جنگی جرائم جولائی2018

 

سیدسعید

یکم جولائی 2018 کو حملہ آوروں نے صوبہ فاریاب کے ضلع خواجہ موسی کے علاقے غارتپہ کے ایک گاؤں پر بمباری کی، جس میں ایک بزرگ ، ایک عورت اور دو بچے موقع پر شہید، جب کہ چار افراد زخمی ہوگئے۔ اسی دن قندوز کے ضلع چہاردرہ کے علاقے قریہ یتیم میں قابض اور افغان فوج کی مشترکہ کارروائی میں سات افراد شہید اور زخمی ہو گئے۔ اسی طرح صوبہ فراہ کے ضلع بکوا کے علاقے اشکین میں امریکی طیاروں نے حاجی نور احمد صرافی کے بازار پر بمباری کی، جس میں دکانیں، پٹرول پمپ اور دیگر قیمتی اشیاء تباہ ہو گیا۔ علاوہ ازیں صوبہ بادغیس کے ضلع جوند کے علاقے نہال بست میں امریکی فضائیہ نے ایک مسجد پر حملہ کیا، جس میں مسجد سمیت اس میں موجود ایک طالب عمل شہید ہوگئے۔

2جولائی کو صوبہ لوگر کے ضلع پل علم کے علاقے علیزوں میں قابض اور اجرتی فوج نے چھاپہ مارا۔ اس کے بعد علاقے پر بمباری کی گئی، جس میں بیس سے زائد افراد شہید اور زخمی ہوئے، جب کہ ایک مسجد بھی شہید ہوگئی۔ اسی دن صوبہ غزنی کے ضلع قرہ باغ کے علاقے شبار میں پولیس نے حافظ جمیل الرحمن کو شہید کر دیا۔ صوبہ غور کے ضلع دولینہ کے علاقے قیصارک پر امریکی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں تین افراد شہید اور زخمی ہو گئے۔ غور کے کے ضلع شہرک کے علاقے دھن مرقہ میں امریکی طیاروں کی وحشیانہ بمباری سے متعدد دکانیں تباہ ہوگئیں۔ عوام کو بڑے پیمانے پر مالی نقصان پہنچا۔

3جولائی کو قندوز کے ضلع چہاردرہ کے علاقے قریہ یتیم پر امریکی طیاروں کی وحشیانہ بمباری سے ایک مدرسے کو جزوی طور پر نقصان پہنچا اور ایک بے گناہ شخص شہید ہوگیا۔ اگلے دن صوبہ فراہ کے ضلع خاک سفید کے علاقے دیوال سرخ اور رنج گاؤں کے درمیان امریکی ڈرون حملے میں ایک شخص شہید ہوگیا۔ جب کہ 4 جولائی کو صوبہ لوگر کے ضلع محمد آغی کے علاقے زرغون شہر میں قابض اور اجرتی فوج نے مشترکہ کارروائی کے تحت چھاپہ مارا۔ گھر گھر تلاشی کے دوران دروازے توڑ دیے۔ لوگوں پر تشدد کیا گیا۔ قیمتی سامان لوٹ لیا۔ اس کے بعد ایک مدرسے پر بمباری کی، جس سے مدرسے کو کافی نقصان پہنچا۔

5جولائی کو صوبہ اروزگان کے ضلع چہار چینو کے علاقے دکشی میں امریکی اور افغان فوج نے ایک کلینک پر چھاپہ مارا۔ کلینک میں موجود 9 مریضوں، اور طبی عملے کو شہید کر دیا۔ جب کہ وہاں موجود گاڑیوں کو آگ لگا دی۔ اگلے روز کٹھ پتلی فوج نے فاریاب کے ضلع خواجہ سبزپوش میں اندھا دھند فائرنگ سے ایک خاندان کے دس افراد زخمی ہوگئے۔ جب کہ 6جولائی کو صوبہ فاریاب کے ضلع لولاش کے علاقے ملاعارفی میں امریکی اور افغان طیاروں کی بمباری سے متعدد گھروں اور ایک مسجد کو نقصان پہنچا۔ اسی طرح غزنی کے ضلع گیلان کے علاقے شینکی میں پولیس فائرنگ سے چھ معصوم بچے شہید اور زخمی ہوگئے۔

