دشمن کی شکست

آج کی بات

 

آپریشن الخندق کے سلسلے میں امارت اسلامیہ کے بہادر مجاہدین کے ہلاکت خیز حملوں کے نتیجے میں حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فوج کو پسپائی کا سامنا ہے۔ دشمن شدید بوکھلاہٹ کا شکار ہے۔ دشمن کا معمول ہے کہ وہ میدان جنگ میں اپنی ناکامی چھپانے کے لیے پروپیگنڈے کا سہارا لیتا ہے۔ اس عمل سے دشمن کو کوئی فائدہ نہیں پہبچتا۔ ہر روز مجاہدین کی کامیابی کی خبریں شائع ہوتی ہیں۔ آج کی اہم خبر یہ ہے کہ مجاہدین نے صوبہ غزنی کے ضلع آب بند کے مرکز، پولیس ہیڈ کوارٹر اور آس پاس تمام دفاعی چوکیاں فتح کر کے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد حاصل کیا ہے۔

صوبہ اروزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ کے قریب ناوہ کے علاقے میں دشمن کو بھاری دھچکہ لگا ہے۔ صوبہ بلخ کے ضلع شورتیپہ کے علاقے دالی میں بھی دشمن کو شکست کا سامنا ہے۔ وہاں سے مجاہدین نے ہتھیار اور گولہ بارود غنیمت میں حاصل کیا ہے۔ مجاہدین نے قندھار کے ضلع ارغسان کے علاقے شگوگودر میں دشمن پر حملہ کیا۔ اس کے نتیجے میں کمانڈر عبدالقادر اور اس کے متعدد ساتھی ہلاک اور زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ دو ٹینک، ایک توپ، ایک مارٹر، ایک راکٹ، ایک رائفل اور بھاری مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود بھی مجاہدین کے ہاتھ لگا ہے۔

صوبہ زابل کے ضلع شہر صفا کے علاقے خورزانی بند میں مجاہدین کے حملے میں دشمن کے دو ٹینک اور تین فوجی گاڑیاں تباہ ہو گئیں۔ ان میں سوار اہل کار ہلاک اور زخمی ہوئے۔ قندوز کے ضلع قلعہ زال کے علاقے افغان مزار میں مجاہدین کے حملے میں دشمن کو بھاری جانی اور مالی نقصان ہوا۔ صوبہ جوزجان میں ضلع خم آب فتح کرنے کے بعد مجاہدین نے ضلع قرقین میں بھی دشمن کے خلاف بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کر دیا ہے۔ جس کے نتیجے میں دشمن کی تین چوکیاں، سولہ گاؤں اور ایک بندرگاہ امارت کے کنٹرول میں آ گئی ہے۔ مزید یہ کہ دشمن کا ایک ٹینک، ایک فوجی گاڑی اور مختلف قسم کے ہتھیار بھی غنیمت میں ملے ہیں۔

جن علاقوں پر امارت کی عمل داری قائم ہے۔ وہاں کے لوگ راحت کی سانس لیتے ہیں۔ امن قائم ہے۔ انصاف کا بول بالا ہے۔ چوری، ڈکیتی، انتظامی اور اخلاقی فساد، تعصب، تنگ نظری، نسل پرستی اور اقربا پروری جیسے جرائم کا باب بند ہے۔ لوگ پرامن فضا میں کاروبار کرتے ہیں۔ وہ دعا کرتے ہیں کہ یاللہ جلد پورے ملک میں ایسی فضا قائم فرما۔ لاقانونیت ختم فرما اور شرعی نظام نافذ کرے۔ 70 فیصد افغانستان پر امارت اسلامیہ کی حاکمیت ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ دشمن کو چاہیے وہ مزید ہاتھ پاؤں مارنے سے اجتناب کرے۔ باقی علاقے بھی مجاہدین کے سپرد کر دے۔ مجاہدین عوامی امنگوں کے مطابق اسلامی نظام نافذ کریں گے۔ یہی اللہ تعالی کی رضا اور اس کی مخلوق کے لیے سکون اور خوش حالی کا باعث ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*