نئی نسل اور ہماری اجتماعی ذمہ داری

اسلام کے پیغمبر اور انسانیت کے عظیم رہنماء حضرت محمد ﷺکے ایک مبارک حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ : ہر نومود بچہ فطری ایمان کے بناء پر دنیا میں آتا ہے ، جسے بعد میں ان کے ماں اور باپ یہودی، نصرانی اور یا مجوسی بناتا ہے۔

اس حدیث نبوی ﷺسے دو باتیں واضح معلوم ہوتی ہیں۔ ایک یہ کہ ہر بچہ فطری طور پر سالم مؤمن جنم لیتا ہے، دوسری یہ کہ بچے کے مستقبل اورعقیدے کے تعین میں والدین کی تربیت بنیادی کردار کی حامل ہے۔ یہیں سے کہہ سکتے ہیں کہ نئی نسل کی سالم تربیت اور رہنمائی والدین اور بزرگوں کی وہ ذمہ داری ہے،  اگر اسے  انجام نہ دے، تو بچوں کی گمراہی کے الزام سے اپنے آپ کو نہیں بچاسکتے۔

نئی نسل کے سالم دینی ، فکری  اور اخلاقی تربیت کی جانب توجہ ہر وقت اہم عمل تصور کیا جاتا ہے، مگر جب کھبی ایک مسلمان معاشرہ کفری جارحیت کے پنجے میں الجھی ہو،  تو استعمار نئی نسل کی گمراہی اور اپنے اصول اور اقدار سے انہیں اجنبی بنانے کی خاطر منظم منصوبے عملی کرتے رہتے ہیں،  نوجوانوں کی نظریاتی انحراف، بداخلاقی  اور فکر کو بدلنے کے لیے ہر سال لاکھوں ڈالر خرچ کرتے ہیں  اور ان کے دین، ثقافت، زبان، عادات اور اقدار سے بیزاری کی خاطر ہر قسم قسم کے پروگراموں کا انعقاد کرتارہتا ہے۔ ایسی حالت میں نوجوان نسل کی آگاہی، فکری تنویر  وغیرہ بیدار معاشرے کے بزرگ اور سنجیدہ افراد کی سب سے بڑی اور اہم ذمہ داری سمجھی جاتی ہے۔

وہ مسلمان اقوام جو انیسویں اور بیسویں صدی کے استعماری دورے میں ثقافتی لحاظ سے استعمار کے رنگ میں بدل چکے ہیں، جنہوں نے اپنے صحیح عقائد، عادات اور اقدار کو فراموش کرکے استعمار کی جانب سے مسلط کردہ اجنبی ثقافت میں ڈوب میں گئے۔اس مکمل سقوط کے بنیادی اسباب یہ تھے کہ معاشرے کے رہبروں، بزرگوں اور باخبر طبقے نے اپنی نئی نسل کو اپنے اسلامی ثقافت کی صحیح  تشریح کی اور نہ ہی اجنبی مسلط کردہ استعماری فکر کو ایک خطر کے طور پر انہیں متعارف کروایا گیا۔جس کے نتیجے میں نئی نسل نے مسلط کردہ اجنبی کلچر کو اپنا لیا اور اپنے دینی اور ثقافتی اصالت کو کھو بھیٹے۔

افغان مؤمن عوام پر اللہ تعالی کا یہ خصوصی فضل و کرم رہاہے،جس نے سابق استعماری دور سے انہیں زندہ اور سالم نکالا اور بہت شکر کا  مقام ہے کہ افغان عوام اب تک اپنے اسلامی عقائد، عادات اور ثقافت کے حامل ہیں، زبان اورلباس تک زندگی کے تمام معیارات ان کے اپنے ہی ہیں۔ مگر ہمارے ملک پر قابض استعمار جستجو کر رہی ہےکہ اپنے پروپیگنڈوں ،نمائشی پروگراموں اور مختلف النوع سازشوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے افغان نئی نسل کو اپنی اقدار اور معیارات سے اجنبی کریں۔

امارت اسلامیہ جس طرح فوجی میدان میں جارحیت کو محوہ کرنے کی خاطر مسلح جہاد کررہی ہے، تو استعمار کے  پروپیگنڈے اور فکری جارحیت کے خلاف نظریاتی جدوجہد کو بھی اپنی دینی ذمہ داری سمجھتی ہے۔  امارت اسلامیہ معاشرے کے آگاہ طبقات مثلا علماء کرام، خطباء عظام، تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام، لکھاریوں اور تمام مؤثر اشخاص کو بتلاتی ہے کہ اس تاریخی مرحلے میں اپنی ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کرو۔ افغان عوام کی نئی نسل کو استعمار کے گمراہ کن سازشوں سے آگاہ کریں، تاکہ اپنے آپ کو اس سے بچالے۔ اپنے دینی ثقافتی اصالت اور سالم کلچر کی خوبیاں نئی نسل کو تشریح کریں، اجنبی منحوس ثقافت کی خامیاں بیان کریں، تاکہ نئی نسل اپنے اس اسلامی ثقافت سے زندگی کو جاری رکھے،جو دنیا و آخرت کی کامیابی، عزت اور سعادت کا ضامن ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*