معدنیات کی لوٹ مار، ملک اور عوام کیساتھ ایک اور غداری

میڈیا رپورٹ کے مطابق اشرف غنی کی زیرقیادت مزدور انتظامیہ نے جمعہ کے روز 05/اکتوبر 2018ء کو افغانستان کے دو عظیم معدنی ذخائر کے استخراج اور فروخت کی قرارداد کا معاہدہ مشکوک اور نامعلوم کمپنیوں کیساتھ کیا۔

رپورٹ کے مطابق کابل انتظامیہ کی معدنیات اور  خزانہ وزارتوں کے سرپرستوں نے امریکی دورے کے دوران بدخشان کے سونے اور بل خاب کے تانبےمعدنیات کے استخراج  کی قراردادوں پر  ایسی کمپنیوں کیساتھ معاہدہ اور دستخط کیا،جس میں کابل انتظامیہ کے اعلی حکام اور سابقہ وزراء بھی شریک ہیں۔

اس سے قبل افغانستان میں شفافیت کے نگران ادارے تنبیہ بھی دی تھی، کہ مذکورہ معدنیات کی قراردادیں غیر قانونی طور پر ایک غبن معاملے کے طور پر نکالے جاتے ہیں،جس کی وجہ سے ان قومی سرمایہ کی نفع کرپٹ اعلی حکام کے بینک کھاتوں میں چلی جاتی ہے۔

ایسی صورت میں کہ ملک میں سیاسی اور سیکورٹی بحران عروج پر ہے، ملک اجنبی جارحیت کے قبضے میں ہے اور کابل انتظامیہ کے اختیارات ان کرپٹ اور غبن حکام کے کنٹرول میں ہے، جو عالمی سطح پر کرپشن، غصب، غبن اور قومی اثاثوں کی لوٹ مار میں خصوصی  نام و مقام کے حامل ہیں۔ ایسی حالت میں معدنیات کی طرح عظیم قومی اثاثوں کی مشکوک قراردادیں درحقیقت افغان عوام اور ملک کیساتھ ایک اور تاریخی اور ناقابل فراموش غداری ہے۔

کابل انتظامیہ کے حکام نے  گذشتہ سترہ برسوں کے دوران کسی قسم کی قومی غداری سے روگرانی نہیں  کی ہے۔  شہروں کے اندر اور بندوبستی علاقوں میں لاکھوں ایکڑ اراضی غصب کرلی ہے۔ رشوت کے ذریعے روزانہ عوام کی رگوں کو جوس رہی ہے ، سرکاری امکانات اور نجی املاک کو ذاتی مفادات کے لیے استعمار کررہی ہے اور کابل بینک کیس کی طرح مختلف طریقوں سے عوام کا سرمایہ اپنی جیبوں میں ڈال رہا ہے، جسے بعد میں ملک سے باہر بینک اکاؤنٹس میں جمع کرواتاہے ۔ بدخشان اور بلخاب معدنیات کے غیرقانونی نیلام اور واقعہ سے ظاہرہوتا ہے، اس بار یہ بےرحم غاصبین قومی اثاثوں کی  لوٹ مار کا ارادہ  رکھتے ہیں اور استعمار کیساتھ ہم آہنگی سے ہمارے ملک اور عوام کو ان اثاثوں سے محروم کرنا چاہتا ہے۔

امارت اسلامیہ کو اس پر یقین ہے کہ ملک کے مختلف علاقوں میں قدرتی ذخائر اور معدنیات وہ قومی ثروت ہیں، جس سے ہمارے  ملک کے مستقبل کی معاشی ترقی، تعمیرنو اور پیشترفت کی آرزو   وابستہ ہے۔ اگر موجودہ ہنگامی حالت میں یہ ذخائر موجودہ اجنبی اور کرپٹ انتظامیہ کی جانب سے مشکوک قراردادوں اور خفیہ معاملات کی رو سے استخراج یا فروخت کے لیے پیش کیے جاتے ہیں، تو  اس میں کوئی شک نہیں ہے، کہ یہ قومی سرمایہ ملت کے مفاد میں نہیں بلکہ استعمار اور اس کے غلاموں کی ذاتی سرمایہ میں بدل جائیگی۔

ہمارے خیال میں افغانستان کی معدنیات ملک کا مشترکہ مال ہے،  اسی لیے اس کے استخراج اور فروخت کا منصوبہ بھی مکمل شفاف، علنی اور عادلانہ ہونا چاہیے، لیکن بدقسمتی سے موجودہ کرپٹ اور اعتبار باختہ رژیم سے اس کی امید نہیں کی جاسکتی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*