امریکی جرنیلوں کے فرار کا تماشا

آج کی بات

 

حملہ آوروں نے افغانستان میں اپنے سابق کمانڈر جنرل نکولسن کو سبک دوش اور جنرل اسکاٹ ملر کو تعینات کیا  ہے۔ حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ نے نئے جنرل کی تقرری کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس ذمہ داری میں کامیاب ہوں گے۔ ملر نے کٹھ پتلی حکومت کے دونوں رہنماؤں کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ملاقات کی۔ اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ نے جنرل ملر کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے امریکا کا شکریہ ادا کیا کہ جنرل ملر جیسے پیشہ ور (قاتل) جنرل کو افغانستان میں مقرر کیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا نے جنرل ملر کے بارے میں لکھا ہے:

’وہ ایک پیشہ ور کمانڈر ہیں۔ انہوں نے پہلے بھی افغانستان میں خدمات انجام دی ہیں۔ رات کے چھاپوں میں خصوصی تجربہ رکھتے ہیں۔ جنرل ملر نے افغانستان میں رات کے چھاپوں کی قیادت کی ہے۔ رات کے چھاپے افغان قتل عام کا وہ منصوبہ اور تکنیک ہے، جس بارے کابل انتظامیہ نے بھی کہا ہے کہ رات کے چھاپوں میں زیادہ تر متاثرین عام شہری ہیں۔‘

امریکی میڈیا اپنے جرنیلوں کے بارے میں اکثر مبالغہ کرتا ہے۔ ہر نئے جنرل کو سابق کے مقابلے میں تجربہ کار، جرأت مند، پیشہ ور اور افغانستان کی صورت حال سے واقف کے طور پر متعارف کروایا جاتا ہے، لیکن نیا جنرل سابقہ جرنیلوں سے زیادہ ڈرپوک، ناتجربہ کار اور افغانستان سے ناواقف ثابت ہوتا ہے۔ امریکی کمانڈر بھی اپنے میڈیا سے کم نہیں ہیں۔ ہر نیا کمانڈر چارج سنبھالنے کے بعد ایسے بلند و بانگ دعوے کرتا ہے،جیسے افغانستان کی تسخیر اور جہادی مزاحمت کو کچلنا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ جنرل نکلسن نے چارج سنبھالنے کے موقع پر کہا تھا کہ 2018 تک افغانستان کے اسی فیصد حصے پر حکومتی کنٹرول مضبوط کریں گے۔ تاہم اس کے برعکس مجاہدین کے زیرکنٹرول علاقوں کا دائرہ اسی فیصد تک پھیل گیا۔ جنرل نکلسن نے اشرف غنی کے اصرار پر رات کے چھاپے، ڈرون اور فضائی حملے بڑھائے تھے۔ ان حملوں میں زیادہ تر عام شہری نشانہ بنے۔خاص طور پر خواتین اور بچے شہید ہوئے۔ عام شہریوں کے مکانات اور دکانوں کو تباہ کر دیا گیا۔

امریکا اور نیٹو نے جارحیت کے بعد افغانستان میں متعدد جرنیلوں کو تبدیل کیا ہے۔ حتی کہ 9 جرنیلوں کو جنرل کمانڈر کے طور پر مقرر کیا گیا۔ ان میں سے ہر ایک نہایت بزدل اور ناکام ثابت ہوا۔ جنرل ملر جتنے بھی بلند وبانگ دعوے کریں، تاریخ اور تجربے نے ثابت کیا ہے کہ موصوف بھی اپنے پیش روؤں کے نقش قدم پر چلیں گے۔ بین الاقوامی دنیا اور افغانوں نے افغانستان سے امریکا کے دس جرنیلوں کے فرار کا تماشا دیکھا ہے۔ دنیا اب جنرل ملر کے فرار کا انتظار کر رہی ہے۔ امریکا کو چاہیے وہ افغان جنگ روک لے۔ اپنی فوج کو واپس بلائے۔ افغان عوام کو اپنی مرضی کے مطابق نظام قائم کرنے کا موقع دیا جائے۔ جرنیلوں کو تبدیل کر کے امریکی عوام اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے سے گریز کیا جائے۔ افغان عوام جنگ زدہ ہیں۔ وہ امن کے متلاشی ہیں۔ افغانوں نے امریکا اور یورپ پر حملہ نہیں کیا، بلکہ انہوں نے ہماری دھرتی پر حملہ کیا ہے۔ ہماری مقدس اسلامی اورملی اقدار کی توہین کی ہے۔ ہمارا خون بہایا ہے۔ ہم اسلامی اور ملی اقدار کے تحفظ اور ریاستی خودمختاری کے لیے حملہ آوروں کے خلاف جہاد کر رہے ہیں۔

اے حملہ آورو! آپ کیا سوچتے ہو کہ آپ کا 9واں جنرل ہمارے سامنے ڈٹ سکے گا؟!

ایں خیال است و محال است و جنون

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*