مجاہدین پر حملہ آوروں کا مذہبی دباؤ

آج کی بات

 

میڈیا نے کابل انتظامیہ کے حوالے سے خبر شائع کی ہے کہ افغان اور پاکستانی علماء افغانستان میں جاری جنگ کے بارے ایک مشترکہ اجلاس کریں گے۔ میڈیا کے مطابق اس اجلاس میں جاری جنگ کی شرعی حیثیت پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ کابل انتظامیہ اور اس کے حامی میڈیا کے نزدیک جاری جنگ کا مقصد امریکی جارحیت کے خلاف افغان عوام کا جاری جہاد ہے۔ جاری جنگ کے بارے میں علمائے کرام کے نام سے منعقد اجلاسوں اور کانفرنسوں کا مطالبہ جنگ زدہ ملک کے عوام کا ہے اور نہ ہی کابل انتظامیہ کا…. بلکہ ایسے اجتماعات کا انعقاد حملہ آوروں کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے رشوت اور پروپیگنڈے کی مدد سے یہ سلسلہ جاری رکھا ہے۔ افغانستان میں تعینات سابق امریکی جنرل نکلسن نے بڑے فخر کے ساتھ یہ کہا تھا کہ طالبان پر فوجی اور سیاسی دباؤ بڑھانے کے ساتھ مذہبی دباؤ بھی لایا جائے گا۔ انہوں نے بڑے واشگاف الفاظ میں انڈونیشیا کانفرنس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مجاہدین پر مذہبی دباؤ کی یہ ایک مثال ہے۔

انڈونیشیا کانفرنس کے بعد جنرل نکولسن کی فرمائش اور درخواست کے مطابق سعودی عرب اور کابل میں بھی علماء کے اجلاس منعقد ہوئے۔ علماء کے نام سے منعقد ان اجلاسوں میں علماء کے درمیان جنگ کے موقع پر تبادلہ خیال ہوا اور نہ اجلاس کے شرکاء کو بحث کے لیے موقع دیا گیا کہ وہ اس موضوع پر علمی نقطہ نظر سے روشنی ڈالیں۔ کابل اجلاس میں امن کونسل کی جانب سے ایک مقالہ شرکاء میں تقسیم کیا گیا۔ وہ مقالہ علماء نے لکھا تھا اور نہ ہی اس میں جاری جنگ کے اسباب کے بارے میں کچھ لکھا تھا۔ اس میں قابض افواج کے ظالمانہ ہھتکنڈوں کی طرف اشارہ تک نہیں کیا گیا۔ حتی کہ اجلاس کے شرکاء کو اتنا وقت بھی نہیں ملا کہ وہ اجلاس کے دوران مقالہ غور سے پڑھیں اور اس بارے میں اپنا نقطہ نظر پیش کریں۔ میڈیا نے ایوان صدر کے اعلامیہ کے مطابق خبر شائع کی کہ کابل میں 2500 مذہبی علماء نے اس جنگ کے خلاف فتوی جاری کیا۔

اسلامی اصولوں، بین الاقوامی قوانین، انسانی اور سماجی حقوق کے پیش نظر افغانستان میں حملہ آوروں کی موجودگی غیرقانونی اور ناجائز ہے۔ کابل کی کٹھ پتلی حکومت ظالمانہ فوجی قبضے کو جواز بخشنے کی مجاز نہیں ہے۔ قابض قوتیں ملک پر ناجائز قبضے کو دوام بخشنے کے لیے مسلط کردہ کٹھ پتلی حکومت کی فوجی ،سیاسی، مالی اور اخلاقی حمایت کرتی ہیں۔ حملہ آوروں کی حمایت کے بغیر کابل کی کٹھ پتلی حکومت کی بقا ممکن نہیں ہے۔ یہ وہ حقائق ہیں کہ حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کو بھی اس کا اعتراف ہے۔

علماء کے نام سے منعقد اجلاس میں افغانستان میں جاری جنگ کی بنیادی وجہ (جارحیت پسندوں کے جابرانہ قبضہ) کی طرف محض اشارہ بھی نہیں کیا گیا۔ اس ظالمانہ اور ناجائز قبضے کے خلاف افغان عوام کے مقدس جہاد کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ افغان عوام کا مقدس جہاد علمائے حق کے فتوی پر شروع ہوا ہے۔ یہ ریاستی خودمختاری اور اسلامی نظام کے نفاذ تک جاری رہے گا۔ درباری علماء کے فتوی (جنرل نکولسن کے مذہبی دباؤ) سے اس کی شرعی حیثیت پر کوئی اثر پڑے گا اور نہ ہی اس کی کامیابی پر کوئی فرق پڑے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*