امریکی جارحیت کے  آغاز کی 17ویں برسی کی مناسبت سے امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

آج سے سترہ برس قبل 15/ میزان 1380 بمطابق 07/ اکتوبر 2001ء کو امریکی قیادت میں نیٹو فوجی اتحاد نے افغانستان پر جارحیت کی  اور فضائی اور زمینی راستے سے افغان مقدس سرزمین پر چڑھ دوڑے۔

ظاہری طور پر جارحیت نائن الیون کے واقعہ کے بہانےسے شروع ہوا، وہ واقعہ جس میں افغانی ملوث تھے اور نہ ہی اس سے باخبر تھے، جب کہ امریکہ  اب تک ایسی شواہد پیش نہ کرسکے،جسے اپنی ناجائز جارحیت کے لیے جواز بناکر اسے  منطقی دلائل ٹہر ادیں۔

اس وقت ملک کی 95٪ فیصد اراضی پر ایک مستحکم اسلامی نظام نافذ تھا،  وہ نظام جس نے تازہ اہل وطن کو تنظیمی انارشیزم اور باہمی جنگوں سے نجات دلایا تھا، ملک بھر میں امن و امان اور استحکام کو برقرار  رکھا تھا۔

اس غرض سے کہ استعماراپنی انجام دی جانیوالی وحشت سے برائت کےلیے کوئی جواز تلاش  اور تاریخ میں نہتے افغانوں کی مظلومیت کے محاسبے سے چھٹکارا حاصل کریں، تو اپنے حملے کی خاطر مزید مقاصد بھی اس طرح منتخب کیے کہ :

افغانستان کو خودکفیل بنایاجائیگا، منشیات کا خاتمہ کیا جائیگا، افغان عوام کی مرضی کے مطابق حکومتی نظام قائم کی جائیگی ، صلح، استحکام اور امن و امان کو برقرار کیا جائیگا۔

مگر آج ہم مشاہدہ کررہے ہیں کہ استعمار کے  تقریبا دو عشرے مکمل ہونیوالے ہیں، لیکن سب کچھ مخالف سمت کی جانب جارہا ہے، افغانستان اب تک سیکورٹی اور عادی زندگی کے شعبے میں ایک محتاج ملک ہے۔

امریکی جارحیت سے قبل امارت اسلامیہ کے دوراقتدار میں منشیات کی کاشت صفر تک پہنچی تھی، اب دوبارہ عالمی سطح پر پہلے مقام کا حامل ہے۔

افغان عوام کی مرضی کے حکومتی نظام قائم کرنا تو درکنار، بلکہ افغانوں پر عالمی سطح پر بدعنوان، چور اور شروفساد  کا مشترکہ نظام طیاروں اور ٹینکوں کے بل بوتے پر لاگو کرکے اس کی حمایت کررہی ہے۔

استحکام اور سیکورٹی کی حالت یہ ہے کہ غیرجانبدار اداروں کے سروے اور رپورٹوں کے مطابق گذشتہ ایک سال میں چالیس ہزار سے زائد عام شہری قتل اور زخمی ہوئے، یوناما اعلان کرتی ہے کہ بیرونی افواج اور کابل انتظامیہ کی بمباری اور رات کے چھاپوں کی وجہ سےعام شہریوں کی نقصانات میں 52٪ فیصد اضافہ ہوا ہے،کابل انتظامیہ کے وزیر دفاع بہرامی اعتراف کررہا ہے کہ ایک مہینے میں ان کے 1300 سیکورٹی اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔

امریکی استعمار نے قتل عام، تشدد، بربریت، لوٹ مار، ناامنی اور عامہ بدعنوانی کیساتھ ساتھ یہاں مزید اجتماعی مسائل کوبھی جنم دیے۔ قومی اور لسانی اختلافات   ابھارے، نوجوان نسل کو اپنی فخر سے دور کرکے اسےمغربی بداخلاقی میں مبتلا کردیا،  حقوق نسواں کے نام سے خواتین کی زندگی کو سنگین خطرات سے روبرو کی، افغان نوجوانوں کی اکثریت کو اخلاقی فساد کیساتھ ساتھ منشیات کے عادی بھی بنائے گئے۔

عوام کے گھروں، مساجد، مدارس، صحت کے مراکز، عام تنصیبات پر استعمار اور کٹھ پتلی غلاموں کی بمباریاں اب تک روزمرہ کے معمول بن چکے ہیں۔

اسی بناء پرامریکہ اور اس کے متحدین کے اس وحشی جارحیت، قبضے اور اسے جاری رکھنے کی امارت اسلامیہ شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے  اور ان کی وحشت کی 17 ویں برسی مکمل ہونے پر ایک بار پھر استعمار کو بتلاتی ہے کہ  ہمارے ملک کو چھوڑ دو، اپنی وحشت ناک جارحیت کو ختم کر دو، اپنی منحوس موجودگی کی وجہ سے نہتے افغانوں کے خون کو مت بہاؤ، افغانوں کو اپنے ملک اور مستقبل کا فیصلہ کرنے پر چھوڑ دو۔

یہ وہی سالم اور معقول طریقہ ہے، جسے امارت اسلامیہ نے تنازعہ کے حقیقی حل کے طور پر بار بار تمہیں نشاندہی کی ہے۔

ورنہ افغان مؤمن عوام امارت اسلامیہ کی قیادت میں اپنے برحق جدوجہد کو اس وقت تک جاری رکھے گی، جب تک تم غاصبوں کو ماضی کے قابضوں کی طرح ملک سے ماربھگانے پر مجبور نہ کیا ہوگا۔ ان شاءاللہ

وما ذلک علی اللہ بعزیز

امارت اسلامیہ افغانستان

۲۷/۱/۱۴۴۰ھـ ق

۱۵/۷/۱۳۹۷ھـ ش ــ 2018/10/7ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*