امیدوار کس لیے خود کے دشمن بنے ہیں؟

آج کی بات

 

کہا جاتا ہے کہ کابل انتظامیہ نے 20 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ مختلف علاقوں میں کچھ لوگ انتخابی میدان میں اتر گئے ہیں۔ کابل انتظامیہ نے نامزد امیدواروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ جب سے یہ سلسلہ شروع ہوا ہے، کابل انتظامیہ کے باہمی اختلافات بھی شدت اختیار کر گئے ہیں۔ دنیا میں انتخابات کے بعد بحران پیدا ہوتا ہے۔ جب کہ کابل انتظامیہ نے انتخابات سے پہلے اختلافات کا بازار گرم کر دیا ہے۔ اگر امریکی سفارت خانے کا کنٹرول اور نگرانی نہ ہو تو یقینا خونی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ جعلی انتخابات کا اعلان 7 ماہ قبل ایوان صدر سے ہوا اور اشرف غنی نے رجسٹریشن کا افتتاح کیا۔ طالبان سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ انتخابات میں بھرپور حصہ لیں۔ طالبان نے انتخابات کے ڈھونگ کو مسترد کرتے ہوئے اعلامیہ جاری کیا کہ امارت اسلامیہ کی پہلی ترجیح ملک کی آزادی ہے۔ دیگر حقوق کی طرح سیاسی قیادت کے انتخاب کا غصب شدہ حق بھی واپس لانا ہے۔

ہزاروں قابض فوجیوں کی موجودگی میں انتخابات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔ فوجی اور سیاسی معاملات میں اہم فیصلے حملہ آوروں کی طرف سے کیے جاتے ہیں۔ اقتدار اس شخص کے سپرد کیا جائے گا، جس کا انتخاب پہلے سے وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون نے کر رکھا ہے۔

اس حوالے سے مسلمان اور مجاہد عوام کو چاہیے وہ انتخابات کے ڈھونگ سے دور رہیں۔ ان میں شرکت کے بجائے بائیکاٹ کریں۔ آزادی کے لیے اپنا دینی اور قومی فریضہ ادا کریں۔ امارت اسلامیہ کے اعلامیہ نے قوم کو یہ پیغام دیا ہے کہ جارحیت پسندوں کے اوچھے ہتھکنڈوں سے بچیں۔ ہم نے سابقہ ادوار میں مشاہدہ کیا ہے کہ قابض استعماری قوتوں نے پارلیمنٹ کو ربڑ کی ناک کے طور پر استعمال کیا ہے۔ جس طرح کٹھ پتلی حکمرانوں کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کابل سمیت جن علاقوں میں حملہ آوروں کا قبضہ ہے، وہاں شہریوں کی عدم دل چسپی نے ڈھونگ انتخابات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تاہم زرخرید میڈیا نے دن رات ایک کر کے یہ پروپیگنڈا شروع کر رکھا ہے کہ ملک بھر میں انتخابات کی تیاریاں جوش وخروش سے جاری ہیں۔

بدقسمتی سے کچھ بے ضمیر افراد نے انتخابات لڑنے کا اعلان کیا ہے اور ان جعلی انتخابات کے ذریعے پارلیمنٹ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ جب کہ مجاہدین نے پہلے ہی سے انہیں متنبہ کیا ہے کہ ان انتخابات کا مقصد امریکی قبضے کو طول دینے کے سوا کچھ نہیں۔ آخری بار امارت اسلامیہ کے اعلامیے نے عوام کو پیغام دیا ہے کہ نمائشی انتخابات کا یہ سلسلہ براہ راست قابض قوتوں کی نگرانی میں شروع ہے۔ جیسا کہ امریکی سفیر نے بھی اعتراف کیا کہ ہمارا بیس رکنی وفد انتخابات کی نگرانی کر رہا ہے۔ لہذا نامزد امیدواروں کو چاہیے کہ وہ جارحیت پسندوں کی دھوکہ دہی اور فریب سے خود کو دور رکھیں۔ بصورت دیگر سنگین نتائج کے لیے تیار رہیں۔

اس خبرداری کے باوجود کچھ نامزد امیدوار ملک اور قوم کے ساتھ خیانت کر رہے ہیں۔ وہ خود کو ہلاکت کے منہ میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔ وہ قوم کے خلاف قابض قوتوں کے شیطانی منصوبے کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ ہم نہیں سمجھتے کہ وہ آخر کس کے لیے اور کس مقصد کے لیے خود کو طالبان کی گولیوں کی زد میں لا رہے ہیں؟!

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*