اشرف غنی بلیک واٹر کے مخالف کیوں؟

آج کی بات

 

حکومت نواز میڈیا نے خبر شائع کی کہ اشرف غنی نے افغان جنگ بلیک واٹر کو ٹھیکے پر دینے کی مخالفت کی ہے۔ مذکورہ ذریعے کے مطابق اشرف غنی نے کہا ہے کہ ’ہم بلیک واٹر کو افغانستان آنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ بلیک واٹر بدنام زمانہ امریکی کمپنی ہے، جس نے عراق میں بھی بڑا ظلم کیا تھا اور بڑی تعداد میں عام شہریوں کو قتل کیا تھا۔ اس حوالے سے چند نکات قابل توجہ ہیں۔ پہلا یہ کہ اشرف غنی سے پوچھنا چاہیے کہ آپ کو امریکا کے بڑے مسائل میں ٹانگ اڑانے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا یہ ممکن ہے آپ جیسے کٹھ پتلی حکمرانوں کے کہنے پر ٹرمپ جیسے وحشی اپنے فیصلے تبدیل کر لیں گے؟ جب کہ صورت حال یہ ہے کہ تنخواہ کے ڈالر اور ہتھیار بھی وہ فراہم کرتے ہیں۔ آپ تو اقوام متحدہ کے اجلاس میں ٹرمپ یا دیگر حکام سے ملاقات کا ’شرف‘ بھی حاصل نہیں کر سکے۔

دوسرا یہ کہ اشرف غنی کو کس طرح یہ احساس ہوا کہ وہ بلیک واٹر کے ہاتھوں اپنے مظلوم عوام کے قتل عام اور ان پر تشدد ناقابلِ برداشت سمجھتے ہیں؟ کیا واقعی اشرف غنی اتنے حساس ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ اشرف غنی نے حلف اٹھانے سے قبل ملک کو نیلام کرنے کے لیے امریکا کے ساتھ سکیورٹی معاہدہ کیا اور امریکی درندوں کو افغان عوام کے قتل عام کی قانونی اجازت دی۔ آج سب دیکھ رہے ہیں کہ قابض امریکا اور افغان فورسز کے ہاتھوں مظلوم افغان عوام کا بہیمانہ قتل عام جاری ہے۔ کبھی اشرف غنی نے اس کی مذمت کی ہے؟ کیا انہوں نے اس کا نوٹس لیا ہے کہ کیوں اتنے بڑے پیمانے پر شہری مارے جاتے ہیں؟ کیا انہوں نے اپنے چار سالہ دور صدارت میں کبھی یہ تأثر دیا ہے کہ وہ افغان عوام کے قتل پر دکھ محسوس کرتے ہیں؟ کیا بلیک واٹر امریکا سے بھی زیادہ ظالم ہے؟

اہم بات یہ ہے کہ اشرف غنی بلیک واٹر کی مخالفت اس لیے نہیں کر رہے کہ وہ افغان عوام کے قتل پر دکھ محسوس کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اس لیے بلیک واٹر کی مخالفت کرتے ہیں کہ افغان جنگ اس کے حوالے کرنے پر کٹھ پتلی حکمرانوں کو ڈالروں کی آمدن کم ہو جائے گی۔ امریکا کے لیے بلیک واٹر اس لیے ترجیح ہو سکتی ہے کہ اس کے اخراجات میں کمی آسکتی ہے۔ بلیک واٹر کے سربراہ ایرک پرنس نے ٹرمپ انتظامیہ کو پیش کش کی ہے کہ وہ افغان جنگ ٹھیکے پر لینے کے لیے تیار ہیں۔ وہ کم لاگت اور محدود پرائیوٹ اہل کاروں کے ذریعے یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے کابل انتظامیہ نے اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ان پر ڈالروں کی عناتیں کم ہوجائیں گی اور بلیک واٹر کو بھی امریکی اور نیٹو فوج کی طرح شکست ہوگی، جس پر وہ راہ فرارہ اختیار کر جائے گی۔ اس کے بعد یہ امکان کم ہے کہ بلیک واٹر کو شکست کے بعد امریکا ایک بار پھر افغان جنگ میں کود پڑے۔ یہ کٹھ پتلی حکمرانوں کے لیے خوف ناک خبر ہے۔

ان وجوہات کی بنا پر اشرف غنی نے بلیک واٹر کی مخالفت کی ہے۔ فی الحال مظلوم شہریوں کا جو قتلِ عام ہو رہا ہے، رات کے چھاپوں اور وحشیانہ فضائی حملوں میں جو لوگ نشانہ بن رہے ہیں، اس حوالے سے اشرف غنی مکمل خاموش ہیں۔ وہ کبھی دکھ اور افسوس کا اظہار نہیں کرتے اور نہ ہی انہیں اس کی مذمت کرنے کا احساس ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*