قیدیوں پر ظلم کی انتہا

آج کی بات

 

یہ پہلی بار نہیں ہے کہ کابل انتظامیہ کے زیر کنٹرول پل چرخی جیل میں مظلوم قیدی بھوک ہڑتال کرتے ہیں ۔آج تقریبا نو دن گزرے ہیں کہ پل چرخی جیل میں گیارہ ہزار قیدیوں نے بھوک ہڑتال شروع کی ہے ، کچھ کھایا ہے اور نہ پیا ہے ، یہاں تک کہ کچھ بزرگ اور بیمار قیدی حالت کوما تک پہنچ گئے ہیں ، ان میں سے اکثر کی حالت غیر ہو گئی ہے ، ہر لمحہ اسی فیصد یہ خوف پایا جاتا ہے کہ ایک بڑا بحران سامنے آئے ، سوشل میڈیا پر قیدیوں کی تصاویر شائع ہو گئیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ قیدیوں نے غیر قانونی مطالبے نہیں کئے بلکہ انہوں نے اپنے ان حقوق کا مطالبہ کیا ہے جو افغانستان کے آئین میں قیدیوں کو دیئے ہیں ۔

سوشل میڈیا پر قیدیوں کی جانب سے شائع ہونے والے خط میں ان کے مطالبات درج ہیں جن میں کوئی بھی مطالبہ غیر قانونی نہیں ہے بلکہ انہوں نے لکھا ہے کہ: (ہم قانون شکنی نہیں کرنا چاہتے ہیں، بلکہ ہم قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے اپنے مسائل کا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں ۔

قیدیوں نے بھوک ہڑتال اس لئے نہیں کی ہے کہ وہ جیل میں مقررہ قوانین کو توڑنا چاہتے ہیں بلکہ وہ ان اصولوں اور قوانین کی روشنی میں کابل انتظامیہ، غیر ملکیوں اور دیگر امدادی اداروں تک اپنے مطالبات کی آواز پہنچانا چاہتے ہیں ۔

قیدیوں نے جو مطالبات پیش کئے ہیں ان میں کوئی بھی ایک مطالبہ ایسا نہیں ہے جو قیدیوں کے لئے کابل حکومت کے اصولوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق نہ ہو۔

قیدیوں کے مطالبات ایسے ہیں کہ جن کو حل کرنا کابل انتظامیہ ، غیر ملکی حملہ آوروں اور انسانی حقوق کے اداروں کے لئے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔

مثال کے طور پر: سال کے دوران مخصوص ایام کے موقع پر صدر کی طرف سے قیدیوں کی سزا میں کمی کا جو فرمان جاری ہوتا ہے وہ بلا امتیاز تمام قیدیوں کے لئے ہونا چاہیے ، فی الحال سیاسی قیدی اس طرح کے فرمان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے ۔

اسی طرح قیدیوں کا ایک مطالبہ یہ بھی ہے کہ ناقابل علاج مرض میں مبتلا اور بوڑھے قیدیوں کی سزا میں کمی اور معافی کا جو اعلان کیا گیا ہے اس حکم نامے پر اب تک عمل درآمد نہیں ہو اہے لہذا اس حکم پر عمل درآمد کرنا چاہیے ۔

وہ مطالبہ کرتے ہیں کہ قانون کے مطابق قیدی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مدت مکمل کرنے کے بعد بقیہ مدت اپنے صوبے کی جیل میں مکمل کریں گے لیکن ابھی وہ مرکزی جیل پل چرخی میں قید ہیں اور اپنے صوبوں کو منتقل نہیں کیا ہے ۔

اسی طرح خط میں جو مطالبات انہوں نے لکھے ہیں ان میں کوئی بھی مطالبہ غیر قانونی نہیں ہے ۔ تاہم کابل انتظامیہ جو بین الاقوامی انسانی اصولوں کے مطابق چلنے کی دعویدار ہے ، وحشیانہ طریقے سے قیدیوں کے ساتھ سلوک کرتی ہے ، ایسا لگتا ہے کہ غزنی میں شکست کا بدلہ ان مظلوم قیدیوں سے لیا جاتا ہے

جس کے باعث قیدیوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں ۔

بدقسمتی سے اس انسانی جرم پر کابل انتظامیہ اور بین الاقوامی انسانی تنظیموں نے مکمل خاموشی اختیار کی ہے جس کی وجہ سے جیل میں مظلوم قیدیوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ انسانی حقوق کے علمبردار ادارے اب تک خاموش ہیں جبکہ برعکس مجاہدین کو بدنام کرنے کے لئے دن رات پروپیگنڈے کرتے ہیں کہ مجاہدین انسانی حقوق کا خیال نہیں رکھتے ، حالانکہ قیدیوں کے ساتھ مجاہدین کا حسن سلوک دنیا کے سامنے ہے کہ مجاہدین کس طرح قیدیوں کے ساتھ انسانی اور اسلامی سلوک کرتے ہیں ۔

کابل کے پلچرخی جیل کے قیدیوں کے ساتھ جو ظلم روا رکھا گیا ہے اور ان کے جائز حقوق سے بھی انہیں محروم کیا گیا ہے،اس لئے قیدیوں نے مجبور ہوکر بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ، اگر قیدیوں کے ساتھ یہ سلوک غیر ملکی قابض افواج اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے تحت نہیں ہوتا تو پھر کیوں کابل انتظامیہ سے پوچھ گچھ نہیں ہوتی ۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*