کامیاب الخندق اور دشمن کی باہمی بداعتمادی

آج کی بات

 

الخندق آپریشن نے حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے درمیان بڑے پیمانے پر عدم اعتماد کی فضا پیدا کی ہے۔ اندرونی و بیرونی دونوں دشمن ماضی کی طرح کارروائیوں کے حوالے سے باہم بداعتمادی کے شکار ہیں۔ الخندق آپریشن کے آغاز کے ساتھ ہی مجاہدین نے حملہ آوروں اور اجرتی فورسز کے خلاف بڑے اور مؤثر حملوں کا آغاز کیا تھا۔ دس اضلاع فتح کرنے کے علاوہ بہت سے علاقوں پر بھی اپنا کنٹرول قائم کیا ہے۔ مذکورہ کارروائیوں میں دشمن کے سیکٹروں اہل کار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ اسی طرح بھاری مقدار میں ہتھیار بھی غنیمت میں ملے ہیں۔

الخندق آپریشن کے سلسلے میں مجاہدین کی مؤثر کارروائیوں نے دشمن کو ذہنی طور پر ہراساں کر رکھا ہے۔ کابل انتظامیہ کی فوج، پولیس اور لیویز اہل کاروں نے مجاہدین کے سامنے ہھتیار ڈالنے اور سرنڈر ہونے کا اعلان کیا ہے۔ بڑے پیمانے پر ہتھیار، فوجی گاڑیاں اور گولہ بارود مجاہدین کے حوالے کیا ہے۔ انہوں نے ماضی میں کابل انتظامیہ کے ساتھ کام کرنے پر ندامت کا اظہار کیا ہے۔ وہ مستقبل میں مجاہدین کے ساتھ شانہ بشانہ اسلام اور ملک کے دفاع کے لیے دشمن کے خلاف جہاد میں حصہ لینے کے لیے پرعزم ہیں۔

کابل انتظامیہ نے ابتدا ء حسب سابق الخندق آپریشن کو پروپیگنڈا قرار دیا۔ بعدازاں اس نے بہت جلد یہ اعلان کیا کہ وہ الخندق آپریشن کی روک تھام کے لیے  اقدامات اٹھانے کی پالیسی وضع کرے گی۔ الخندق آپریشن کے آغاز پر کچھ پارلیمنٹ ارکان نے کہا تھا کہ طالبان نے الخندق آپریشن شروع کرنے کے بعد دس اضلاع پر قبضہ کیا ہے۔ جب کہ فوج اور پولیس کے کئی اہل کار بھی بڑی تعداد میں ہلاک ہوئے ہیں۔

الخندق آپریشن کی کامیاب کارروائیوں کے نتیجے میں دشمن کے گرد گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے۔ مجاہدین کے حملوں کے خوف سے دشمن اہل کار ضلعی مراکز میں تحفظ کہ تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ دوسری طرف مجاہدین نے پہلے ہی سے بڑے شہروں میں اپنے گروپوں کو منظم کر دیا ہے۔ جس میں دشمن کے اہم حکام کو نشانہ بنایا جائے گا۔ فدائی حملوں کے ذریعے دشمن کے بڑے اور اہم فوجی اور جاسوس مراکز کو نشانہ بنایا جائے گا۔

الخندق آپریشن کی بدولت دشمن خوف زدہ ہے۔ اس کا باہم اعتماد ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دشمن فوجی ذہنی طور پر مایوسی کا شکار ہیں۔ جب کہ غیور مجاہدین اللہ تعالی کی مدد اور عوام کی حمایت سے مطمئن ہیں۔ اس لیے وہ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ الحمدللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*