یوناما کی رپورٹ کے حوالے سے ترجمان کا ردعمل

کابل میں اقوام متحدہ کے ادارے یوناما نے 10/اکتوبر کو ایک رپورٹ شائع کی،جس سے معلوم ہورہا ہے کہ گذشتہ 9 مہینوں میں  شہری نقصانات میں بہت اضافہ ہوا ہے اور رپورٹ  میں سویلین نقصانات کی اکثریت مجاہدین کا الزام مجاہدین پر  ڈالا گیا ہے۔

ہم یوناما کے اس اندھے فیصلے کی پر زور الفاظ میں تردید  کرتے ہیں ،اب ہر افغان شہری کو ثابت ہوا ہے کہ ملک میں قصدی قتل عام، دیہات  اور گھروں کی تباہی کا سب سے بڑے عامل امریکی غاصب اور کابل کٹھ پتلی انتظامیہ کے فوجی ہیں۔

دوسرے درجے میں شہری نقصانات کے عاملین داعش نامی فتنہ گر ہے، جو امریکہ اور کابل انتظامیہ کے خفیہ ادارے کی جانب سے سپورٹ ہورہا ہے۔

یوناما کو چاہیے کہ ایک عالمی بااعتماد ادارے کےطور پر اپنی رپورٹوں میں حقائق کو ثابت کریں، اقوام متحدہ انسانی زندگی کی اہمیت کو سمجھتی ہے ،اس لیے سویلین افراد کی قتل وغیرہ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں۔

یہ کہ بڑے امریکی جرائم، وحشت ناک بمباری، ظالمانہ چھاپے اور بھاری ہتھیاروں کے بےدریغ استعمال سے روزانہ درجنوں افغان خواتین، بچے ،بوڑھے اور نوجوان ان کے گھروں وغیرہ میں شہید ہورہے ہیں، یہ اظہرمن الشمس ہے۔

اتنی زیادہ عمدی قتل عام کے باوجود شہریوں کی نقصانات کی اکثریت کو مجاہدین کی جانب منسوب کرنا بے دلیل پروپیگنڈہ ہے،اس طرح یوناما چاہتی ہےکہ امریکی جرائم کو جواز  ڈھونڈنے،ان پر چشم پوشی کرنے اور عوام کے آنکھوں میں خاک پاشی کریں۔

گذشتہ 9 مہینوں کے دوران امریکہ اور کابل انتظامیہ کے سپیشل فورس اہلکاروں کی جانب سے درجنوں گاؤں، مساجد، صحت کے مراکز، اسکول، مدارس، بازار، مارکیٹیں، فصلیں اور حتی عوام کے مال مویشی تلف ہوئے ہیں، عوام کو بھاری جانی نقصانات کا سامنا ہوا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔

غیرمقصدقہ رپورٹوں کی اشاعت اور یک طرفہ فیصلہ بذات خود جرائم پیشہ افراد اور شہریوں  کی نقصانات کے مجرموں کو قتل عام کی جرائت دیتا ہے اورگویا براہ راست شہریوں کے قتل میں تعاون کررہا ہے۔

ذبیح اللہ مجاہد ترجمان امارت اسلامیہ

یکم صفرالمظفر 1440 بمطابق 10/ اکتوبر 2018 ء

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*