شادی پر حملہ ناقابل معافی جرم ہے

آج کی بات

 

اشرف غنی کی سنگ دل فورسز نے قندہار کے ضلع معروف میں شادی کی ایک تقریب پر بمباری کی جس میں چار افراد شہید جبکہ دولہن سمیت 29 افراد زخمی ہوئے ۔

شادی کی تقریبات پر حملہ آوروں اور کابل انتظامیہ کا یہ پہلا حملہ نہیں ہے، دشمن نے کئی بار شادیوں کی تقریبات کو نشانہ بنایا ہے اور افغان عوام کی خوشی کی تقریبات کو ماتم میں تبدیل کر دیا ہے ۔

ملک کے مختلف علاقوں میں ٹرمپ اور اشرف غنی کے مسلح اہل کاروں کی جانب سے مختلف شکلوں میں ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری ہے ، سفاک دشمن نے درندگی کا یہ سلسلہ اتنا تیز کر دیا ہے کہ عورتوں اور بچوں کو بھی نشانہ بنارہا ہے ، بزرگ شہریوں کو گرفتار کیا جاتا ہے، عوامی افادیت کے حامل مکانات کو مسمار کیا جاتا ہے، مساجد، مدارس ، کلینکس، اسکولوں، دکانوں اور مارکیٹوں کو کئی بار کھنڈرات میں تبدیل کر دیا گیا ہے ۔

حالیہ دنوں میں دشمن کے ظالموں کارروائیوں کے چند واقعات بطور مثال پیش کریں گے ۔

16 سمتبر کو صوبہ پکتیکا ضلع ووڑممی کے علاقے سید خیل میں لیویز اہل کاروں کی گولہ باری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت ایک خاندان کے 8 افراد شہید ہو گئے ۔

17 ستمبر کو ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے وڈیسار میں قابض اور اجرتی فورسز کے چھاپے میں 16 شہری شہید ہوئے ۔

18 ستمبر کو روزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ کے قریب ناوہ ابردی میں پولیس کی فائرنگ سے 6 لڑکیاں شہید اور دو بچے زخمی ہوگئے ۔

19 ستمبر کو صوبہ ننگرہار کے ضلع شیرزادو کے علاقے پٹلاو میں قابض اور اجرتی فورسز نے چھاپہ مارا، گھروں کے دروازے توڑ دیئے جبکہ اس ظالمانہ کارروائی میں 10 عام شہری شہید ہوئے ۔

20 ستمبر کو صوبہ پکتیا ضلع چمنکنی کے علاقے نازی گاؤں پر قابض فوج نے بمباری کی جس کے نتیجے میں 4 شہری شہید اور 14 بچے زخمی ہوئے ۔

20 ستمبر کو ننگرہار کے ضلع شیرزادو کے علاقے سرخ آب میں حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فوجیوں نے 19 شہریوں کو شہید کر دیا ۔

23 ستمبر کو صوبہ فراه کے ضلع خاک سفید کے مختلف علاقوں میں فوجی آپریشن کے دوران 5 شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہوئے ۔

23 ستمبر کو قندہار کے ضلع میوند کے علاقے سرہ بغل اور کانٹینر بازار پر قابض اور اجرتی فورسز نے حملہ کیا ، جس کے نتیجے میں دس مظلوم شہری شہید ہوئے بعد ازاں انہوں نے دو لاشوں کو آگ لگائی جبکہ 21 افراد کو حراست میں لیا گیا ۔

28 ستمبر کو صوبہ ہلمند کے ضلع نوزاد کے علاقے برنوزاد میں جارحیت پسندوں اور افغان فورسز نے چھاپے کے دوران دو گھروں اور ایک مسجد پر بمباری کی جس میں دس افراد شہید ہوئے ۔

دشمن کو مکمل کر دہشت گردی، نئی حکمت عملی اور ایڈز کے ٹیسٹ کے نام پر سب سے زیادہ طاقتور دشمن کو میدان جنگ میں شکست دی گئی ہے، نئی پالیسی کے تحت دشمن نے ظلم و ستم کی انتہا کر دی مگر اس کو خاطر خواں نتائج نہیں ملے ، اب اپنی ناکامی کو چھپانے اور فورسز کو حوصلہ دینے کے لئے عام شہریوں کو نشانہ بنانے کا بہیمانہ سلسلہ شروع کر دیا ہے اور عوامی مکانات کو تباہ اور مسمار کررہا ہے ۔

پاگل اور وحشی دشمن ہوش کے ناخن لیں ، عام شہریوں کو نشانہ بنانے اور ان کے مکانات کو مسمار کرنے سے وہ ہرگز مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتے ، یہاں تاریخ کے تمام ادوار میں جارحیت پسندوں اور ان کے کٹھ پتلی حکمرانوں کو شکست کا سامنا ہوا ہے ، ٹرمپ اور اشرف غنی یہ بات سمجھنے کی کوشش کریں کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے وہ اپنے مقاصد تک پہنچنے میں کامیاب نہیں رہیں گے ، امارت اسلامیہ کے غیور مجاہدین مقدس جہاد جاری رکھیں گے اور مظلوم عوام کا بدلہ ان ظالموں سے ضرور لیں گے ، ہماری مظلوم خواتین اور معصوم بچوں کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دے دیں گے ، ان شاء اللہ

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*