مظلوم افغانوں پر ظلم: امریکا کو چند لمحات میں 115 ملین ڈالر کا نقصان

آج کی بات

 

پینٹاگون کے اعلان کے مطابق گزشتہ روز امریکی فوج کا ایک جدید "F- 35 B” جنگی طیارہ امریکی ریاست جنوبی کیرولائنا کے گرین وائل شہر کے ایئرپورٹ  کے قریب گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ پہلی بار امریکا کا جدید ترین لڑاکا طیارہ جو ہر قسم ریڈار کو خاموش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور 115 ملین ڈالر کی مالیت سے تیار ہوا ہے، تکنیکی مسائل کی وجہ سے گر کر تباہ ہوگیا ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکی فوج نے کوشش شروع کی تھی کہ ‘F-35 Lightning II’ طیارے کو تیز رفتاری اور خاص ہدف کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں تمام جدید آلات سے لیس کر کے افغانستان میں اس کا تجربہ کیا جائے۔ گزشتہ دنوں امریکی فوج نے پہلی بار اس جدید ترین لڑاکا طیارے کا تجربہ افغانستان میں کیا اور مظلوم افغان عوام پر اس طیارے نے وحشیانہ بمباری کی۔

اللہ تعالی کی قدرت اور حکمت کو دیکھتے ہوئے مظلوم افغان عوام کی آہ و فریاد کے نتیجے میں قاتل امریکا نے اپنے ظلم اور سربریت کا انجام بہت جلد اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ افغانستان میں ایف 35 طیاروں کی بمباری کے بعد اگلے روز امریکا میں ایف 35 طیارہ ائیرپورٹ کے قریب پرواز کے فوری بعد گر کر تباہ ہو گیا۔ امریکی حکام کے مطابق ائیرپورٹ پر اترتے وقت طیارہ دو حصوں میں تقسیم ہوگیا اور محض چند لمحات میں امریکا کو 115 ملین ڈالر کا نقصان ہوا۔

پینٹاگون نے اپنے بیان میں مذکورہ طیارے کے حادثے پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا نے کئی سالوں سے ایف 35 طیارے کو جدید آلات سے لیس کرنے کے لیے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اس نے یہ نہیں سوچا تھا کہ کسی بڑے واقعے اور حادثے کے بغیر امریکا کا یہ جدید ترین لڑاکا طیارہ گر کر تباہ ہوجائے گا۔ امریکا نے تقریبا 18 سالوں کے دوران افغانستان میں ٹیکنالوجی کے بل بوتے ہر قسم کا تجربہ کہا ہے۔ ہر قسم کے طیاروں کا استعمال کیا۔ نیم جوہری اور فاسفورس بم برسائے گئے۔ مادر بم کا تجربہ کیا۔ جس کے نتیجے میں لاکھوں مظلوم افغان عوام کو نقصان ہوا۔ تاہم اللہ کے فضل و کرم سے مجاہد افغان عوام اپنے اصولی مؤقف پر ڈٹ گئے اور ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہوئے۔

ہم امریکا سے کہنا چاہتے ہیں کہ آپ کی ساری حکمت عملی، ٹیکنالوجی اور حربے افغانستان میں نیست و نابود اور ناکام ہوئے ہیں۔ آپ یہاں پر جو بھی ہتھیار اور طیارے استعمال کرتے ہیں، اس کا نتیجہ F-35 جیسا ہوگا۔ افغانستان میں ان طیاروں کا استعمال کرتے ہی اپنے ملک میں طیارے گر کر تباہ ہوجائیں گے۔ اور چند لمحوں میں کئی ملین ڈالر کے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*