جنگی جرائم ستمبر2018

سید سعید

رواں سال یکم ستمبر کو قابض اور اجرتی فوج نے مشرقی صوبے ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے گوزبہار میں چھاپے کے دوران 11 افراد شہید کر دیے۔ 3ستمبر کو جارحیت پسندوں اور افغان فوج نے ننگرہار کے ضلع حصارک کے علاقے گاڑی میں چھاپہ مارا۔ گھر گھر تلاشی کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 9 شہریوں کو شہید اور تین افراد کو زخمی کر دیا۔ اگلے دن قابض فوج نے صوبہ میدان وردگ کے ضلع سیدآباد کے علاقے تنگی درہ کے علم خیل اور ورسک گاؤں پر چھاپہ مارا۔ تلاشی کے دوران گھروں کے دروازے توڑ دیے۔ قیمتی اشیاء لوٹ لی گئیں۔ گاڑیوں کو آگ لگادی گئی۔ ورسک اور علم خیل کے درمیان اہم پل کو بموں سے اڑا دیا اور 4 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔ جب کہ صوبہ غور کے ضلع ساغر کے قریب افغان فوج نے جامعہ دارالعلوم عالیہ میں تمام دینی کتابیں اور سامان جلا دیا۔

5ستمبر کو افغان فوج نے صوبہ لغمان کے ضلع بادپش کے علاقے گڑوچ میں سرچ آپریشن کے دوران گیارہ افراد کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر شہید کر دیا۔ جب کہ 9ستمبر کو ہلمند کے ضلع گریشک کے علاقے ڈاگیان میں فوج کی گولہ باری میں گیارہ افراد شہید اور زخمی ہوگئے۔ اسی طرح 11ستمبر کو قابض اور اجرتی فوج نے ننگرہار کے ضلع خوگیانو کےعلاقے نکڑخیل میں چھاپہ مارا۔ جس میں ایک شخص شہید ہوا۔ جب کہ اس علاقے میں ایک میڈیکل سینٹر کو آگ لگا دی گئی اور اسکول کو بھی جزوی نقصان پہنچایا گیا۔

16ستمبر کو صوبہ پکتیکا کے ضلع ووڑممی کے علاقے سیدخیل میں لیویز اہل کاروں نے فائرنگ سے خواتین اور بچوں سمیت ایک خاندان کے 8 افراد شہید ہوگئے۔ اگلے دن ننگرہار کے ضلع خوگیانو کے علاقے وڈیسار میں قابض اور افغان فوج کے چھاپے کے دوران 16 نہتے شہری شہید ہوگئے۔ جب کہ صوبہ فراہ کے ضلع سیب کوہ کے علاقے کین میں پولیس کی فائرنگ سے ایک شخص شہید ہوگیا۔ اسی طرح صوبہ اروزگان کے ضلع دہراود کے علاقے چتو میں جارحیت پسندوں اور افغان فوج نے چھاپہ مارا۔ گھر گھر تلاشی کے دوران قیمتی چیزیں لوٹ لی گئیں اور ایک شخص کو شہید کر دیا گیا۔ اسی دن قابض اور افغان فوج نے اروزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ کے قریب کوٹوال کے علاقے میں چھاپہ مارا۔ جس میں چار افراد شہید ہوئے۔

18ستمبر کو اروزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ کے علاقے ناوہ ابردی میں پولیس کی فائرنگ سے چھ طالبات شہید اور دو بچے زخمی ہوگئے۔ اگلے دن ننگرہار کے ضلع شیرزادو کے علاقے پٹلاو میں قابض اور اجرتی فوج نے چھاپہ مارا۔ گھر گھر تلاشی کے دوران دروزاے توڑ دیے اور دس افراد کو شہید کر دیا گیا۔ جب کہ 20ستمبر کو پکتیا کے ضلع چمکنیو کے علاقے نوزی پر قابض فوج نے بمباری کی۔ جس میں چار افراد شہید اور چودہ زخمی ہوگئے۔ اسی دن ننگرہار کے ضلع شیرزادو کے علاقے سرخ آب میں قابض اور اجرتی فوج کے چھاپے میں نو افراد شہید ہوگئے۔

22ستمبر کو قندھار کے ضلع معروف کے علاقے اسحاق زئی میں قابض اور افغان فوج کے چھاپے کے دوران دو بزرگ شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ اگلے دن فراہ کے ضلع خاک سفید کے مختلف علاقوں میں پولیس کی فائرنگ سے پانچ افراد شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔ اسی طرح 23ستمبر کو قندھار کے ضلع میوند کے علاقے سرہ بغل اور کانٹینر بازار میں قابض اور اجرتی فوج نے فوجی آپریشن کے دوران دکانوں کو جلا دیا۔ اس کارروائی میں دس افراد شہید ہوئے۔ جب کہ دو شہداء کی لاشوں کو آگ لگا دی گئی اور 21 افراد کو حراست میں لے لیا گیا۔

27ستمبر کو صوبہ فاریاب کے ضلع المار اور قیصار کے درمیان سقہ کوتل کے علاقے میں قابض فوج نے ایک مسافر گاڑی پر بمباری کی، جس میں سوار تمام افراد جھلس کر شہید ہوگئے۔ اگلے دن ہلمند کے ضلع نوزاد کے علاقے بزنوزاد میں قابض اور افغان فوج کے چھاپے کے دوران دس افراد شہید اور دو گھر تباہ ہوگئے۔ اسی طرح 30 ستمبر کو نمیروز کے ضلع دلآرام کے بازار میں پولیس کی فائرنگ سے دو خواتین شہید ہوگئیں۔

ذرائع: ’بی بی سی۔ آزادی ریڈیو۔ افغان اسلامک پریس۔ پژواک۔ خبریال۔ لر او بر۔ نن ڈاٹ ایشیا اور دیگر ویب سائٹس‘

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*