پُل چرخی جیل میں غیرانسانی سلوک

آج کی بات

پل چرخی جیل میں ایک بار پھر کابل انتظامیہ نے قیدیوں کو گرفتار کرنے، مارپیٹ اور اور ان پر تشدد کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ مذکورہ جیل میں وقتا فوقتا قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیے جانے کی خبریں منظرعام پر آتی رہتی ہیں۔ حتی کہ بعض اوقات قیدیوں کی شہادت کی خبریں بھی شائع ہوئی ہیں۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ ابھی تک انسانی حقوق کی کسی ایک تنظیم نے بھی قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کی روک تھام کی کوشش نہیں کی ہے۔ گزشتہ روز بھی اسی جیل میں ایک قیدی ’قلم شاہ ولد برکت شاہ‘ شدید بیماری کی وجہ سے دم توڑ گیا۔ گزشتہ ایک سال کے دوران پل چرخی جیل میں خراب صورت حال اور غیرانسانی سلوک کی وجہ سے 100 سیاسی اورمجرم  قیدی مختلف بیماریوں کی وجہ سے چل بسے۔ مریض قیدیوں کے ساتھ کابل انتظامیہ کے رویے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی ہے۔ متعدد بیمار قیدی بھی مہلک اور متعدی امراض میں مبتلا ہیں۔ اگر ان کے علاج پر توجہ نہ دی گئی تو خدا نخواستہ وہ بھی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔

پل چرخی جیل کے علاوہ قابض فورسز اور کابل انتظامیہ کی تمام جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ کوئی قانون اور اصول نہیں، جس کے تحت قیدیوں کے ساتھ جیلوں میں نظم اور ڈسپلن ہو۔ کم از کم انسانی سلوک پر مبنی کوئی چال چلن ہو۔ قابض فورسز اور کابل انتظامیہ کی جیلوں میں اکثر قیدی بے قصور ہیں۔ بالخصوص ان میں بیشتر سیاسی قیدی  محض شک کی بنیاد پر حراست میں لیے گئے ہیں۔ وہ کئی سال تک کسی عدالتی حکم کے بغیر جیلوں میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرتے ہیں۔ مذکورہ قیدیوں میں کم عمر بچے اور اسی سال سے زیادہ عمر کے بزرگ بھی موجود ہیں۔ امارت اسلامیہ کی جیلوں میں دشمن کے سیکڑوں اہل کار قیدی ہیں۔ ان کے ساتھ مکمل اسلامی اور انسانی سلوک کیا جاتا ہے۔ ان کے علاج، کھانے پینے اور دیگر اشیائے ضروریہ کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ ابھی عیدالاضحی کے موقع پر امیر المؤمنین کے حکم پر سیکڑوں قیدی رہا کیے گئے۔ ان کو نہایت احترام کے ساتھ جیلوں سے رہا کر کے اپنے گھروں تک باحفاظت پہنچانے کا اہتمام کیا گیا۔ دشمن نے قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک اور منفی رویہ اختیار کرنے میں پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ انسانی حقوق کی دھجیاں اڑانے والا یہی دشمن انسانی حقوق کی حفاظت کی بات کرتا ہے۔ مختلف پہلوؤں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے الزامات لگاتا ہے۔

امارت اسلامیہ قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کی مذمت کرتی ہے۔ قیدیوں کے اسلامی اور انسانی حقوق کی پاس داری کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔ انسانی حقوق کی تمام تنظیموں اور کارکنوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری ادا کریں۔ خاص طور پر پل چرخی جیل کی موجودہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے مکمل اور فوری کوشش کریں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*