کابل انتظامیہ ہی امن دشمن ہے

آج کی بات

 

امریکا کی کٹھ پتلی افغان حکومت کی جانب سے امن کے جھوٹے نعرے اور دعوے کیے جا رہے ہیں۔ جن میں یہ تأثر دیا جا رہا ہے کہ ’وہ امن کے خواہش مند  اور طالبان امن کے مخالف ہیں۔‘ حقیقت یہ ہے کہ جب بھی امن کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جاتے ہیں اور فریقین کے مؤقف کو جاننے کی کوشش کی جاتی ہے تو کابل انتظامیہ اپنے آقا کے کہنے پر ان اقدامات کی روک تھام کی کوشش کرتی ہے۔ قطر میں امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے قیام کی مخالفت بھی سب سے پہلے افغان حکومت نے کی تھی۔ بعدازاں  مختلف ممالک میں امن کانفرنسوں میں امارت اسلامیہ کے وفد کی شرکت کی مخالفت کی گئی اور امارت اسلامیہ پر الزام لگایا گیا کہ وہ امن کانفرنسوں میں شرکت نہیں کرتی۔

حال ہی میں روس نے افغان تنازع کے حل کے لیے ماسکو میں امن کانفرنس کا اہتمام کیا تھا، جس میں امارت اسلامیہ کو بھی باضابطہ طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ امارت نے شرکت کی یقین دہانی بھی کرائی تھی، لیکن کابل انتظامیہ کا متزلزل مؤقف کئی بار تبدیل ہوا۔ جب واشنگٹن کا مؤقف سامنے آیا تو کابل انتظامیہ نے بھی فورا اعلان کر کے مذکورہ کانفرنس میں شرکت سے انکار کر دیا۔ چوں کہ ماسکو کانفرنس امریکی ایما پر ہونے والی کانفرنسوں کی نسبت زیادہ مؤثر اس لیے قرار دی جا رہی  تھی کہ اس میں افغان تنازع کے اہم فریق امارت اسلامیہ کو بھی باضاطہ طور پر شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ جب کہ امارت نے بھی شرکت کی یقین دہانی کرائی تھی۔ اس کانفرنس میں کابل انتظامیہ اپنی عدم شرکت کو سیاسی خودکشی سمجھتی تھی۔ چوں کہ امریکا کا حکم تھا، اس لیے اس نے شرکت سے معذرت کر لی۔ افغان انتظامیہ نے بعدازاں  روسی حکام سے اس کانفرنس کو غیرمعینہ مدت تک ملتوی کرنے کی اپیل بھی کر دی۔

چناں چہ اشرف غنی نے روسی وزیر خارجہ کو فون کرکے ان سے مطالبہ کیا کہ وہ کچھ وقت کے لیے یہ کانفرنس ملتوی کر دیں۔ اگرچہ ایوان صدر کے ترجمان نے وضاحت کی کہ مزید تیاری کے لیے اجلاس کو مؤخر کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم ترجمان وزارت خارجہ نے ایوان صدر کے ترجمان سے مختلف تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کابل انتظامیہ ایسی کانفرنس میں شرکت نہیں کرے گی، جس میں طالبان کو ایک فریق کے طور پر مدعو کیا گیا ہو۔‘ اس سے واضح ہوتا ہے کہ کابل انتظامیہ کبھی بھی حقیقی امن کے حق میں نہیں ہے۔ کابل انتظامیہ صرف امریکی فرمائشوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ استعماری پالیسی کے پیشِ نظر امریکا کی جانب سے جو حکم آتا ہے، کابل انتظامیہ اس پر مِن و عَن عمل درآمد کو یقینی بنانے کی ذمہ داری نبھاتی ہے۔ وہ افغان تنازع کے حل کے حوالے سے سنجیدہ ہے اور نہ ہی وہ اس کے حل کی ضرورت محسوس کرتی ہے۔

ماسکو اجلاس میں امارت اسلامیہ کے نمائندہ وفد کی شرکت نے یہ ثابت کر دیا کہ امارت اسلامیہ ملک کے بحران کے حل کے لیے سنجیدہ کوششوں پر یقین رکھتی ہے۔ کابل انتظامیہ پہلے تزلزل کا شکار تھی۔ پھر امریکی اعلان کے بعد انکار اور اب کانفرنس کو ملتوی کرنے کے لیے جدوجہد کرتی دکھائی دی۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کابل انتظامیہ ہی امن کی راہ میں رکاوٹ اور امن دشمن ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*