کابل انتظامیہ اور سقوط کا بحران

استعمار کی زیرحمایت کٹھ پتلی انتظامیہ کے متعلق چند سال قبل سیاسی امور کے ایک تجزیہ نگار نے کہا تھا کہ کابل رژیم اس کمزور بچے کی طرح ہے ، جو کسی اور شخص کے سہارے  خود کو سنبھال کر  بہت تکلیف سے لرزدہ قدم اٹھاتا ہے، اگر اس سے اجنبی سہاراہٹا  لیا جائے، تو فورا گر جاتاہے۔

اشرف غنی کی زیرقیادت کٹھ پتلی انتظامیہ اب اسی بحران میں اوجھلی ہوئی ہے،حتی کہ حالیہ دنوں میں رژیم کے خلاف موجودہ چیلنجوں میں مزید اضافہ ہوا ہے اور صدارتی محل کی حکمرانی کی ستونیں لرز رہی ہیں۔

استعمار اور اس کے کٹھ پتلی انتظامیہ کے خلاف موجودہ جہاد کی قوت و شدت کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ ملک کے تقریبا سترفیصد 70٪ اراضی پر امارت اسلامیہ کا کنٹرول ہے، درجنوں ضلعی مراکز، قصبات اور اہم شاہراہوں سے کٹھ پتلی انتظامیہ کا صفایا کروایا گیااور اب مجاہدین صوبائی مراکز پر حملے کررہے ہیں۔ فراہ اور غزنی کی طرح صوبائی مراکز کا سقوط، دشمن کی افواج کی مسلسل ہلاکتیں اور میدان جنگ میں ناتوانی وہ کچھ ہیں،  جو فوجی میدان میں کٹھ پتلی رژیم کو کمزور ثابت کررہا ہے۔

کٹھ پتلی انتظامیہ کے اندر بے اعتمادی اور داخلی کشمکش کا بحران گہرا تر ہوتاجارہا ہے۔ حالیہ دنوں میں سیکورٹی امور میں اشرف غنی کے مشیر  حنیف اتمر کا استعفی  اور اس کے ساتھ  داخلہ و دفاع  وزراء اور مرکزی خفیہ ادارے کے سربراہ کے استعفی پیش کرنا وہ کچھ ہیں، جو کٹھ پتلی انتظامیہ کے اندر گہرے نزاع سے پردہ اٹھا رہا  ہے اور رژیم کے  سقوط کے منصوبے کو عیاں کررہا ہے۔

حالیہ مہینوں میں امریکی استعمار اور اشرف غنی انتظامیہ نے مشترکہ منصوبہ بنایا کہ دیہی علاقوں سے اپنی افواج کو نکال کر صرف شہروں کی حفاظت پر توجہ زیادہ  رکھے، تاکہ اپنی نقصانات کم کرنے پر قادر ہوجائے۔ مگر چند روز قبل کابل شہر کے وسط میں عزیزاللہ کاروان نامی معروف کمانڈر  ، جنرل زلمئی وردک  اور دو فوجی پائلٹوں کی قتل نے ثابت کردیا کہ شہر کے اندر بھی کٹھ پتلی انتظامیہ کی حالت بوسیدہ ہوچکی ہے اور حتی سب سے اہم افراد کا تحفظ بھی نہیں کرسکتی۔

سیاسی میدان میں امارت اسلامیہ کے سنجیدہ اور بامفہوم سفارتی سرگرموں نے کٹھ پتلی انتظامیہ کے عالمی اعتبار کو بھی چیلنچ سے روبرو کر رکھا ہے۔ یہ کہ اب مختلف ممالک کے بیرونی سیاستدان  اور اعلی سفارت کار امارت اسلامیہ کے نمائندوں سے براہ راست مذاکرات کررہے ہیں  اور امارت اسلامیہ کو افغان تنازعہ میں اصلی اور اہم جہت سمجھتی ہے، وہ حقائق ہیں، جس نے اشرف غنی کی قیادت میں کابل کٹھ پتلی انتطامیہ کو  انزوا کی جانب دھکیل دی ہے۔

امارت اسلامیہ کو یقین ہے کہ کابل انتظامیہ کے تزلزل اور سقوط کے بنیادی اسباب یہ ہیں کہ اس رژیم کا اسلامی اور افغانی صبغہ نہیں ہے۔ عوامی اکثریت اور حمایت سے محروم ہے، کابل انتظامیہ صرف ایک مسلط کردہ رژیم ہے، جو جدید اسلحے، ڈالر اور پروپیگنڈے کی طاقت پر افغان ملت پر مسلط کی جاچکی  ہے۔ تاریخی تجربات نے ثابت کردیا کہ اس طرح اجنبی پاؤں پر کھڑے اداروں کی بقاء کا چانس نہیں ہے، بلکہ اس کے بوسیدہ ہونے کا امکان  اور باور ہر لمحہ رہتا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*