مسعود کی برسی اور غداران قوم

آج کی بات

 

گزشتہ 17 برسوں کے دوران ہر سال احمدشاہ مسعود کی برسی کے موقع پر لویہ جرگہ کے لیے ایک اجتماع منعقد کیا جاتا ہے۔ اس میں چند دیگر سابق جہادی کمانڈروں کی تصاویر نصب آویزاں کرنے کے ساتھ جنگجو کمانڈر احمد شاہ مسعود کے کردار اور ان کی خدمات پر انہیں خراج عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ دیگر مقررین کے علاوہ نیٹو کے سب سے بڑا مفتی ‘سیاف’ بھی مذکورہ اجتماع سے چاپلوسی، فریب اور مذہبی تحریف سے بھرپور خطاب کرتے ہیں۔

ہم یہ بات بڑی جرأت اور صراحت کے ساتھ کریں گے کہ سوویت یونین اور کمیونسٹوں کے خلاف مقدس جہاد اور معرکے میں تمام افغانوں نے نسلی اور لسانی تفریق کے بغیر اہم کردار ادا کیا تھا۔ کانفرنس ہال میں مجاہدین اور جہادی کمانڈروں کے نام سے جو تصاویر اور پوٹریٹ نصب کیے جاتے ہیں، ان میں چند اشخاص کے علاوہ باقی سب داغ دار چہرے ہیں۔ انہوں نے افغان عوام کے مقدس جہاد کے ثمرات کو خاک میں ملایا ہے۔ روس اور کمیونسٹوں کے ساتھ جہاد کے اہداف پر سمجھوتہ کیا ہے۔ سوویت یونین کی شکست کے بعد افغانستان میں خانہ جنگی کا نیا دور شروع کیا گیا۔ ہزاروں معصوم لوگوں کا قتل عام کیا گیا۔ ملک کو تقسیم کرنے کے لیے سازشوں کا جال بچھایا گیا۔ افغانستان کے قومی اثاثے لوٹے گئے۔ جب طالبان تحریک کا سورج طلوع ہوا تو ملک میں امن، استحکام اور قومی یکجہتی کو فروغ دینے کے علاوہ اسلام کا عادلانہ نظام نافذ کیا گیا۔

ان مجرموں نے امریکا اور یورپ کے دورے کیے۔ انہوں نے مغرب سے یہ کہہ کر کہ ‘افغانستان میں مکمل اسلامی نظام نافذ ہے۔ ممکنہ طور پر اس کا دائرہ امریکا اور مغرب تک وسیع ہو سکتا ہے۔ لہذا افغانستان ہی میں اس کا راستہ روکنا چاہیے۔’

یہی وجہ تھی کہ افغانستان کو امریکا، نیٹو اور تمام طاغوتی قوتوں کے حوالے کیا گیا۔ ان جرائم پیشہ عناصر ان کے لیے فوجیوں اور جاسوسوں کا کردار ادا کیا۔ 17 برس تک استعماری قوتوں کو ملک پر قابض رکھا۔ دیگر نقصانات کے علاوہ پانچ لاکھ مظلوم افغان شہریوں کا قتل عام کیا گیا۔ عملی کفر اور لادینیت کو افغانستان میں پروان چڑھایا۔ گزشتہ روز احمد شاہ مسعود کی برسی کے موقع پر سیاف نے اجتماع سے کابل کی امریکی انتظامیہ پر صرف یہ تنقید کی کہ ‘بینکوں میں سود کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور شہروں میں فحاشی کو فروغ ملا ہے۔’

مطلب سیاف سمیت خود کو جہاد کا ٹھیکے دار سمجھنے والے کسی بھی مقرر نے سود، فحاشی و عریانی، عصمت فروشی، ایڈز، نسلی، مذہبی اور لسانی بنیادروں پر بڑھتی ہوئی فرقہ واریت، افراتفری مختلف قسم کے بحرانوں پر کوئی بات نہیں کی۔ اس کا ذمہ دار کون ہے اور کس کے کہنے پر یہ سب کچھ ہو رہا ہے۔ صرف کابل شہر میں 300 سے زائد چرچ کس نے تعمیر کیے ہیں؟ ہر روز افغانستان کے مظلوم شہریوں پر کس کی جانب سے درجنوں بم گرائے جاتے ہیں؟

سیاف اور دیگر مقررین نے اس پر کیوں بحث نہیں کی۔ امریکا آخر کب تک افغانستان پر قابض رہے گا؟ ہماری ریاستی خودمختاری داؤ پر لگی رہے گی؟ کب تک مسائل کے حل کے تمام اختیارات جان کیری، پومپیو، جنرل نکلسن اور جنرل اسکاٹ میلر کے پاس ہوں گے؟

ظاہر ہے مسعود کی برسی کے موقع پر منعقد اجتماع میں ہر سال شرکت کرنے والے لوگ اور مقررین سب بدکردار، لٹیرے اور مجرم ہیں۔ ان کا نام لینے سے بھی افغان عوام کو تکلیف ہوتی ہے۔ سچے افغان عوام ان قومی غداروں کو احترام اور عزت دینے کے بجائے انہیں جہاد، ملک اور شہداء کے خون کا غدار کرنے سمجھتے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*