امارت اسلامیہ کی سنجیدہ پالیسی

آج کی بات

 

گزشتہ جمعہ کے روز امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے رہنماؤں اور افغانستان کے لیے امریکی خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد کے درمیان ملاقات ہوئی۔ امارت اسلامیہ کی چھ رکنی مذاکراتی ٹیم کی قیادت سیاسی دفتر کے سربراہ محترم عباس ستانکزئی صاحب کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آئندہ بھی مذاکرات کا سلسلہ جاری رہے گا۔ تاکہ افغان تنازع کے لیے سیاسی حل تلاش سامنے آ سکے۔ امارت اسلامیہ کے وفد نے مخالف فریق پر واضح کیا کہ افغانستان میں جاری جنگ اور بحران کی بنیادی وجہ غیرملکی فوجی موجودگی ہے۔ افغانستان میں قابض فوج کی وجہ سے بدامنی اور انارکی میں اضافہ ہوا ہے۔ لہذا جب تک امریکی فوجی ہمارے ملک سے مکمل انخلا نہیں کرتی، تب تبک امن قائم نہیں ہو سکتا۔

امارت اسلامیہ نے متعدد بار واضح کیا ہے کہ اس وقت تک مزاحمت جاری رہے گی۔ جب تک قابض فوج مکمل انخلا نہ کرے۔ کیوں کہ یہ ہر قوم کا بنیادی حق ہے کہ وہ آزادی حاصل کرے۔ اپنے مستقبل کا تعین خود کرے اور دینی اقدار اور قومی مفاد کی بنیاد پر نظام قائم کرے۔

امارت اسلامیہ نے کسی ملک، قوم یا حکومت پر حملہ نہیں کیا ہے۔ دوسروں سے بھی یہی توقع ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہمارے ملک کو نشانہ نہ بنائیں۔ ہماری قوم کے انسانی اور بین الاقوامی حقوق کا خیال رکھیں۔ باہمی تعلقات اور احترام پر استوار سیاسی، تجارتی اور اخلاقی معاملات کو فروغ دیں۔ امارت اسلامیہ ریاستی خودمختاری اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ہر محاذ پر جدوجہد کر رہی ہے۔ وہ مسلح جہاد کے ساتھ سیاسی جدوجہد پر بھی یقین رکھتی ہے۔ امارت اسلامیہ کے سیاسی دفتر کے رہنماؤں نے امریکی خصوصی نمائندے سے کہا کہ وہ جنگ اور تشدد کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے یہ مسئلہ حل کریں۔ لیکن یہ امریکا کی بدقسمتی ہے کہ  وہ پرامن حل کے بجائے جنگ اور تشدد کو ترجیح دیتا ہے۔

ہم ایک بار پھر حملہ آوروں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک سے فوری طور انخلا کریں۔ جنگ سے گریز کریں۔ افغان عوام پر ظلم و ستم کا سلسلہ روک دیں۔ ان کے گھروں کو مسمار کرنے سے اجتناب کریں۔ ہم نے امریکا اور یورپ پر حملہ نہیں کیا۔ پھر ہمارے ملک پر کیوں ناجائز قبضہ برقرار رکھا ہے؟ یہاں کشت و خون کا بازار کیوں گرم کر رکھا ہے۔

امریکہ کو چاہیے وہ گزشتہ 17 برس کی طویل جنگ سے سبق حاصل کرے۔ امارت اسلامیہ کے جائز مطالبات تسلیم کرے۔ ضد اور سیاسی حماقت کو جاری رکھنے سے گریز کرے۔ بصورت دیگر اس کے جانی نقصانات میں مزید بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ اس کے منہ پر بھاری اقتصادی طمانچہ پڑے گا اور آخر اس کا نتیجہ دیگر استعماری قوتوں کی طرح ہمارے ملک سے راہ فرار اختیار کرنا ہوگا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*