کب تک عوام سے جھوٹ بولتے  رہوگے

معروف امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے چند روز قبل ایک تجزیاتی رپورٹ میں اعتراف کیا کہ امریکی حکومتوں نے افغان جنگ کےحوالےسے مسلسل امریکی عوام سے جھوٹ بول کر غلط معلومات فراہم کرنے سے انہیں ورغلانے کی کوشش کی ہے۔

اخبار کے مطابق امریکی حکام اور ذرائع ابلاغ بار بار یہ بات دہرا رہی ہے کہ طالبان صرف 41 اضلاع پر حاکم ہیں۔ جب کہ درحقیقت ملک کے 61٪ اراضی پر طالبان کا قبضہ ہے۔ اس کے علاوہ طالبان اس پر قادر ہوچکے ہیں،کہ ملک کے اکثر اضلاع میں کابل انتظامیہ کا تسلط صرف ضلعی مراکز تک محدود  رکھے، جب کہ آس پاس رہائشی علاقے مکمل طور پر طالبان کے کنٹرول میں ہیں۔

یہ صرف وائٹ ہاؤس کے حکمران نہیں ہے کہ افغان ناکام جنگ کے حوالےسے امریکی عوام سے جھوٹ بول رہا ہے، بلکہ افغانستان کے قبضے میں شریک تمام ممالک غلط معلومات پھیلانے کی کوشش کررہی ہے ، تاکہ اس ظالمانہ جارحیت کے لیے اپنی عوام کی حمایت کو حاصل کرسکے۔

جارحیت میں ملوث ممالک کے حکام جھوٹے طریقے سے اپنی عوام کو بتلاتے ہیں کہ افغانستان میں دنیا کے خطرناک ترین باغی اکھٹے ہوئے ہیں۔ وہ انسانیت کو عظیم نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وہ انسانی حقوق کو تسلیم کرتی ہے اور نہ ہی علم اور تہذیب سے باخبر ہیں۔ جب کہ افغانستان میں استعمار کی لڑائی کسی باغی یا دہشت گرد گروہ کیساتھ نہیں ہے، بلکہ ایک مایہ ناز، باشرف اور باعظمت ملت کے خلاف ہے۔ ایسی ملت جس کی روشن ماضی اور مایہ ناز تاریخ ہے۔ افغان متدین ملت دنیا کے لیے خطرہ نہیں ہے، بلکہ تمام انسانیت کی سعادت چاہتی ہے۔  افغان عوام جنگوں اور بدامنی سے مصیبت زدہ ہے ،اپنے ملک اور دنیا بھر میں صلح کے خواہاں ہیں اور کسی کو بھی ضرر پہنچانے کا ارادہ نہیں رکھتی۔

استعماری فوجیں اور ان سے منسلک میڈیا  اگر ایک جانب افغانستان کی حالت کے متعلق میڈیا کے سامنے اپنی کامیابیوں کا دعوہ کرتی ہے،دوسری جانب ان کے اعلی حکام کا رویہ ان کے تمام ابلاغی دعوؤں پر بطلان کی لکیر کھینچتی ہے۔ اگر ایک پہلو نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی حکام افغانستان کے اکثریتی علاقوں پراپنی حاکمیت اور تسلط کا دعوہ کرتا ہے، تو دوسری جانب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس افغانستان کے غیراعلانیہ اور خفیہ دورہ کرتا ہے۔ حتی کہ بگرام سے کابل تک امریکی مرکز کا سفر  ہیلی کاپٹر اور امریکی مرکز سے صدارتی محصل تک بیلٹ پروف گاڑیوں کے قافلے کی صورت میں کیا جاتا ہے۔کابل کے گرین زون میں استعمار کا یہ بزدل سیکورٹی حالت ان کے حاکمیت اور تسلط کی سب سے واضح تصویر کو پیش کرتی ہے اور ان کی ابلاغی جھوٹ سے پردہ ہٹاتا ہے۔

امارت اسلامیہ کے افغانستان اور دنیا کی عوام اور خاص طور پر جارحیت میں ملوث ممالک کی عوام، اداروں اور مختلف طبقات کے لیے یہ پیغام ہے کہ افغانستان کی حالت کو سمجھنے اور جارحیت کو جواز دینے کے مد میں کبھی بھی استعمار کے ابلاغی بیانات اور بےبنیاد پروپیگنڈوں پر یقین نہ کریں۔ انہیں افغانستان کی حالت کی حقیقت افغان عوام سے پوچھنی چاہیے، عوام کی حریت پسندانہ جائز اور برحق داعیہ کو سن کر اس کی چھان بین کریں، تاکہ سمجھ سکے کہ افغانستان کے بارے میں استعمار نے انہیں کتنا جھوٹ بول کر  انہیں کس حد تک  اندھیرے میں رکھا ہوا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*