امریکی فوج کا انخلا یقینی بنایا جائے

آج کی بات

 

امریکی سینیٹر ’روبین گالیگو‘ نے کہا ہے کہ ’وہ وقت آ گیا ہے کہ امریکی حکام افغانستان میں اپنی پیچیدہ پالیسی اور حکمت عملی تبدیل کریں۔ جنگ کا خاتمہ کریں اور بلاتاخیر امریکی فوج کا انخلا یقینی بنائیں۔‘ ملٹری ٹائمز رپورٹ کے مطابق روبن گالیگو نے کہا کہ امریکی فوج ذمہ داری کے ساتھ اور بلا رکاوٹ واپسی شروع کرے۔ ان کے مطابق افغانستان میں جاری جنگ امریکا کے قومی مفادات کے خلاف ہے۔ اگر ٹرمپ کو اپنے فوجیوں پر رحم اور ترس آتا ہے اور ان کے ساتھ ہمدردی ہے تو جلد از جلد ان کا انخلا یقینی بنانے کی کوشش کریں۔ امریکی عوام افغانستان میں اپنے فوجیوں کی مزید ہلاکتوں اور جنازوں کو دیکھنے کے متحمل نہیں ہو سکتے ہیں۔

بلا شبہ ایسے تاثرات اور خیالات اب صرف ایک امریکی سینیٹر کے نہیں ہیں، بلکہ ہر امریکی سیاست دان اور امریکی کانگریس کے بیشتر ارکان اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ افغانستان میں جنگ کے مثبت نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ یہ بلاجواز اور غیرمفید جنگ ہے، جس کی کامیابی کے امکانات بالکل معدوم ہیں۔ 7 اکتوبر 2001 سے اب تک تین امریکی صدور بش، اوباما اور ٹرمپ نے اپنے اپنے اقتدار میں ہر قسم کے ظلم و دہشت کی پالیسی وضع کی اور تقریبا دو ٹریلین ڈالر اس جنگ میں ضائع کیے۔ تینوں اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے مقصد میں ناکام رہے۔ ان کی جنگ جیتنے کی خواہش پوری نہیں ہوئی۔

امارت اسلامیہ نے اللہ کی مدد اور عوام کی حمایت سے گزشتہ 17 برس کے دوران امریکا اور 49 ممالک کے ساتھ تاریخی مقابلہ کیا۔ اللہ کے فضل سے اب اس ملک کے 70 فیصد سے زائد رقبے پر امارت کا کنٹرول ہے۔ امارت اسلامیہ سیاسی اور بین الاقوامی میدان میں پابندیوں اور دباؤ کے باوجود اپنی موجودگی کی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ اسی طرح نہایت بہترین حکمت عملی کے ساتھ داعشی فتنے کا سدباب کیا گیا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ امارت اسلامیہ نے بصیرت اور تدبر کی بدولت استعماری قوتوں کی ان سازشوں کو ناکام بنایا، جو مجاہدین کی صفوں میں اختلافات اور دراڑ پیدا کرنے کے لیے کی جا  رہی تھیں۔

ان تمام فتوحات اور کامیابیوں کو دیکھتے ہوئے امارت اسلامیہ اب ناقابل تسخیر قوت بن چکی ہے۔ اس کی پوزیشن اتنی مضبوط ہے کہ وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کے حکام دھمگی دینے کے بجائے مذاکرات کی میز پر آگئے ہیں۔ ان کی متکبرانہ سوچ اور مؤقف میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ یہی وجہ ہے حالیہ دنوں مشہور امریکی سفارت کاروں نے امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے ساتھ رابطہ کیا اور وہاں براہ راست مذاکرات کیے۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ افغان تنازع کا حل سیاسی ہے، فوجی نہیں ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*