کمیونزم کے جرائم پر ایک نظر

تحریر: عبدالہادی  مجاہد

کمیونزم لاطینی زبان communis سے نکلا ہے۔ جس کا انگریزی معنی Common یا universal ہے۔ جس کا معنی عام اور مشترک ہے۔ اسی لیے عربی میں اس کا معنی الشیوعیہ ہے۔ یہ اس لیے کہ ان کے ہاں سب کچھ مشترک ہے۔ یہ نظریات پہلی مرتبہ مارکس اور ان کے ساتھی اینگلز کی جانب سے پیش کیے گئے۔ اس کے بعد لینن کی جانب سے ایک نظام اور حکومت کی شکل میں ان کا نفاذ کیا گیا۔ کمیونزم الحاد پر قائم ایک مکتبِ فکر ہے۔ یہ مادہ کو ہر چیز کی بنیاد قرار دیتے ہیں۔ تاریخ کی انسانی طبقات کے درمیان جنگ، کشمکش اور اقتصادی عوامل کی بنیاد پر تشریح کرتے ہیں۔ یہ مکتب فکر جرمنی میں کارل مارکس اور اینگلز کی جانب سے سامنے آیا۔ اگرچہ کمیونزم کے جیسے افکار ماضی میں بھی سامنے آتے رہے اور ان پر کام بھی ہوا ہے۔ البتہ مارکس اور اینگلز کے افکار کو لینن کی قیادت میں بالشویکیوں نے روس میں تب عملی جامہ پہنا کر ان کی بنیاد پر نظام قائم کیا، جب 1917 میں کمیونسٹ کی کامیابی کے بعد روسی شاہی نظام ختم ہوگیا۔ کمیونسٹوں نے طاقت کے بل بوتے دیگر اقوام اور ممالک پر غلبہ حاصل کیا۔ چناں چہ سوویت یونین کی شکل میں ایک بڑی طاقت ور حکومت سامنے آئی۔

کمیونسٹ مکتب فکر کی اہم اور مشہور شخصیات حسب ذیل ہیں:

  • کارل مارکس: مشہور یہودی حاخام مردخائی مارکس کے پوتے تھے۔ ان کی پیدائش 1818 اور وفات 1883 میں ہوئی تھی۔
  • فریڈرک اینگلز: 1820 میں پیدا ہوئے اور 1895 میں وفات پائی۔ اینگلز کمیونزم کے قیام اور اشاعت میں مارکس کے ساتھی تھے۔ مارکس کی زندگی کے آخر تک ان کے اور ان کے خاندان کے مصارف ادا کرتے رہے۔
  • لینن: ان کا اصل نام ولادی میر الیچ بولیانوف تھا۔ 1870 میں پیدا ہوئے اور 1924میں وفات پائی۔ لینن نے کمیونزم کو نظریے سے عملی نفاذ کا رُخ دیا۔ سوویت یونین کی حکومت قائم کی۔
  • اسٹالن: ان اک اصل نام جوزف وادیو نویچ تھا۔ ان کی پیدائش 1879 کی ہے۔ اور 1954 میں وفات پائی۔ جوزف اسٹالن کمیونسٹ تنظیم کے سیکرٹری اور لینن کے بعد سوویت یونین کے سربراہ بنے۔ اسٹالن شقاوت، ظلم، استبداد، ڈکٹیٹر شپ اور اپنے مخالفین کی ہلاکت اور جلاوطنی میں مشہور تھے۔
  • ٹروٹسکی: ان کا اصل نام بروشٹائن تھا۔ مارکس اور لینن کی طرح یہودی الاصل تھے۔ ان کی پیدائش 1878 کی ہے۔ 1954 میں سٹالن کو سازش سے ہلاک کیا گیا۔ انہیں کمیونسٹ تنظیم کے بیرونی امور کا ذمہ دار متعین کیا گیا تھا۔ بعدازاں انتظامی امور کا ذمہ دار متعین کر دیا گیا۔ بعد میں تنظیم مخالف معاملات میں ملوث ہونے کا الزام لگا کر تنظیم سے نکال دیا گیا۔

کمیونزم طاقت کے استعمال، وسیع تر اور مؤثر دعوت اور دنیا میں کیپٹل ازم کے مقابلے میں ردعمل کے طورپر بہت کم سالوں میں دنیا بھر کے ممالک میں پھیل گیا۔ سوویت یونین، چین، چیکوسلواکیا، بلغاریہ، مشرقی جرمنی، یوگوسلاویہ، پولینڈ، رومانیہ، البانیہ، ہنگری اور کیوبا میں کمیونزم فلسفے اور حکومت کی صورت قائم ہوا۔ اسلامی دنیا اور دیگر ممالک میں بھی جماعتوں اور مارکس ازم کے حامیوں کی حکومتیں قائم رہی ہیں۔ کمیونزم کے بنیادی عقائد اور افکار حسب ذیل ہیں:

