افغانستان کا ناکام مشن جنرل ملر کے سپرد

آج کی بات

 

رپوٹس کے مطابق ٹرمپ نے افغانستان میں ناجائز جارحیت اور گمبھیر جنگ کو مزید طول دینے کے لیے شکست خوردہ اور ذلیل جنرل ’نکلسن‘ کے بجائے جنرل سکاٹ ملر کو مقرر کیا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز بگرام میں باضاطہ طور چارج سنبھالا۔ جنرل ملر کو پینٹاگون اور امریکی میڈیا نے مسلمانوں اور مظلوم اقوام کے خلاف سخت گیر مؤقف رکھنے کے ساتھ ظلم اور سربریت کے لحاظ سے سنگ دل قرار دیا ہے۔ انہیں توقع ہے کہ موصوف نکلسن کی نسبت کامیاب کردار ادا کریں گے۔

17 سالوں کے دوران ملر امریکا کا 9واں جنرل ہے۔ جسے افغانستان بھیجا گیا ہے۔ ہر جنرل کے انتخاب اور تعیناتی کے بعد امریکی میڈیا اور مقامی ایجنٹ کوشش کرتے ہیں کہ نو منتخب جنرل کو سابقہ جرنیلوں کی نسبت زیادہ تجربہ کار، جنگی ماہر اور بہادر متعارف کروائیں۔ تاہم کچھ مدت گزرنے کے بعد نئے جنرل کے تمام دعوؤں کی قلعی تب کھل جاتی ہے، جب افغان بہادر قوم اور امارت اسلامیہ کے سربکف لشکر کی تلوار سے انہیں شدید اور تاریخی چینلج اور شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کے تمام حربے اور شیطانی منصوبے خاک میں مل جاتے ہیں۔

حال ہی میں کابل سے شائع ہونے والا روزنامہ زلاند نے افغان انٹیلی جنس کے سابق سربراہ معصوم ستانکزئی کے حوالے سے لکھا ہے کہ انہوں نے امریکی فوج کے ساتھ مل کر گزشتہ سترہ برس کے دوران اپنی تمام طاقت اور اخراجات کے ساتھ کوشش کی ہے کہ طالبان تقسیم کریں۔ ان میں دراڑ پیدا کریں۔ انہیں اعتدال پسند اور شدت پسند کے نام پر تقسیم کریں۔ ان کی قیادت میں اختلافات پیدا کریں۔ تاہم ستانکزئی کے بقول ہمارے اور امریکیوں کے یہ تمام حربے ناکام ثابت ہوئے۔ مزید یہ کہ ہمارے خلاف استعمال ہوئے اور نتیجہ یہ نکلا کہ طالبان اب افغانستان کے تمام علاقوں میں حملے کر رہے ہیں۔ ان کا وسیع علاقوں پر کنٹرول ہے۔ کابل انتظامیہ کے درمیان عدم اعتماد کی فضا قائم کی ہے۔

ماہرین کے مطابق نئے امریکی کمانڈر کو کہا جانا چاہیے کہ ان سے قبل بش، اوباما اور ٹرمپ نے 8 مشہور جرنیلوں کو نیٹو کے بے شمار تجربہ کار جرنیلوں کے تعاون سے اپنی مکمل قوت کے ساتھ استعمال کیا، لیکن ذلت اور ناکامی کے علاوہ کچھ حاصل نہیں کو سکا۔ جنرل نکلسن نے فضائی حملوں، ڈرون حملوں، مادر بم سمیت نیم جوہری بم افغانستان میں استعمال کیے۔ مختلف ہتھیاروں کا تجربہ کیا۔ صرف گزشتہ چھ ماہ کے دوران امریکی فوجیوں نے مظلوم افغانوں پر 3000 سے زائد مہلک بموں کی بارش کی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مجاہدین پہلے ایک ضلع فتح کرنے کے لیے ایک ماہ اور کئی ہفتوں تک انتظار کرتے تھے۔ اب اللہ کی مدد سے چند گھنٹوں میں فراہ اور غزنی جیسے بڑے اور اسٹریٹجک صوبوں کو فتح کرتے چلے جا رہے ہیں۔

اگر جنرل ملر چاہتے ہیں کہ امریکا کے سابقہ ناکام جرنیلوں کی فہرست میں شمار نہ ہوں تو افغان عوام کے ساتھ پنجہ آزمائی اور مقابلہ کرنے کے بجائے عقل اور شعور سے کام لیں۔ صرف یہ سوچیں اور غور کریں کہ افغانستان سے کس طرح باحفاظت واپسی ممکن ہے اور امریکا کو ابدی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے، جب افغانستان غیرملکی قوتوں کا قبرستان مشہور ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*