وہ امارت اسلامیہ کی جانب سے عام معافی کے اعلان سے فائدہ اٹھائیں۔ غیرضروری اور ناجائز جنگ سے دستبردار ہو جائیں۔ اتنا احساس تو کریں کہ آخر وہ کیوں،کس کے لیے اور کس مقصد کے لیے قربانی دے رہے ہیں ؟

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*