7جولائی کو صوبہ خوست کے ضلع باک کے علاقے پہلوان خیل میں حاجی بادشاہ گل کے گھر پر کمانڈوز نے چھاپہ مارا۔ اس خاندان کے 5 افراد ’مولوی محمد شاہ خان، مولوی محمد گل محمدی، حاجی لونگ گل، قاضی رحمن اور اکبر رحمن‘ کو شہید کر دیا گیا۔ اسی دن صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے مملی قیوم خیل میں قابض اور اجرتی فوج نے چھاپہ مارا۔ گھر گھر تلاشی کے دوران ایک خاندان کے تین افراد کو شہید کر دیا، جب کہ دو افراد کو گرفتار کیا گیا۔ جب کہ صوبہ بلخ کے ضلع چمتال کے علاقے سفید مسجد میں امریکی اور افغان فوج نے چھاپہ مارا۔ تلاشی کے دوران گھروں کے دروازے توڑ دیے۔ مقامی لوگوں کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ تین افراد کو شہید کر دیا اور پانچ افراد کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئے۔ ایک اور خبر کے مطابق اسی ضلع کے ہوتک گاؤں پر امریکی طیاروں کی بمباری میں چھ افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ اسی طرح ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے نہرسراج کے علاقے وزیر ماندہ میں فوج کی گولہ باری سے دو معصوم بچے شہید اور ایک خاتون زخمی ہوگئی۔ جب کہ غور کے ضلع چہارسدہ کے علاقے ملمنج میں لیویز اہل کاروں نے ایک خاتون کو شہید اور دو بچوں کو زخمی کر دیا۔

8جولائی کو صوبہ زابل کے صدر مقام کے قریب ملایان گاؤں میں طالبان اور قابض فوج کے درمیان جھڑپوں کے بعد حملہ آوروں نے بمباری کر کے 8 گھر اور ایک دینی مدرسہ تباہ کر دیا۔ اس میں دو افراد شہید ہوئے۔ اگلے دن صوبہ ننگرہار کے ضلع حصارک کے علاقے سرندو میں قابض اور اجرتی فوج کی بمباری میں 8 افراد شہید اور پانچ زخمی ہوگئے۔

10جولائی کو صوبہ ننگرہار کے ضلع حصارک کے علاقے ملکان میں امریکی اور افغان فوج کی بمباری سے ایک مسجد اور دو افراد شہید ہوگئے۔ جب کہ 12جولائی کو صوبہ پکتیا کے ضلع زرمت کے علاقے شمولزئی میں حاجی خاص دار کے گھر پر امریکی فضائیہ نے حملہ کیا، جس میں اس خاندان کے 15 افراد خواتین اور بچوں سمیت  شہید ہوگئے۔ حملے کے بعد مقامی لوگ لاشوں کو ملبے سے نکالنے لگے تو ان پر دوبارہ بمباری کی گئی۔ جس سے مزید بیس افراد شہید ہوگئے۔ اسی دن حملہ آوروں نے صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے مملی پر حملہ کیا۔ پہلے مرحلے میں متعدد دکانیں لوٹ لیں۔ اس کے بعد پٹرول پمپم ایک مسجد اور متعدد دکانوں کو آگ لگا دی۔ جب کہ چوکی داروں سمیت 13 افراد کو شہید اور زخمی کر دیا۔ جب کہ صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے علاقے اخندزادگان پر امریکی اور افغان فوج نے چھاپہ مارا۔ چھاپے میں ایک مشہور عالم دین مولوی شفیع اللہ کو شہید اور دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا۔

13جولائی کو صوبہ زابل کے ضلع شہر صفا کے علاقے جلدک میں حملہ آوروں اور افغان فوج نے مشترکہ کارروائی کے دوران تین افراد کو شہید اور دو کو زخمی کر دیا۔ جب کہ ایک مدرسے کو بھی نقصان پہنچایا۔ اگلے روز صوبہ بدخشان کے ضلع جرم کے علاقے فرغامیرو میں پولیس کی فائرنگ سے تین افراد شہید اور پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ جب کہ صوبہ ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے زویہ میں قابض اور اجرتی فوج کی کارروائی میں پانچ شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔

17جولائی کو صوبہ فراہ کے ضلع فراہ رود کے علاقے تودنک میں جارحیت پسندوں اور کٹھ پتلی فوج نے ایک مدرسے پر بمباری کر کے مدرسے کے اکثر کمرے منہدم اور کتابیں جلا دیں۔ جب کہ 19جولائی کو قندوز کے ضلع چہاردرہ کے علاقے خلازئی میں امریکی طیاروں نے بمباری کی، جس میں خواتین اور معصوم بچوں سمیت 8 افراد شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ سرکاری حکام نے بھی بمباری کی تصدیق کی۔

