جارحیت پسندوں کے تازہ حملے اور غلاموں کا خیرمقدم

آج کی بات

 

کہا جاتا ہے اشرف غنی اس لیے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک نہیں ہوئے کہ ٹرمپ اور ان کے چند اہم اتحادیوں نے اشرف غنی کے ساتھ ملاقات سے انکار کر دیا تھا۔ انہوں نے ایک ایسا حریف نمائندہ بھیجا، جس نے گزشتہ چار سالہ غیرقانونی مدت میں بھرپور مقابلہ، تنازعات اور زبانی لڑائیوں میں وقت گزارا تھا۔ ایک ایسا شخص، جس کے منصب کی تعریف کابل انتظامیہ کے قانون میں موجود ہے اور نہ ہی بین الاقوامی اصول میں اس کی گنجائش ہے۔

انہوں نے ڈاکٹر عبداللہ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے بھیجا۔ ڈاکٹر عبداللہ نے اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کے دوران امریکی جارحیت پسندوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ غیرملکی فوجی افغانستان میں ہماری اقدار کی حفاظت کرتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات ایک ایسے وقت کہی، جب کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں غیرملکی افواج کے فضائی حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ حملہ آوروں اور اجرتی فورسز کے حملوں اور چھاپوں میں نہتے شہریوں کے قتل عام نے ایک الم ناک صورت حال اختیار کی ہے۔

ہر روز مختلف علاقوں میں رات کے چھاپوں اور فضائی حملوں میں شہری ہلاکتوں کے الم ناک واقعات رونما ہوتے ہیں۔ جس پر انسانی حقوق کی تنظیموں نے معنی خیز خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ بدقسمتی سے یہ خوف ناک واقعات کا اول ہے اور نہ ہی آخر، بلکہ جارحیت پسند سترہ برس کی جنگی ناکامی کو چھپانے کے لیے کسی قسم کے ظلم و ستم سے گریز نہیں کرتے۔ ان کے کٹھ تپلی حکام بھی یہ بات سمجھ گئے ہیں کہ حملہ آوروں کی شکست کے ساتھ ان کا حشر بھی بھیانک ہوگا۔

اسی وجہ سے وہ پوری قوم کو دشمن سمجھتے ہیں۔ وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ تمام لوگوں کو مارنے، تشدد کا نشانہ بنانے، حراست میں لینے، ان کی تضحیک کرنے، ان کے دینی عقائد اور اقدار اور قومی مفاد پر کاری ضرب لگانے سے شاید وہ کامیابی حاصل کر سکیں۔ اس کے علاوہ ان کے نزدیک اس مسئلے کا کوئی اور حل نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے ظلم و ستم کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ انسانی ضمیر اور فطرت اس ظلم پر چراغ پا ہے۔ صلیبی جارحیت پسندوں اور ان کی کٹھ پتلیوں نے کھلم کھلا بہیمانہ تشدد اور قتل عام کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ عوام کے گھروں، مساجد، مدارس، بازاروں، کلینکس، شادی و غم کی تقریبات اور جنازوں کو بلا امتیاز نشانہ بنایا جاتا ہے۔

جارحیت  پسندوں کی عادت ہے کہ جب وہ مقبوضہ علاقوں پر کنٹرول پانے میں ناکام کوتے ہیں تو وہاں اندھی تباہی مچاتے ہیں۔ امریکا نے عراق سے بھی تب راہ فرار اختیار کی، جب وہاں پانی کے بجائے خون کی ندیاں بہنے لگیں۔ آباد شہر کھنڈرات میں تبدیل کر دیے گئے۔ اسی طرح شام کا حشر کیا ہے۔ وہاں زندہ انسانوں سے مردوں اور آباد شہروں سے تباہ شدہ شہروں کی تعداد زیادہ ہے۔

وہ افغانستان میں بھی یہی مشن جاری رکھنا چاہتا ہے۔ افغان عوام کو لامتناہی تنازعات میں جکڑ کر ملک کو خانہ جنگی کی طرف دھکیل دینا چاہتا ہے۔ وہ اس لیے اس خوش فہمی میں مبتلا ہے کہ یہاں اس کے زرخرید غلام موجود ہیں، جو اس سے زیادہ سفاک، سنگ دل اور بزدل قاتل ہیں۔ وہ مجاہدین کا بدلہ نہتے شہریوں سے لیتا ہے۔ ننگرهار، لغمان، لوگر، پکتیا، قندوز، فراہ، ميوند، میدان وردگ اور دیگر ایسے واقعات زندہ مثالیں ہیں۔ اگرچہ افغانستان کی تاریخ میں کبھی بھی ایسے پست ذہنیت غلام نہیں گزرے ہیں۔

جنتی ہمدردی وہ امریکا کے ساتھ کرتے ہیں اور جتنی دشمنی اپنی قوم سے کرتے ہیں، اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ اس کے باوجود ٹرمپ نے اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر ملاقات سے انکار کر دیا۔ اس سے واضح ہوا کہ:

«خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِينُ»

یہ لوگ دنیا اور آخرت، دونوں جہانوں میں خسارے میں رہیں گے۔

کٹھ پتلی اور حملہ آور یاد رکھیں کہ افغانستان مجاہد عوام کی دھرتی ہے۔ یہاں بہت سی متکبر قوتوں کا غرور خاک میں ملایا گیا ہے۔ امارت اسلامیہ کے سفید پرچم تلے پیغمر صلی اللہ علیہ و سلم کے پیروکاروں کی ایک منظم جہادی تحریک کامیابی کی جانب گامزن ہے۔ افغانستان استعماری قوتوں کا قبرستان ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*