نمائشی الیکشن کے حوالے سے امارت اسلامیہ کا اعلامیہ

ایسے حالت میں کہ امریکی غاصب فوجیں ملک کے شہروں اور  فضائی حدود پر قابض ہیں۔  افغان مؤمن عوام کو کچلنے کے لیے مختلف النوع اسلحہ آزما رہا ہے ، قتل عام، بمباری، لوٹ مار اور انسانی المیوں کے نئے نسخہ جات عملی کررہاہے ،  اسلام کے شیدائی اورمحب وطن افغانوں کے لیے مزید عقوبت خانے بنارہاہے ، استعمار نے ملک کی استقلال کو اس اندازے تک قبضے میں لی ہے کہ اب جنگ کو خصوصی کرنے اور بلیک واٹر نامی قاتل گروپ کو  افغانستان کی اختیارات سپرد کرنے کی باتیں بھی کررہی ہے۔ اس افسوسناک حالت سے عوامی اذہان کو ہٹانے کی خاطر پارلیمانی انتخابات کے نام سے ایک نیا ہنگامہ شروع ہوا، استعمار کی جانب سے سپورٹ ہونے والی میڈیا  شب و روز اس کے لیے پروپیگنڈہ کررہا ہے۔

جارحیت کے سترہ سالہ سلسلے میں ہم نے الیکشن کے نام سے متعدد پروجیکٹ دیکھے،جن میں ایک بھی ملت اور ملک کے لیے کارآمد  ثابت نہ ہوسکا، بلکہ اس کے برعکس ملک کی قومی منافع کے خلاف، جارحیت کو جاری رکھنے، استعمار کے مفاد میں سیکورٹی معاہدہ اور افغان عوام کو اغفال اور ورغلانے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔

استعمار کے زیر کنٹرول ممالک میں الیکشن کے نام سے جعلی منصوبہ صرف اس وجہ سے انجام دی جاتی ہے، جس میں استعمار کی جانب سے نصب شدہ غلاموں کو قانونی جواز فراہم کریں، عوام کو حق رائے دہی کا جھوٹا احساس القاء کیا  جائے اور استعمار کے خلاف عوامی جذبے کو کم کیا جائے۔

امارت اسلامیہ کا خیال ہے کہ دینی ہدایات  اور نہ ہی ملی منافع اور سالم عقل کی رو سے افغانستان کی موجودہ حالت اس کا قابل ہے ،جہاں الیکشن کے اس طرح پروجیکٹ سرانجام دی جائے، دوسرا یہ  کہ اہل وطن اور عالمی برادری سبھی اس پر اعتراف کررہا ہے کہ ملک کے نصف سے زائد رقبے پر امارت اسلامیہ کے مجاہدین کا کنٹرول ہے اور  باقی اکثریثی علاقوں میں کافی اثرورسوخ رکھتی ہے، تو ظاہر ہے کہ انتخاباتی ڈرامہ صرف صوبائی مراکز اور شہروں میں نمائش کے لیے پیش کیا جائیگا ،وہ اس صورت میں کہ امریکی سفیر منظم طور پر الیکشن اور شکایات کے نام سے کمیشنوں کی براہ راست نگرانی کررہا ہے ، امیدواروں کی فہرستوں کی چھابین اور اسے مرتب کررہا ہے۔ دوسری جانب جماعتی اور قومی تعصبات،جعل سازی اور ووٹوں کی علی الاعلان خریدوفروخت  وغیرہ سازشوں کے ذریعے یہ مسلط کردہ منصوبہ مکمل رسوائی سے بدل گیا ہے، ایمان اور ضمیر کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اس منصوبے کو بے اعتماد اور مردود تصور کیا جائے اور اس کے سدباب کے لیے جدوجہد کی جائے۔

امارت اسلامیہ افغان عوام کے نمائندگی اور اس ملت کے نجات فورس کے طور پر پارلیمانی انتخابات کے نام سے جاری منصوبے کو جعلی، اجنبی مفادات کی تحفظ اور افغان ملت کو دھوکہ دینے کی سازش سمجھتی ہے۔

اس صورت میں کہ ملک کے عظیم مفادات محفوظ ہوئے ہو،بڑے اور منتخب کیے جانے والے منصوبے استعمار کے مقاصد کے لیے استعمال نہ ہوجائے، امارت اسلامیہ افغان ملت کو بتاتی ہے کہ الیکشن سے مکمل طور پر بائیکاٹ کریں، اسے کوئی اہمیت نہ دے، اس میں حصہ نہ لے اور اسے تحریم کریں۔

اسی طرح ان امیدواروں کو بھی بتلاتی ہے ، جو   اب تک غلامی کے حلقے میں داخل نہیں ہوئے ، کہ استعمار کے زیر سایہ، دین، ملت اور نہ ہی ملک کی خدمت ہوتی ہے، بلکہ تمہارے نامزد ہونے اور کامیابی سے براہ راست امریکی جارحیت کو نفع پہنچتی ہے، استعمار کے نمائشی منصوبے اور سازشیں کامیاب ہوجاتی ہیں، اس کے ساتھ ہی آپ کو مسلمانوں کے قتل اور ملک کی تباہی میں شریک سمجھے جاتے ہو  ، جو  جاری جنگ کے  طویل ہونے کا سبب بنتا ہے، تو اپنے احساس اور افغان ضمیر کی رو سے اس منصوبے میں شرکت سے اجتناب کریں۔

امارت اسلامیہ تمام مجاہدین کو ہدایت دیتی ہے کہ شہریوں اور عام افغانوں کی زندگی اور مال کی تحفظ پر فی الفور   توجہ دیتے ہوئے ملک بھر میں اس امریکی پروجیکٹ کے روک تھام کی کوشش کریں، اس کے لیے شدید رکاوٹیں کھڑی کریں، وہ افراد جو اس پروجیکٹ کی کامیابی کی کوشش اور سیکورٹی کے مد میں اس سے تعاون کررہا ہے، انہیں ٹارگٹ بنائے اور مکمل قوت سے اس امریکی سازش کو ناکام اور نامراد کریں۔

ہم استعمار اور الیکشن کے منصوبہ سازوں کو ایک بار پھر بتلاتے ہیں کہ ملک کے موجودہ بحران کا بنیادی حل افغانستان سے تمام غاصب اور اجنبی افواج کا انخلاء اور یہاں ایک اسلامی حاکمیت کا اعادہ کرنا ہے، اگر کوئی اس کے علاوہ کسی اور طریقوں کے بارے میں سوچ رہے ہیں، تو ممکن چند روز تک عام ذہنوں کو پروپیگنڈوں کے ذریعے مصروف رکھےگی، مگر ملت کی قسمت کو نہیں بدل سکتا۔

امارت اسلامیہ افغانستان

28/ محرم الحرام 1438 ھ ، 16/ میزان 1397 ھ ش، 08/ اکتوبر 2018ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*