ایف 35 طیارے ہمارے حوصلے پست نہیں کر سکتے

آج کی بات

 

مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا کے جدید ترین جیٹ طیارے نے افغانستان میں حملوں کا آغاز کر دیا ہے۔ میڈیا نے امریکی حکام کے حوالے سے لکھا ہے کہ ایف 35 جیٹ طیارے نے گزشتہ جمعرات کو قندھار میں طالبان کے ٹھکانے پر حملہ کیا اور پہلی مرتبہ یہ طیارہ افغانستان میں استعمال کیا گیا ہے۔ افغانستان میں نئے ہتھیاروں اور جنگی طیاروں کے استعمال سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکا اب بھی جنگ پر زور دیتا ہے۔ امن عمل کے بجائے جنگ کو ترجیح دیتا ہے۔ بدقسمتی سے امریکا نے اپنی تاریخ کی طویل جنگ سے سبق حاصل نہیں کیا۔ وہ بڑی سلطنتوں کے قبرستان میں بقا کے خواب دیکھتا اور مختلف بہانوں سے غیرقانونی موجودگی کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔

امریکا کو افغانستان میں طویل عرصے سے غیرقانونی موجودگی سے سبق سیکھنا چاہیے۔ امارت اسلامیہ کی قیادت میں عوامی مزاحمت کو کچلنے یا کم کرنے کے لیے ہر قسم کا حربہ استعمال کیا گیا ہے۔ مختلف خطرناک ہتھیاروں کے تجربے کیے گئے۔ فوجی ظلم و ستم، سیاسی غنڈہ گردی سے لے کر مذہبی اور سماجی دباؤ تک ہر حربہ استعمال کیا گیا۔ البتہ ان سب کا رزلٹ مایوس کن رہا ہے۔

افغانستان کا 70 فیصد حصہ امارت کی عمل داری میں ہے۔ مثالی امن قائم ہے۔ شرعی نظام نافذ ہے۔ عدالتیں فعال ہیں۔ تعلیمی ادارے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تجارت کو فروغ مل رہا ہے۔ انتظامی اور اخلاقی فساد کا کوئی تصور بھی نہیں ہے۔ عام لوگ دشمن کے زیرکنٹرول علاقوں کی نسبت یہاں بہت خوش اور پر امن زندگی بسر کر رہے ہیں۔

ہم دشمن پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ آپ کے ظلم، جبر اور نئے ہتھیار اور طیارے، خاص طور پر ایف 35 کے استعمال سے ہمارے حوصلے پست نہیں ہوں گے۔ افغان عوام ملک کی آزادی اور اپنی اقدار کے تحفظ کے لیے جدوجہد کررل رہے ہیں۔ امارت اسلامیہ اللہ تعالی کی مدد اور اپنے مجاہد عوام کی حمایت پر فخر کرتی ہے۔ ہم اس عزم کا اظہار کرتے ہیں کہ تمام قابض افواج کے انخلا اور لاکھوں شہداء کی امنگوں کے مطابق اسلامی نظام کے نفاذ تک موجودہ مقدس جہاد جاری رکھیں گے۔

ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*