اسلام کی مدد، مگر کیسے؟!

محمدفرہادجانباز

 

فی زمانہ اہلِ اسلام جن مصائب و تکالیف سے دو چار ہیں، یقینا اُن کی ایک وجہ قربِ قیامت بھی ہے۔ البتہ دنیا کے دارالاسباب ہونے کے سبب اس امر سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا کہ یہ سب کردار کی اُس ’مجرمانہ ضعیفی‘ کی بنیاد پر ہے، جس کا لازمی نتیجہ ’مرگِ مفاجات‘ کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

اللہ تعالی کی ذات پر یقینِ کامل کی کمی… سب کچھ اللہ سے ہونے کے عقیدے میں ضُعف… اپنے ہر طرح کے مادی و روحانی مسئلے کے حل کے لیے اللہ وحدہ لاشریک کی طرف توجہ کی کمی… حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالی کے آخری پیغمبر ہونے کی بنیاد پر اُن ہی کی تابع داری میں ہماری دنیا و آخرت کی راحتیں پوشید ہ ہیں، اس حوالے سے فکری و عملی کمزوری… حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عطافرمودہ منہجِ سیاست و اقتصاد اور اسلوبِ معاشرت و جہاد سے کنارہ کشی… قرآن مجید کی آیت مبارکہ کی بنیاد پر یہی وہ کمزوریا ں ہیں، جو مسلمانوں کے ہاتھوں وقوع پذیر ہونے پر برپا فتنہ و فساد کی وجہ بنی ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

’ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ أَیْدِی النَّاسِ لِیُذِیقَہُمْ بَعْضَ الَّذِی عَمِلُوا لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ‘ (سورۃ الروم: 41)

لوگوں نے اپنے ہاتھوں جو کمائی کی، اُس کی وجہ سے خشکی اور تری میں فساد پھیلا، تاکہ انہوں نے جو کام کیے ہیں، اللہ اُن میں سے کچھ کا مزہ اُنہیں چکھائے، شاید وہ باز آ جائیں۔

اگر عالمِ اسلام اپنے عقائد، افکار، اعمال، اخلاق، معاشرت، تجارت اور جہاد کے حوالے سے غفلت کا مظاہرہ نہ کرتا تو آج کے ناگفتہ بہ حالات کے تاریک دن دیکھنے کو نہ ملتے۔ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو جن عظیم مسائل کا سامنا ہے، اُن میں سے کچھ اپنی اہمیت اور اثرات و نتائج کے لحاظ سے مکمل اور دیانت دارانہ توجہ کے طالب ہیں۔

پہلا مسئلہ نظامِ اسلام کے نفاذ کا ہے۔ جب تک کم از کم اسلامی خطوں میں اسلام اپنے تمام تر احکامات، حدود و تعزیرات، فرائض و واجبات اور وقار و غلبے کے ساتھ نافذ نہیں ہو جاتا، تب تک ہم جس سربلندی، عزت و شوکت اور آسانیوں کی راہ تک رہے ہیں، اُنہیں نہیں پا سکیں گے۔ تفسیر ابنِ کثیر میں ’ابوعالیہ‘ کے حوالے سے لکھا ہے:

’جو شخص بھی اللہ تعالی کی نافرمانی کرتا ہے، وہی زمین میں فساد مچانے والا ہوتا ہے۔ اس لیے کہ زمین کی صلاح، یعنی اس کا پُرامن اور ہر طرح کی بھلائی سے لبریز ہونا اللہ تعالی کی اطاعت کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی لیے ابوداؤد کی روایت کردہ حدیث میں بیان ہوا ہے:

’لحد یقام فی الأرض أحب إلی أہلہا من أن یمطروا أربعین صباحا‘

’زمین میں حدوداللہ میں سے کسی ایک حد کا قائم ہونا، میرے نزدیک اس سے بہتر ہے کہ چالیس دن بارش ہوتی رہے۔‘

اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر چالیس روزہ بارش سے زمین میں جتنی بہتری آتی ہے، وہ جس قدر غلے اُگاتی ہے اور بارش سے زمین پر جو جو رونقیں پھوٹتی ہیں، حدود اللہ میں سے ایک حد کے قائم کیے جانے سے اتنی زیادہ برکتیں نصیب ہوتی ہیں کہ چالیس روزہ بارش کی برکتیں اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حدود اللہ قائم کی جاتی ہیں تو تمام لوگ یا اکثر لوگ یا کافی سارے لوگ برائیوں کی طرف جانے سے رُک جاتے ہیں۔ جب معاصی اور گناہوں کا ارتکاب ہوتا ہے تو اس کی وجہ سے آسمان سے نازل ہونے والی اور زمین سے برآمد ہونے والی برکتیں وصول ہونا بند ہو جاتی ہیں۔‘

