سیکورٹی معاہدہ اصلاح نہیں، بلکہ لغو ہوجائے

امریکی استعمار اور کابل کٹھ پتلی انتظامیہ کے درمیان سیکورٹی معاہدہ وہ نام نہاد، فریبی اور ظالمانہ قرارداد ہے، جسے امریکی غاصب افغانستان میں اپنی موجودگی اور تمام فوجی جرائم کے جواز کا سندسمجھتا ہے۔ ایسے حال میں کہ یہ قرارداد مکمل طور پر غیرقانونی، ناجائز اورایک یکطرفہ طور پر اشرف غنی انتظامیہ پر مسلط کیا گیا ہے۔ وہ انتظامیہ جو افغان عوام کی سیاسی ادارے کی نمائندگی نہیں کرسکتی، بلکہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دستخط کے ذریعے لاگو کی گئی اور تمام امور کے اختیارات استعمار کے کنٹرول میں ہے۔

امریکہ کیساتھ نام نہاد سیکورٹی معاہدہ جو شرعی، عرفی اور عقلی لحاظ سے مردود اور عالمی قوانین کے معیار  پر برابر نہیں، اس کے باوجود افغان عوام کے لیے بہت بدقسمتی، مصائب ور المیوں کا سبب بنا ہے۔ اسی معاہدے کے بنیاد پر بیرونی افواج نے افغان سرزمین اور فضاء کو غصب کررکھی  ہے،یہاں فوجی اور اینٹلی جنس گھونسلے قائم کر رکھے ہیں اور روزانہ کاروائیوں، چھاپوں اور بمباریوں کے ذریعے عوام کو جانی و مالی نقصان پہنچا رہے ہیں۔

سیکورٹی معاہدہ کی رو سے انجام ہونے والے جنگی جرائم اور مصائب میں اتنا اضافہ ہوا ہے ،حتی کہ وہ لوگ اب بھی ندامت کا اظہار کررہا ہے،جو چند سال قبل اس معاہدے کے انعقاد کے لیے مہم چلا رہا تھا۔جس طرح بیرونی جارحیت کا محوہ ہونا تمام افغان مسلمان ملت کا مطالبہ ہے، جارحیت کے جواز بخشنے والے بنیاد کو گرانے کی حیثیت سے سیکورٹی معاہدے کو لغوہ کرنا ایک ایسا عام داعیہ ہے،جس کے ہر مؤمن اور حریت پسند افغان حمایت کررہا ہے۔

افغان مجاہد ملت کے اس برحق مطالبے کی تحریف کی غرض سے چند حلقہ جات نے جستجو شروع کر رکھی ہے،کہ  سیکورٹی معاہدے کو لغوہ کرنے کے بجائے اس کرپٹ اور ظالمانہ معاہدے کی تعدیل یا اصلاح کی صدا بلند کی جائے۔ قابل یادآوری ہےکہ وہ معاہدہ جس کا بنیاد ناجائز  ہے۔جس کی سلائی کڑھائی ظلم، جبر اور لاقانونیت سے بھنا ہوا ہے،اس طرح معاہدے کی اصلاح درحقیقت ناممکن اور ظلم پہ ایک اور ظلم اور غیر قانونی عمل ہے۔

امارت اسلامیہ کو افغان مؤمن اور مجاہد عوام کے اس مؤقف سے مکمل توافق ہے کہ ظالمانہ جارحیت کی طرح استعمار کے زیرسایہ اس طرح ظالمانہ معاہدے مردود اور ناجائز ہیں،جنہیں فی الفور لغو کرنا چاہیے۔ اگر کوئی اس ظالمانہ اور کرپٹ معاہدوں کے اصلاح کا ارادہ رکھتا ہو اور اس طرح ایک بارپھر عوام کی آنکھوں میں خاک پاشی کرنا چاہتا ہے اور مزید کئی سالوں تک غاصبوں کے مظالم کے لیے راہ ہموار کریں، وہ اللہ تعالی کے سامنے مجرم اور مسؤل ہونے کے علاوہ استعمار کے تمام مظالم بھی شریک اورمساوی مجرم تصور کیے جاتے ہیں۔

گذشتہ کئی سالوں کےتجربات نے ثابت کردیا کہ سیکورٹی معاہدے کے تحت استعمار کی موجودگی نے افغان عوام اور  ملک کے لیے بربادی، تباہی، المیہ او رجرائم کے علاوہ کوئی اور ثمرہ نہیں رکھی۔افغان عوام میں مزید یہ توان نہیں ہے ،جس پر ایسے تجربات کو بار بار  کیا جائے۔ عوام جارحیت کا خاتمہ چاہتا ہے ۔اگر کوئی اپنے آپ کو مظلوم عوام کے درد میں درمند سمجھتے ہیں، انہیں مؤمن اور مجاہد عوام کا مطالبہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے اور بعد میں ان کے ہاں میں ہاں ملا دے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*