آپریشن الخندق کے ایک دن کی کارروائیوں کی مثالیں

آج کی بات

 

آپریشن الخندق کے اعلان کے ساتھ ہی ملک بھر میں فاتحانہ کارروائیوں کا آغاز ہوا ہے۔ قابض اور کٹھ پتلی فورسز پر ہلاکت خیز حملے شروع ہیں۔ متعدد اضلاع، وسیع علاقوں اور سیکڑوں چوکیاں فتح ہو چکی ہیں۔ مفتوحہ علاقوں میں مکمل امن قائم ہے۔ وہاں کے لوگ کابل انتظامیہ کے ظلم سے محفوظ ہیں۔ چوری، قتل عام، کرپشن اور دیگر جرائم کا خاتمہ ہوا ہے۔ لوگوں نے طویل عرصے بعد سفید پرچم تلے سکھ کا سانس لیا ہے۔

الخندق آپریشن پورے ملک میں آب و تاب سے جاری ہے۔ ہر روز مختلف علاقوں سے دشمن کو پسپا کیا جا ریا ہے۔ دشمن کے حوصلے پست ہوگئے ہیں۔ قابض فوج کی حمایت کے باوجود اجرتی فوج پسپا ہو رہی ہے۔ امارت اسلامیہ کے مجاہدین نہایت بلند مورال کے ساتھ دین اور وطن کے دفاع کے لیے جہاد کر رہے ہیں۔ دشمن کے ظلم و سربریت کے باوجود مجاہدین کی اقدامی کارروائیاں جاری ہیں۔ اللہ تعالی کی مدد سے اندازے سے بڑھ کر فتوحات حاصل ہو رہی ہیں۔

الخندق آپریشن کے سلسلے میں صوبہ میدان وردگ کے ضلع سیدآباد مجاہدین نے فتح کر لیا ہے۔ اس فاتحانہ کارروائی میں ضلعی ہیڈکوارٹر، پولیس اسٹیشن اور اردگرد دفاعی چوکیوں پر مجاہدین نے اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔ اس آپریشن میں پولیس چیف سید نضراب شاہ، کمانڈر عباس، لیویز کمانڈر شمسو اور سیفو سمیت درجنوں اہل کار ہلاک ہوئے ہیں۔ جب کہ 60 عدد ہتھیار، ایک توپ، ایک ہیوی مشین گن، چار ٹینک، چار فوجی گاڑیاں اور تین کانٹینر گولہ بارود غنیمت میں حاصل ہوئے ہیں۔

اسی طرح غزنی کے ضلع قرہ باغ میں کابل قندہار مرکزی شاہراہ اور شلگر میں پکتیکا  غزنی مرکزی شاہراہ بھی مکمل طور پر بلاک کر دی گئی ہے۔

قندھار کے ضلع ارغستان میں دو چوکیاں فتح، تین کمانڈروں سمیت 20 فوجی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

بغلان کے ضلع پلخمری میں مجاہدین نے ایک چوکی پر چھاپہ مارا۔ 6 اہل کاروں کو ہلاک کر کے ہتھیار ضبط کر لیے گئے ہیں۔

ہلمند کے ضلع مارجہ میں 4 روز سے جاری لڑائی میں دشمن کے 10 ٹینک اور دو فوجی گاڑیاں تباہ، جب کہ 19 اہل کار ہلاک ہوئے ہیں۔

صوبہ ہرات میں گذرہ فوجی بیس کو مجاہدین نے فتح کر کے 16 اہل کاروں کو ہلاک اور بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا ہے۔

غزنی کے دارالحکومت میں دو ٹینک تباہ اور 8 فوجی ہلاک ہوئے۔

غزنی کے ضلع دہ یک میں ایک فوجی بیس فتح، 3 ٹینک، دو گاڑیاں تباہ اور متعدد اہل کار ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

فاریاب کے ضلع پشتون کوٹ میں مجاہدین کی کارروائی میں ایک چوکی فتح، 12 پولیس اہل کار ہلاک اور بھاری مقدار مئں اسلحہ ضبط ہوا ہے۔

قابض دشمن اور اجرتی فورسز کو چاہیے وہ ہاتھ پاؤں مارنے سے گریز کرے۔ امارت اسلامیہ کی قیادت میں افغان عوام کی مزاحمت کے سامنے سر جھکا لے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ ان کے حالات خراب ہو رہے ہیں۔ ہوش کے ناخن لیں۔ حماقت اور غرور کا راستہ چھوڑ دیں۔ زمینی حقائق کو تسلیم کریں۔ ملک پر ناجائز قبضہ ختم کریں۔ بصورت دیگر چانس ضائع کرنے کے بعد پچھتاوے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔

 

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*