دوسرا مسئلہ سیاسی طور پر عدمِ استحکام کا ہے۔ یعنی مسلمان قیادت و سیادت کے معاملے میں ایک طرح سے یتیمی کا شکار ہیں۔ اسلام کے نظامِ حکومت ’خلافت‘ کے نہ ہونے کی وجہ سے عالم اسلام جس بے چارگی کی عملی تصویر بنا ہو اہے، وہ انتہائی دُکھ انگیز ہے۔ ایسی بے بسی پہلے کبھی دیکھنے کو نہیں ملی۔ یہی وجہ ہے عالم کفر مسلمانوں کی سیاسی یتیمی کا فائدہ اُٹھا کر اِنہیں ہر اُس طرح کی اذیت دے رہا ہے، جسے وہ فروگزاشت نہیں کرنا چاہتا۔

تیسرا مسئلہ جہاد ہے۔ جہاد سے متعلق حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان ہے:

’عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُما قَال: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ‘إِذَا تَبَایَعْتُمْ بِالْعِینَۃِ، وَأَخَذْتُمْ أَذْنَابَ الْبَقَرِ، وَرَضِیتُمْ بِالزَّرْعِ، وَتَرَکْتُمْ الْجِہَادَ، سَلَّطَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ ذُلًّا لَا یَنْزِعُہُ حَتَّی تَرْجِعُوا إِلَی دِینِکُمْ‘

حضرت عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں:

جب تم تجارتِ عینہ (سودی کاروبار) کرنے لگو گے اور کھیتی باڑی میں مشغول ہو جاؤ گے اور کاشت کاری کو ہی اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھو گے اور جہاد کو چھوڑ دو گے تو اللہ تعالی تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا، جس سے تب ہی چھٹکارا مل سکتا ہے، جب تم اپنے دین کی طرف (مکمل طور پر) لوٹ آؤ گے۔

علمائے تفسیر فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں حلال تجارت اور کھیتی باڑی کو بُرا نہیں کہا گیا، بلکہ اس فرمانِ مصطفوی علیہ الصلوٰۃ و السلام کا مقصد یہ ہے کہ تجارت و کھیتی باڑی (دنیا کے ہر کام) میں اتنی زیادہ مشغولیت اختیار کر لینا کہ یہی کام زندگی کا سب سے اہم مقصد بن کر رہ جائے اور دنیا کو آخرت اور اللہ تعالی کی رضا پر ترجیح دی جانے لگے، حتی کہ جہاد تک کو چھوڑ دیا جائے تو یہ معاملہ قبیح اور بُرا ہے۔ یہی وہ قباحت اور بُرائی ہے، جو عالم اسلام کو اُس ذلت و مسکنت سے دوچار کرتی ہے، جس کا آج ہر کوئی نظارہ کر رہا ہے۔

چوتھا مسئلہ اقتصادیات کا ہے۔ جمہوری ٹکڑوں میں بَٹا ہوا عالم اسلام اپنے دنیا پرست اور نام نہاد حکمرانوں کی وجہ سے مالی تنگیوں کا ایسا شکار ہے، جس کی وجہ سے لوگ خودکشیاں تک کرنے پر مجبور ہیں۔ ایک جان ہی تو کسی بھی انسان کا آخری سرمایہ ہوتی ہے۔ جب کہ اِس جان کی بقا پیٹ کے ساتھ جُڑی ہوئی ہے۔ جب عوام کے منہ کا لقمہ حکمران کے پیٹ میں چلا جائے تو تب غربت نہیں، غریب مٹتے ہیں۔ یہی وہ مصنوعی غربت ہے، جو کافر کو کٹر کافر بناتی ہے۔ کمزور مسلمان کو مذہبی زندگی سے دور کرتی ہے اور پختہ مذہبی مسلمان کو پریشان کیے رکھتی ہے۔ اِس غربت سے مال دار مزید دولت مند ہو جاتا ہے، جب کہ غریب مزید فقیر ہو جاتا ہے۔