  1. مادیات پر ایمان اور غیبیات سے انکار۔
  2. انسانی تاریخ کی صرف اور صرف مادے کی بنیادی پر تشریح۔
  3. دین اور دین داری کا خاتمہ اور الحاد و اباحیت کا پھیلاؤ۔
  4. ذاتی املاک کا خاتمہ۔
  5. خاندانی نظام کا خاتمہ۔
  6. اخلاقیات کا خاتمہ اور اس نام سے قائم ان تمام رکاوٹوں کا خاتمہ، جو انسان اور لذتوں کے درمیان حائل ہیں۔

کمیونسٹوں نے دنیا میں سو ملین سے زیادہ افراد کو ہلاک کیا۔ جن میں سے چالیس ملین سے زیادہ صرف مسلمان تھے۔ جو کریمیا، قفقاز، وسطی ایشیاء، مشرقی ترکستان یا موجودہ چین (سنکیانگ)، البانیہ، مصر، عراق، شام، انڈونیشیا، افغانستان اور دیگر ممالک کے باشندے تھے۔ کمیونسٹوں نے دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اپنی جنگ میں درج ذیل پالیسیوں کا استعمال کیا۔

  1. عارضی دورانیے کے لیے اور محض دکھلاوے کے طورپر اسلام کے مقابلے میں نرم مؤقف اختیار کرنا، تاکہ ان کی کمزوری کے مرحلے پر مسلمان ان کے خلاف مشتعل نہ ہو جائیں۔
  2. اسلام کے علماء اور دین دار رہنماؤں کو بدنام کرنا، انہیں استعمار اور صہیونیت ازم کا مزدور قرار دینا۔
  3. اپنے تسلط کے علاقوں میں تمام مراحل کے نصاب میں کمیونزم کے عقائد کو لازمی قرار دینا۔
  4. اسلامی تحریکوں کےقیام میں رکاوٹیں ڈالنا۔ موجودہ اسلام پسندوں کو انتہائی بے رحمی سے ختم کرنا۔ انہیں ہجرت پر مجبور کرنا اور لوگوں کو ان سے متنفر کرنا۔
  5. الحاد کے حامی مصنفین اور مفکرین کو بیان اور اظہار کی تمام آزادیاں مہیا کرنا۔ ان کے ذریعے نئی نسلوں کو تلقین کرنا کہ اسلام اب مزید ماننے یا عمل کرنے کے قابل نہیں رہا۔ یہ کہ مسلمان اب اسلام کے احکام اور عقائد کو تسلیم کرنے کے بجائے اپنی عقل سے کام لیں۔
  6. مسلمان اقوام کے درمیان ہر طرح کے اسلامی تعلق کا خاتمہ۔ اس کی جگہ اقوام کے درمیان کمیونزم کا تعلق مضبوط بنانا۔
  7. مسلمان اکثریتی علاقوں میں مساجد اور دینی مدارس و مراکز کی بندش۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلم معاشرے کے ذہنوں اور دلوں میں کہانیوں، ناولز، ڈرامے، لیکچرز، سیمینارز، کتابوں، جرائد اور دیگر نشریات کے ذریعے عقائد کا بگاڑ پیدا کرنا۔ اسلامی معتمدات کو ختم کرنا۔
  8. سائنس اور اس کے انکشافات کو دین کے مقابلے میں کھڑا کرنا۔ لوگوں کو یہ تلقین کرنا کہ سائنسی دریافتیں، حقائق اور دینی معتمدات خرافات ہیں۔
  9. اسلامی نصوص کو اپنی اصل روح اور معنی سے خالی کرنا اور اس کی جگہ کمیونزم کی روح اور معنی ڈالنا۔
  10. مسلمانوں کو اجتماعی طورپر ختم کرنا اور یا اپنے علاقوں سے طاقت کے زور پر نکال دینا۔ منتشر طورپر ایسے علاقوں میں رہنے پر مجبور کرنام جہاں وہ اپنی دینی اور قومی حیثیت و طاقت سے محروم ہوں۔ تاکہ کچھ عرصہ بعد دیگر اقوام میں جذب ہوکر رہ جائیں۔
  11. دینی علماء کا قتل یا انہیں سخت کاموں میں مصروف کرنا۔
  12. شرعی عدالتوں اور قوانین کا خاتمہ۔ لوگوں کو کمیونسٹ عدالتوں میں جانے پر مجبور کرنا۔
  13. جسمانی تکالیف کے مختلف طریقے آزمانا۔ جیسے سروں میں کیل ٹھونکنا۔ بندوق پر نشانہ صحیح کرنے کے لیے ہدف کے طورپر انسانوں کو رکھنا۔قیدیوں کو موت تک زیرزمین رکھنا۔ برقی آلات کے ذریعے اذیتیں دینا۔ دو مختلف الجہت گاڑیوں سے باندھ کر ان کے جوڑوں کو الگ الگ کرنا۔ ناخن نکالنا۔ جسم کا گوشت نوچنا۔ سخت سردی اور برف باری میں برہنہ رکھنا۔ قیدیوں کے منہ، ناک اور آنکھوں میں کیمیائی مواد ڈالنا اور روحانی اور جسمانی تکالیف سے دوچار کرنا۔

