فوجداری عدالت کو دھمکی دینے سے کیا ثابت ہوتا ہے؟

آج کی بات

 

امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کو دھمکی دی ہے کہ افغانستان میں اس کے جرائم بارے تحقیقات کی اجازت نہیں دیں گے۔ وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کے مشیر ’جان بولٹن‘ نے کہا کہ اگر عالمی فوجداری عدالت نے ان کے سپاہیوں کے جنگی جرائم کی تحقیقات شروع کیں تو اسے سزا دی جائے گی۔ٍ جان بولٹن نے 11 ستمبر کو ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی فوجداری عدالت کی تحقیقات سے اپنے عوام کو بچانے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فوجداری عدالت کے ججوں اور تفتیش کاروں پر پابندی لگانے سے گریز نہیں کریں گے۔ ان کے امریکی سفر پر پابندی لگائیں گے۔ بولٹن نے ایک سینئر امریکی اہل کار کی حیثیت سے واضح کیا کہ عالمی عدالت نے امریکا، اسرائیل اور ان کے دوستوں کا تعاقب شروع کیا ہے۔ تاہم وہ غیر جانب دار نہیں رہیں گے۔

عالمی فوجداری عدالت 2002 میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کے رجسٹریشن اور تحقیقات کے لیے قائم کی گئی تھی۔ امریکا نے اس عدالت کی رکنیت حاصل نہیں کی۔ زیادہ تر ممالک نے مذکورہ عدالت کا خیرمقدم کیا اور اب اس عدالت کو 123 ممالک کی حمایت حاصل ہے۔ عالمی فوجداری عدالت نے 2017 کے اختتام میں افغانستان میں اپنی شاخ کا افتتاح کیا۔ جس نے اب تک افغانستان میں 110 سے زائد شکایات درج کی ہیں۔ امریکا خود کو بین الاقوامی سطح پر انسانی حقوق کی سرپرستی کا دعوے دار، مہذب دنیا کا سرخیل اور انصاف فراہمی کا علمبردار ظاہر کرتا ہے۔ البتہ وہ عملی طور پر نسل کشی کا سرخیل اور ظلم کا ٹھیکےدار ہے۔ اس نے دنیا بھر میں ظلم و ستم کی آگ لگائی ہے۔ لاکھوں لوگ امریکی ظلم کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ افغانستان، عراق، شام، یمن، لیبیا اور صومالیہ اس کی زندہ مثالیں ہیں ۔

مغربی میڈیا اور کابل میں جارحیت پسندوں کے وسائل پر چلنے والے ذرائع ابلاغ حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کے جنگی جرائم چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے آغاز سے لے کر اب تک مختلف مواقع پر مجاہدین کے خلاف مختلف پروگرام تیار اور شائع کیے ہیں۔ وہ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی جتنی بھی کوشش کریں، تاہم حقائق ضرور آشکارا ہوں گے۔ امریکا نے عالمی فوجداری عدالت کو سرکاری طور پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ وہ اس کے فوجیوں کے جرائم کی تحقیقات سے باز رہے۔ اس سے ثابت ہوگا ہے کہ امریکا بین الاقوامی تنظیموں اور کمیونٹیوں کو معمولی حیثیت بھی نہیں دیتا۔ وہ ایسے اداروں کو اپنے مخالفین سے نمٹنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ یہ بہت اہم ہے کہ امریکا کی جانب سے عالمی فوجداری عدالت کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دینا افغانستان میں اپنے جرائم کے ارتکاب کا واضح اعتراف ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*