عمومی نظر سے یہ وہ چار اہم مسائل ہیں، جو آج ہر مسلمان کی کہانی ہیں۔ اگر اِن مسائل کا عام نظر سے حل تلاش کیا جائے تو یہی سوچ جڑ پکڑتی ہے کہ حالات کے سُدھار کے لیے بالترتیب ’نظامِ اسلام نافذ کیا جائے، سیاسی استحکام حاصل کیا جائے، جہاد کی راہ اختیار کی جائے اور اقتصادیات کو مضبوط کیا جائے۔‘ لیکن اگر فی زمانہ اِس ترتیب کو ہی حرف آخر سمجھ کر اس کے پیچھے پڑ جائیں تو ’عالم اسلام کی جمہوری قید کے تناظر‘ میں مسائل کے حل میں بہت زیادہ وقت درکار ہوگا۔ لیکن شام، عراق، فلسطین، کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، سنکیانگ، افغانستان، ہندوستان اور برما کے ایمرجنسی حالات وقت کے لحاظ سے اتنی وسعت نہیں رکھتے کہ وہ ہماری ترتیب کا انتظار کرتے رہیں۔ جسدِمسلم کے اِن زخمی اعضا کو جس قدر جلدی آرام دِہ مرہم کی ضرورت ہے، اُس کی جلدازجلد فراہمی ’جہاد‘ ہی کے راستے سے ممکن ہے۔

جہاد حالات کے سُدھار کے لیے ایک ایسا علاج اور ٹانک ہے، اگر اِس طریقۂ علاج کو اس کے تمام آسمانی و زمینی تقاضوں کے ساتھ اختیار کیا جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ ’نفاذِ اسلام، سیاسی استحکام، جہاد کا قیام اور مضبوط اقتصادیات‘ جیسے مسائل ازخود حل ہوتے چلے جائیں گے۔جب ’جہادی آپریشن‘ شروع ہوتے ہیں تو اُس کے نتیجے میں کیا کیا معجزے رونما ہوتے ہیں، اُن کی عملی تصویر سمجھنے کے لیے کسی لمبے چوڑے فلسفے کی طرف جانے کے بجائے صرف اتنا دیکھ لیا جائے کہ یہی وہ راستہ ہے، جس سے مدینہ منورہ میں ’دارالاسلام‘ کا قیام ممکن ہوا تھا۔ اِسی سے خلیفۂ اوّل نے فتنۂ ارتداد کی آگ بجھائی تھی۔ اسی سے عمر فاروق نے دارالاسلام کی سرحدیں ایشیاء، افریقا اور یورپ تک پھیلا دی تھیں۔ اسی جہاد سے فتنۂ تاتار کا زور توڑا تھا۔ اسی جہاد سے مسجدِاقصی کو نصاریٰ کی قید و بند کی صعوبتوں سے آزادی ملی تھی۔ اسی جہاد سے شرک کی جڑ سومنات کے مندر کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی تھی۔ اسی جہاد سے اسلام کی راہ میں رکاوٹ بننے والوں کا خاتمہ ممکن ہے۔ اسی جہاد سے برطانیہ جیسی مجرم سلطنت کو بحراوقیانوس میں غرق کیا گیا تھا۔ اسی جہاد سے سوویت یونین کو برف کے پہاڑوں میں دفن کر دیا گیا تھا۔ اسی جہاد سے افغانستان میں ’امارت اسلامیہ‘ قائم ہوئی تھی۔ اسی جہاد نے سندھ کے حاکم ’راجہ داہر‘ کو اُس کے بُرے انجام تک پہنچایا تھا۔ اسی جہاد نے افغانستان میں بُدھ کے اُن مجسموں کو مٹی کا ڈھیر بنا ڈالا تھا، جو اللہ وحدہ لاشریک کی زمین کو اپنے ناپاک جسم سے آلودہ کر رہے تھے۔

لہذا آج بھی اسی جہاد کے ذریعے ہی بُدھ مت کے سرکش پیروکاروں کو برمی مسلمانوں کی نسل کُشی کے جرم کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اسی جہاد سے فتنۂ داعش ختم کیا جا سکتا ہے۔ اسی جہاد سے فلسطین آزاد کیا جا سکتا ہے۔ اسی جہاد سے کشمیر فتح ہو سکتا ہے۔ اسی جہاد سے ’فتنۂ جمہوریت‘ کا قلع قمع کر کے تمام عالمِ اسلام میں ’خلافتِ اسلامیہ‘ نافذ کی جا سکتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*