21جولائی کو صوبہ غزنی کے ضلع ناوہ کے علاقے محمد خیل اور خواجہ خیل گاؤں پر جارحیت پسندوں اور داخلی قوتوں نے چھاپہ مارا، جس میں تین شہری شہید ہوگئے۔ جب کہ 24جولائی کو ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے نکڑخیل میں قابض امریکی اور کٹھ پتلی فوج نے چھاپے کے دوران ایک گھر کو تباہ کر دیا، جس میں چار شہری بھی شہید ہوگئے۔ اسی طرح صوبہ غزنی کے ضلع شلگر کے علاقے کمال خیل میں قابض امریکی اور اجرتی فوج نے مشترکہ کارروائی میں مشہور دینی مدرسے ’الجامعہ نور المدارس الفاروقیہ‘ پر چھاپہ مارا۔ پینتالیس طالب علموں کو حراست میں لے لیا۔ کلاس رومز اور رہائش کے کمروں کو تباہ کر دیا گیا۔ اس کے بعد کمال خیل بازار میں تین چوکی داروں کو بھی شہید کر دیا۔ جب کہ پانچ افراد کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئے۔اس کے علاوہ متعدد دکانوں اور گاڑیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔

25جولائی کو صوبہ لوگر کے ضلع چرخ کے علاقے سیدان میں جارحیت پسندوں اور کٹھ تپلی فوج نے چھاپے کے دوران ایک مسجد کو شہید اور ایک گھر کو تباہ کر دیا۔ اسی دن اروزگان کے صوبائی دارالحکومت ترین کوٹ کے قریب درویشان سجاول کے علاقے میں حملہ آوروں اور افغان فوج نے چھاپہ مارا۔ 6 شہریوں کو شہید اور تین بچوں کو زخمی کر دیا۔ جب کہ 26جولائی کو صوبہ ہلمند کے ضلع گرمسیر کے علاقے کیرتاکی، خاشہ بازار ار ڈاگو میں طالبان اور قابض فوج کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن کے بعد جارحیت پسندوں نے گولہ باری کی اور ایک خاندان کے پانچ افراد کو شہید اور زخمی کر دیا۔

27جولائی کو صوبہ اروزگان کے صدر مقام کے قریب درویشان اور سجاول کے علاقے میں امریکی ڈرون حملے میں دو افراد شہید ہوگئے۔ اسی دن صوبہ قندوز کے ضلع دشت آرچی کے علاقے اخندزادہ صاحب جمپ میں پولیس کی فائرنگ سے تین افراد شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ جب کہ صوبہ کاپیسا کے ضلع تگاب کے علاقے پشکڑی میں قابض فوج کے ڈرون حملے میں تین افراد شہید ہوگئے۔

29جولائی کو صوبہ فاریاب کے ضلع چہلگزئی کے علاقے قلعہ ہزار میں پولیس کی فائرنگ سے دس خواتین اور بچے شہید اور زخمی ہوگئے۔ اسی طرح فاریاب کے ضلع شیرین تگاب کے علاقے تورتکول میں فوج کی گولہ باری کے نتیجے میں چار شہری شہید اور زخمی ہوگئے۔ جب کہ حملہ آوروں اور کٹھ پتلی فوج نے قندھار کے ضلع میوند کے علاقے شہیدان ترگل زمان بازار میں چھاپے کے دوران 16 شہریوں کو شہید کر دیا۔ جب کہ متعدد افراد کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئے۔ اس کے علاوہ بڑے پیمانے پر مقامی لوگوں کو مالی نقصان بھی پہنچایا ہے۔ اسی طرح صوبہ لوگر کے ضلع محمدآغی کے علاقے زرغون شہر میں امریکی حملہ آوروں نے طالبان کے ساتھ جھڑپوں کے بعد بمباری کر کے 6 نہتے شہری شہید اور دو افراد زخمی کر دیے۔ اسی دن صوبہ بلخ کے ضلع چہاربولک کے علاقے جوئی شور میں قابض اور اجرتی فوج چھاپے کے دوران 10 افراد کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئی۔

30جولائی کو ننگرہار کے ضلع غنی خیل کے علاقے شیرگڑھ میں حملہ آوروں اور اجرتی فوج نے مشترکہ کارروائی کے دوران 6 افراد کو شہید اور چار کو گرفتار کر لیا۔ اگلے دن صوبہ فراہ کے دارالحکومت کے قریب گنگان نامی علاقے میں پولیس کی فائرنگ سے چار افراد زخمی ہوگئے۔ جب کہ قندوز کے ضلع خان آباد کے علاقے ایشانٹوب میں امریکی اور کٹھ پتلی فوج نے ایک دینی مدرسے فیض القران پر چھاپہ مارا۔ چھاپے کے دوران مدرسے کے دروازے توڑ دیے اور آخر میں مدرسے کے مہتمم اور ایک استاد کو گرفتار کر کے ساتھ لے گئے۔

ذرائع: بی بی سی۔ آزادی ریڈیو۔ افغان اسلامک پریس۔ پژواک۔ خبریال۔ لر او بر۔ نن ڈاٹ ایشیا اور دیگر ویب سائٹس

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*