کمیونسٹوں نے خدا، پیغمبر اور دین کو معاشرے کا افیون قرار دیا۔ غیبیات کا انکار کیا۔ کمیونزم کی یہودیت کے علاوہ تمام ادیان سے دشمنی رہی ہے۔ ان کا خیال تھا کہ علماء اور دینی طبقہ اس افیون سے لوگوں کو بے حس بناتا اور اپنے تابع کرتا ہے۔ کمیونزم نے انسان کی پیدائش کے حوالے سے ڈارون کا نظریہ تسلیم کیا تھا۔ جس کے مطابق انسان اللہ تعالی کی مخلوق نہیں، بلکہ وہ روزِ اول میں ایک جرثومے کی شکل میں تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ کیڑے مکوڑوں کی شکل اختیار کر لی اور ساحل پر آگیا۔ اس جرثومے نے بعد میں ایک اور حیوان کی شکل اختیار کر لی۔ اس حیوان نے بعد میں بہت سے مراحل سے گزر کر بندر کی شکل اختیار کر لی۔ بعد میں تکمیل کے مرحل میں پہنچ کر اس نے بندر کی شکل اختیار کر لی۔ بعدازاں چمپینزی کی شکل اختیار کرلی۔ چمپینزی بندروں کی ایک قسم ہے۔ اس کی حرکتیں انسانوں سے ملتی جلتی ہیں۔ بعدازاں اس کی دم اور بال غائب ہوگئے اور ان سے حالیہ زمانے کا انسان بن گیا۔

یورپین فلاسفر چارلس ڈارون کا اس نظریے سے مقصد یہ تھا کہ لوگ خود کو اللہ تعالی کی مخلوق نہ سمجھیں۔ وہ خود کو آدم و حوا کی اولاد نہ سمجھیں۔ حالانکہ تمام ادیان کا یہ متفقہ عقیدہ ہے کہ آدم علیہ السلام اللہ تعالی کی جانب سے پیدا کیے گئے پہلے انسان ہیں۔ اُنہی سے حوا کی تخلیق کی گئی ۔ پھر ان سے انسانوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ ڈاروین کا یہ نظریہ بعد میں کارل مارکس، اینگلز اور لینن کی جانب سے مشہور کر کے اسے عام کیا گیا۔ حیت کہ یہ نظریہ تعلیمی نصابوں کا حصہ بن کر ایک تسلیم شدہ عقیدے کے طورپر اسکول کالج میں پڑھایا جاتا تھا۔ مارکس اور اینگلز کے بعد فراڈرک نیچہ(1844 تا 1900) کے نام سے ایک اور جرمن فلاسفر آئے ۔ انہوں نے تمام ادیان سے انکار کا فلسفہ پیش کر کے یہ نظریہ دیا کہ نعوذباللہ ’الہ‘ مرگئے ہیں۔ اب انسان خود ’الہ‘ ہے۔ اگرچہ نیچہ کی اس بات کا مقصد تب یہ نہیں تھا کہ دنیا اور کائنات کا خالق مرگیا ہے، بلکہ تب ان کا مقصد یورپ کے اُن میٹا فیزیکل(ماوراء الطبعیات) اعتقادات، جنہیں یورپ دین اور الہ کی جانب منسوب کر رہا تھا، پر تنقید کرنا تھا۔ مگر کمیونسٹوں نے ان کے نظریے کا یہ مطلب لیا کہ گویا انسان نے سمندر، پہاڑ اور زمین کی تسخیر کے بعد فضا بھی مسخر کر لی ہے۔ یہ اپنی عقل کی پختگی کی حد تک پہنچ گیا ہے۔ اب انسان کو کیس دوسرے الہ کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ خود مرتبہ الوہیت تک پہنچ چکا ہے۔ جو عقلی کمال کو پہنچ چکا ہو اور خود الہ ہو، اسے کسی پیغمبر کی ضرورت رہتی ہے اور نہ کسی آسمانی کتاب کی ضرورت ہے۔ معاذاللہ

