پکتیا، غور، لوگر اور کنڑ میں 52 اہلکار اسلحہ سمیت سرنڈر

کابل انتظامیہ کے درجنوں سیکورٹی اہلکاروں نے پکتیا، غور، لوگر اور کنڑ  صوبوں میں امارت اسلامیہ کے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔

اطلاعات کے مطابق صوبہ پکتیکا ضلع وازیخوا کے رہائشی 25 پولیس اہلکاروں نے حقائق کا ادراک کرتے ہوئے مخالفت سے دستبردار ہوئے، جن میں شاہ ولی ولد شیردل، شاہ محمد ولد محراب، بادشاہ خان ولد عبدالخالق، روزی محمد ولد فاتح، شکور ولد عبدالحکیم، بران ولد حاجی کونڈئے، محمدنور ولد اخترمحمد، شیرخان ولد تاج محمد، عبداللہ ولد محمدیار، عصمت اللہ ولد اخترجان، شروع ولد شیردل، رحیم اللہ ولد گل خان، اکبرخان ولد شربت، صدیق ولد محمدخان، محی الدین ولد کریم، روزی خان ولد شائستہ خان، اندڑ ولد اکبر خان، عبدالمالک ولد دیموع، نور ولد لعل، سیف الدین ولد محمد مدین، جلا ولد سروان خان، قیمت خان ولد احمدخان عبدالحکیم ولد عبداللہ، محمداکبر ولد محمدحکیم اور زین الدین ولد اجمل شامل ہیں۔

صوبہ غور سے اطلاع ملی ہےکہ گذشتہ تین روز سے ضلع ساغر کے شباغان، اسفیاسنگ، بوٹی، بری زئی کے علاقوں میں دو کمانڈروں عبدالاحد  اور مولوی عبدالحق نے مجاہدین کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، جنہوں کا فی مقدار میں ہلکے و بھاری ہتھیار بھی مجاہدین کے حوالے کردیے۔

واضح رہےکہ مذکورہ علاقے 1000 ایک ہزار گھروں پر مشتمل ہے۔

دوسری جانب صوبہ لوگر ضلع محمدآغہ کے رہائشی پانچ افغانی فوجیوں گل علیم ولد محمدقاسم، یارمحمد ولد اختر محمد، گل ولد خیال محمد، عبداللہ خان ولد احمدزئی اور شعیب ولد محمد شریف نے مخالفت سے دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے مجاہدین سے آملے ،جبکہ صوبہ کنڑ ضلع وٹہ پور کے باشندوں دو فوجیوں نجم الدین ولد حبیب اللہ اور خان محمد ولد جان محمد مجاہدین سے آملے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*