امریکا گزشتہ 17سالوں سے سبق حاصل کرے

آج کی بات

سترہ برس قبل 7 اکتوبر 2001 کو امریکا نے بلا جواز اور بے بنیاد بہانوں کا سہارا لیکر افغانستان پر چڑھائی کی اور افغان عوام کی قومی خودمختاری ، سلامتی اور آزادی کو یرغمال بنایا ، دینی اقدار پر کاری ضرب لگانے اور مظلوم افغان عوام کی نسل کشی ، تشدد اور ظلم کا نیا کھیل شروع کیا اور ہر اس افغان کو دہشت گرد قرار دیکر اس پر حملہ کیا جس نے امریکی غلامی سے انکار کیا ۔

گزشتہ 17 سالوں کے دوران کوئی ایسا دن اور رات نہیں گزرے ہیں کہ جس میں اسلام اور انسانیت کے دشمنوں (قابض امریکی اور اجرتی فورسز) نے مظلوم افغان شہریوں کے قتل عام ،ان پر چھاپوں اور فضائی حملوں سے ایک لمحہ گریز کیا ہو ۔

امریکی ظالموں نے جدید ٹیکنالوجی کے تجام تجربے یہاں مظلوم افغانوں پر کئے ، مادر بموں سے لیکر نیم جوہری ہتھیاروں تک ہر قسم بم برسائے گئے اور ڈرون سے لیکر بی 52 تک ہر قسم طیاروں کا آزادانہ استعمال کیا اور نہتے شہریوں پر شدید وحشیانہ حملے کئے ۔

اعداد وشمار کے مطابق گزشتہ 17 سالوں میں قابض امریکی اور اجرتی فورسز کے فضائی اور ڈرون حملوں ، چھاپوں اور دیگر مظالم کے نتیجے میں 4 لاکھ مظلوم افغان شہری شہید ہوئے ، 10 لاکھ زخمی اور دو ملین لوگ مختلف جیلوں میں زیر حراست اور تشدد کا نشانہ بن گئے اور ظلم و درندگی کا یہ بہیمانہ سلسلہ ہنوز بھی جاری ہے ۔

جارحیت پسندوں نے گزشتہ 17 برس کے دوران سابق امریکی صدر بش کے دور صدارت سے لیکر بارک اوباما کے دونوں ادوار اور موجودہ ٹرمپ کی موجودہ دور حکمرانی تک ہر قسم پر تشدد پالیسی کا ناکام تجربہ کیا لیکن اللہ کے فضل وکرم اور غیور افغان عوام کی بہادری اور شجاعت کے نتیجے میں مغرور امریکا کو شکست سے دوچار کر دیا گیا اور اس کا غرور خاک میں ملایا اور اس کے مقابلے میں مقدس جہاد کو جاری رکھا ، مجاہدین کے حوصلے نہایت بلند ہیں جبکہ دشمن کا مورال دن بدن کمزور ہوتا جارہا ہے ۔

برعکس اللہ تعالی نے مجاہدین کی تلوار اور ہمت کو اتنی استقامت بخشی کہ بش بھی اس حسرت اور الفاظ ادا کرنے کے ساتھ مسند اقتدار سے الگ ہوکر وائٹ ہاؤس سے باہر نکلے کہ ہم نے افغانستان پر یلغار کی اور طالبان کے نظام کا خاتمہ کیا مگر امریکی فوجیوں نے وہاں سکھ کا سانس نہیں لیا اور ہر روز متعدد امریکی فوجی افغانستان میں ہلاک اور زخمی ہوتے ہیں ۔

باراک اوباما نے پینٹاگون میں امریکی کمانڈروں سے اپنی آخری تقریر میں اعتراف کیا کہ امریکا اپنی بھرپور طاقت اور جبر کے باوجود طالبان کو شکست دینے یا کمزور کرنے میں ناکام رہا ۔

ٹرمپ نے اگرچہ افغان عوام کے قتل عام کے لئے مہلک منصوبہ اور وحشیانہ پالیسی کا اعلان اور شروع کیا مگر اللہ کے فضل وکرم سے اس کا غرور بھی مجاہدین کی تلوار کی بدولت خاک میں ملایا اور بہت جلد سیاسی عمل کے ذریعے اپنی ناکامی اور تاریخی شکست کو چھپانے کے لئے مفاہمت کا اعلان کیا ۔

امارت اسلامیہ 7 اکتوبر کو افغانستان پر امریکی حملے اور جارحیت کے نتیجے میں مشکلات، مسائل اور تباہی سے بھرپور دن قرار دیتا ہے اور یہ دن جارحیت پسندوں اور کٹھ پتلی حکمرانوں کے لئے شرمناک ہے ، وہ دن قریب ہے کہ افغان عوام انگریز استعمار اور سوویت یونین کی شکست کی طرح امریکی طاغوت سے ملک کی آزادی کی خوشخبری سنیں گے اور ریاستی خودمختاری کا جشن منائیں گے ۔

وماذالک علی اللہ بعزیز

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*