اسی طرح یہ نظریہ بھی پیش کیا کہ انسانوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آنے والا ہے کہ موجودہ زمانے کے انسانوں اور اس زمانے کے انسانوں کے درمیان اتنا فرق ہوگا، جتنا کہ موجودہ دور کے انسان اور کل کے بندر کے درمیان تھا۔ اس طرح کے انسان کو انہوں نے سپرمین Super Man کہا۔ جسے آج مغرب ایک تصور کے طور پر تسلیم کرتا اور اس حوالے سے طرح طرح کی خیالی فلمیں بناتا ہے۔ کمیونسٹ انسانوں کے درمیان تین چیزوں زر،  طاقت اور عورت کو مشترک اشیاء سمجھتے تھے۔ ان کا نظریہ تھا کہ کوئی بھی ذاتی طورپر ان چیزوں کا تنہا مالک نہیں بن سکتا۔ اگرچہ بعد میں کمیونسٹوں نے عملی لحاظ سے ان نظریات میں بہت حد تک ترمیم کر لی۔ کمیونسٹوں نے اس نظریے کی تطبیق کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کے درمیان مساوات لانے کے لیے طبقاتی جنگ کو لازمی قرار دیا۔ مزدور انقلاب کے نام پر معاشرے کے بااثر طبقات، جاگیرداروں، سرمایہ داروں اور روحانی شخصیات کے خلاف جنگ شروع کی گئی۔ ہر جگہ یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ ’دنیا بھر کے مزدورو! ایک ہوجاؤ!‘ وہ چاہتے تھے کہ کمزور اور نچلا طبقہ اٹھے اور قبائلی طاقت ور افراد، ملا اور محراب، قرآن اور پیغمبر اور تمام تر الہی اصولوں کو مٹا ڈالیں۔ پھر اسی مزدور انقلاب کے نام سے مزدوروں کا ایک ایسا نظام قائم ہو جائے، جو ہرچیز پر حاکم ہو۔ ان کی حکومت سب کچھ عوام میں برابر طریقے سے تقسیم کرے۔ اب مزید نہ جاگیر داروں کی جاگیر رہے گی نہ غریب غریب رہے گا۔ یہ لوگ وہ اللہ تعالی کی اس تقسیم کے منکر ہیں:

أَهُمْ يَقْسِمُونَ رَحْمَتَ رَبِّكَ نَحْنُ قَسَمْنَا بَيْنَهُمْ مَعِيشَتَهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَرَفَعْنَا بَعْضَهُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجَاتٍ لِيَتَّخِذَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا سُخْرِيًّا وَرَحْمَتُ رَبِّكَ خَيْرٌ مِمَّا يَجْمَعُونَ۔ (سورة الزخرف: 32)

بھلا کیا یہ لوگ ہیں، جو تمہارے پروردگار کی رحمت تقسیم کریں گے؟ دنیوی زندگی میں ان کی روزی کے زرائع بھی ہم نے ہی ان کے درمیان تقسیم کر رکھے ہیں۔ اور ہم نے ہی ان میں سے ایک کو دوسرے پر درجات میں فوقیت دی ہے، تاکہ وہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں۔ اور تمہارے پرودگار کی رحمت تو اُس (دولت) سے کہیں بہتر ہے، جو یہ جمع کر رہے ہیں۔

کمیونسٹوں کا کہنا تھا کہ تاریخ میں جتنی بھی جنگیں ہوئی ہیں، ان میں حق اور باطل کچھ بھی نہیں تھا۔ سب مادیات کے حصول کے لیے ہوئی ہیں۔ پیغمبروں نے اگر پیغمبری کا دعوی کیا ہے تو وہ بھی صرف اس لیے کہ لوگوں میں اپنی حیثیت اونچی کریں۔ ان کی دولت پر قبضہ کریں۔ اقوام پر اپنی حاکمیت قائم کریں۔ کفر اور اسلام کا موضوع اہم تھا اور نہ حق پرستوں اور باطل پرستوں کا حوالہ، بلکہ سب کچھ مادہ پرستی کی بنا پر سامنے آیا ہے۔ کمیونسٹوں نے تاریخ کی یہ تفسیر اس لیے کی کہ دنیا میں سب سے قیمتی چیز ان کے ہاں مادہ ہے۔ ان کا خیال تھا کہ اس کا ہی تحفظ کیا جائے۔  کمیونسٹوں کے ہاں کوئی چیز حرام نہیں ہے۔ وہ سب کچھ حلال سمجھتے تھے۔ یہ اس لیے کہ حرام کا تصور ان کے ہاں زندگی سے لطف اندوز ہونے کی راہ میں رکاوٹ تھا۔ اسی لیے کمیونزم کو اباحیت کہا جاتا ہے۔ یعنی اس میں سب کچھ مباح ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*